ہوم   >  بلاگز

اصلاحات کی سنی سنائی باتیں

1 week ago

تحریر: سلیم شہزاد

 

ملک خداداد کو دنیا کے نقشے پر آئے 72برس ہوگئے ہیں۔تاریخ اور سیاست کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے جو پڑھا،جو سنا اور جو دیکھا،قائد اعظم کی جلد رحلت اور کمزور سیکنڈلائن قیادت کے باعث ملک قیام کے بعد سے ہی کئی قوتوں کا آسان ہدف بن گیا۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک یہ ملک کسی نہ کسی بھنور میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے۔ کبھی اندرونی خلفشار، کبھی بیرونی سازشوں کے جال اور کبھی اپنوں کی نادانیاں جس نے اس ملک کو دولخت کردیا۔

اس ملک کا سب سے بڑامسئلہ کسی نے اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیا، کسی نے ملک کے انتخابی نظام کو اورکسی نے بار بار آمریت کو ملکی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قراردیا۔ ذرا اس ملک کے نظام اور آئین پر نظر دوڑائی جائے تو اس عمرلگ بھگ دو صدیاں پرانا ہے جو اس وقت دنیا میں متروک ہوچکا ہے۔ جمہوریت اور1973ءکے متفقہ آئین کی بات کرنے والوں کو یہ علم ہونا چاہیے کہ دودرجن سے زائد ترامیم کے بعد وہ متفقہ آئین اپنی اصل شکل کھو چکا ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ اس آئین کی شکل مسخ ہوچکی ہے۔

ہر دور اور ہرحکومت نے اپنی ضروریات کے مطابق آئین کو ڈھالاجس سے متفقہ آئین کی شکل خوفناک ہوچکی ہے۔ متفقہ آئین کےبھاشن دینے والےاس آئین کےابتدائی تین درجن سے زائد آرٹیکلز کی عملا معطلی پر کبھی بات نہیں کرتے۔ ملکی دستور کے ان معطل آرٹیکلز کی کوئی بات نہیں کرتا کیوں کہ وہ آرٹیکلز براہ راست عوام کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں آئین پر کوئی عملدرآمد نہ ہورہا۔عملداری نہ ہونے سے امیر اور غریب، طاقتور اور کمزورمیں واضح تفریق موجود ہے۔ اس مردہ نظام میں طاقتور کو سزا دینے کی سکت نہیں۔ یہ نظام امیر کے حقوق کی مکمل حفاظت کرتا ہے اور کمزورکو انجام بد سے دوچار کرتا ہے۔

اس کی مثالیں ماضی سے دینے کے بجائےحال ہی میں ہونے والے سانحات ہیں جن میں سانحہ ماڈل ٹاؤن،سانحہ ساہیوال اورذہنی معذورشخص صلاح الدین کاواقعہ ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ہرثبوت موجود ہونے،ملزمان کی نشاندہی کئے جانے،عدالتی کمیشن کےرپورٹ آنے کےباوجود بھی کسی ایک ملزم کوسزاتک نہیں مل سکی۔ کیا کسی مہذب معاشرےیا انسانوں کےمعاشرے میں لوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئی ہوں جن میں 14 جاں بحق ہوئے ہوں جن میں حاملہ خواتین بھی شامل ہوں۔ متاثرین کو5 سال تک انصاف نہیں مل سکا۔ سزا اس لئے نہیں ملی کہ ںظام طاقتورکو سزانہیں دےسکتا۔۔سانحہ ساہیوال میں بھی پولیس کےطاقتورلوگ ملوث تھےجن کوسزاکے بجائےاس ملک کےاپاہچ قانون نے باعزت بری کردیا۔ صلاح الدین کے والد کو اس نظام نے قاتلوں کو معاف کرنے پر مجبورکردیا۔ ایسے واقعات دنیا کے کسی اور معاشرے میں ہوتے توآج ملزمان نشان عبرت بن جاتے۔سانحہ کرائسٹ چرچ اس کی ایک مثال ہے جہاں اسلحہ رکھنےکےمتعلق ملکی قوانین کو چند روزمیں تبدیل کردیا گیا۔آزادی مارچ دھرنےمیں اصلاحات کی بات کی جارہی ہے جو کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کررہے ہیں۔ الیکشن سے قبل عمران خان صاحب بھی اصلاحات کی بات کررہے تھےلیکن کم وبیش ڈیڑھ سال کے دوران اصلاحات نام کی کوئی چیزنظرنہیں آرہی۔

نظام میں اصلاحات کی بات سے سے پہلے2012میں مینارپاکستان کے جلسے میں ڈاکٹرطاہرالقادری نامی ایک'” پاکستانی نژاد”‘غیرملکی نےکی تھی جسےاس ںظام سے مستفید ہونے والےعناصربشمول سیاستدان، میڈیا اور نام نہاد دانشوروں نے غیرملکی ایجنٹ اورغیرملکی ایجنڈا کہا تھا۔انہیں ان اصلاحات کیلئےدومرتبہ ہزاروں کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ کیا۔اپنے کارکنوں کی جانی اورمالی قربانی دی لیکن ناکامی سے دوچارہوئے کیونکہ اس نظام کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں ان کےساتھ چلنے والے کم اوراس نظام کےحامی زیادہ نظرآئے۔ کم وبیش 7سال بعد وہی باتیں اب فضل الرحمٰن صاحب کررہے ہیں کہ اصلاحات ہونی چاہیے۔ موقع توشاید کہ کب ضائع ہوچکا ہے اور ہمیں اس حوالےسےکوئی زیادہ امیدیں نہیں اور اس حکومت میں بھی ان اصلاحات کی سکت نہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں