ہوم   >  بلاگز

تیزگام حادثے کا قصوروار کون؟ عوام یا حکام؟

2 weeks ago

سانحہ لیاقت پور میں تیزگام ایکسپریس کی 3 بوگیوں میں لگنے والی آگ کے باعث 70 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ تقریباً 40 مسافر زخمی ہوگئے۔ جمعرات 31 اکتوبر کی صبح پیش آنے والا یہ حادثہ ٹرین حادثات میں اپنی نوعیت کا ایک المناک حادثہ تھا جس نے کئی گھروں کے چراغ گل کر دیے۔ آگ کی شدت نے لاشوں کو بھی اس قابل نہیں چھوڑا کہ ان کی شناخت کی جا سکے اور لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے۔ آگ مبینہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی جب کہ ریلوے حکام کی انکوائری رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی وجہ گیس سلنڈرز تھے جو مسافر اپنے ہمراہ لے جا رہے تھے جنہیں ناشتے کی غرض سے جلایا گیا جس کے باعث آگ پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ غفلت عوام کی تھی یا حکام کی لیکن اسکے باعث کئی افراد جان سے گئے۔ مگر المیہ تو یہ ہے کہ ایسے حادثات کے بعد بھی جہاں ہمارے ادارے خواب خرگوش کے مزے لیتے رہتے ہیں وہیں عوام بھی وہی غلطیاں دہراتے ہیں جو ایسے بڑے حادثات کا سبب بنتی ہیں۔

ریلوے انتظامیہ نے سانحہ تیزگام کے بعد ٹرینوں میں گیس سلنڈر یا کسی بھی قسم کا آتش گیر مادہ لے جانے پر پابندی عائد تو کر دی مگر ابھی بھی سیکیورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث ٹرینوں میں ایسا سامان لے جایا جا رہا ہے جس کے باعث کوئی بھی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ راولپنڈی سے کراچی جانے والی ہزارہ ایکسپریس کی بوگی نمبر 2 میں موجود مسافروں کے پاس بھی متعدد گیس سلنڈر پائے گئے جوکہ ریلوے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ کیا آتش گیر مادہ ساتھ لے جانے پر پابندی کا اعلان ہی کافی تھا؟َ؟؟ یا انتظامیہ کو اس حوالے سے واقعی متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ مسافروں کے سامان کی چیکنگ میں پھر سے وہی غفلت برتی جا رہی ہے جس کے باعث مسافر موت کا سامان ساتھ لیے پھر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہمارے عوام اتنے نڈر، بےوقوف یا بےحِس ہیں جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی جانوں کی پرواہ کیے بغیر اتنے المناک حادثے کے محض چند روز بعد ہی دورانِ سفر سلنڈر ساتھ لیے پھر رہے ہیں۔ جہاں عوام کی سہولیات اور حفاظت کےلیے اداروں پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہیں عوام کو بھی اپنی جانوں کی حفاظت کےلیے عقل و شعور کا استعمال کرنا چاہیئے۔

سانحہ احمد پور شرقیہ بھی اسی طرح قیامت صغریٰ کا منظر پیش کرتا ایک ایسا واقعہ تھا جس میں بہاولپور نیشنل ہائی وے پر الٹ جانے والے آئل ٹینکر سے تیل بہتا رہا۔ انتظامیہ کی جانب سے بروقت امدادی کارروائیاں شروع کی گئی اور نہ ہی علاقے کو سیل کیا گیا۔ مقامی آبادی کے لوگوں نے حرص اور لالچ کے چکر میں تیل کو برتنوں میں بھر بھر کر لے جانے کی کوشش کی اور اسی دوران خوفناک آگ بھڑکنے کے باعث سیکڑوں جانیں لقمہ اجل بن گئیں۔

حکومتی ادارے جو حادثات کی روک تھام کےلیے کوئی خاطر خواہ اقدامات کرتے نظر نہیں آتے ایسے حادثات کے بعد مرنے والوں اور زخمیوں کےلیے امدادی رقم کا اعلان کرکے نقصان کا ازالہ کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں جب کہ ناقابل تلافی نقصانات کی وجوہات پر غور کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے آئندہ قیمتی جانیں محفوظ ہو سکیں اور ناصرف حکام بلکہ عوام کو بھی ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناتے دوسرے شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنانے اور اداروں کی بہتری کےلیے بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
Tezgam Express accident, Pakistan Railway, Rahim Yar Khan, train burn, Karachi-Rawalpindi, Samaa blogs
 
مقبول خبریں