ہوم   >  بلاگز

زمین کا حق ادا کرو

2 weeks ago

فوٹو: آن لائن

تحریر: نِدا ڈھلوں 

زمین کا ہم سب پر بہت احسان ہے کیونکہ یہ ہمیں پناہ دیتی ہے۔ حالانکہ جو کچھ ہم اس کے ساتھ کر رہے ہیں اگر یہ انتقام لینے پر اُتر آئی تو نہ جانے ہم انسانوں کا کیا حشر ہو۔ دوسرے الفاظ میں ہم اپنی زمین کا حق ادا کر نے میں بُری طرح ناکام ہو ر ہے ہیں۔ ’’موسمیاتی تبدیلی‘‘ کی بدلتی ہوئی صورت حال سے پوری دنیا آگاہ ہوچکی ہے لیکن ہمارے تو کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ حالیہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان سمیت پوری دنیا کے رہنماوں نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بات کی۔

دنیا آنے والے خطرات سے آگاہ ہوچکی ہے اس لیے تو 20 ستمبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ’’گلوبل وارمنگ‘‘ روکنے سے متعلق فوری اقدامات کےلیے ’’کلائمنٹ ایکشن ناو‘‘ کے زیرِ انتظام مارچ کیے گئے۔ اس مہم میں دنیا بھر کے نوجوانوں نے سیاست دانوں اور تجارت سے وابستہ افراد کو گلوبل وارمنگ کو روکنے کےلیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح اسلام ماحو لیات کے متعلق کیا کہتا ہے دنیا کو یہ بتانے کےلیے حال ہی میں انڈونیشا کے دارالحکومت جکارتہ میں ’’ایکو اسلام نامی انٹرنیشنل کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس کا مقصد تحفظ ماحول سے متعلق اسلامی تعلیمات کو اجاگر کرنا تھا۔ پاکستان میں ماحولیاتی امور چلانے اور ماحولیاتی اثرات کے تجزیہ کا کام ماحولیاتی ایکٹ 1997 کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جن کی ماحولیات سے متعلق ایک الگ وزارت ہے۔ ہماری موسمیاتی تبدیلی کی وزیر زرتاج گل صاحبہ خود اس بات کا اعتراف کر چکی ہیں کہ موسیماتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں 4 مو سم ختم ہو رہے ہیں اور ہم حکومتی سطح پر بہترین انتطامات کرنے میں بُری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ غیر ملکی طِبی جر یدے لانیسٹ کے مطابق پاکستان میں 22 فیصد اموات کا سبب فضائی آلودگی اور اس سے جڑے امراض ہیں۔ انسانی حقوق کےلیے کام کرنے والے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب لوگوں کو فضائی آلودگی سے بچانے میں ناکام ہو رہی ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمر ے میں آتا ہے۔

لاہور میں امریکی قونصل خانے کے نصب کردہ ائیر کوالٹی مانیٹرز اور پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹیو سمیت دیگر آزاد  ذرائع کی جانب سے جمع کردہ معلومات کے مطابق صوبہ پنجاب میں سال کے زیادہ تر مہینوں میں ہوا کا معیار صحت کے لیے خطرہ بنا رہتا ہے جب کہ اکتوبر سے جنوری تک جاری رہنے والے اسموگ سیزن کے دوران یہ معیار انتہائی مضر صحت ہو جاتا ہے۔ عام طور پر سموگ کے باعث آنکھوں، ناک اور گلے میں جلن کی شکایت کی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ سانس کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کےلیے بھی انتہائی مضر سمجھی جاتی ہے۔ اسموگ بننے کے کچھ ذرائع میں ایندھن کا ناقص نظام، زہریلے دھویں کا اخراج اور فصلوں کی باقیات جلانا وغیرہ شامل ہیں۔

مئی 2018 میں عدالت نے ایک اسموگ کمیشن مقرر کیا تھا جس نے متعدد سفارشات پیش کیں تھیں۔ ان میں فوری طور پر پنجاب میں کلین ائیر ایکشن پلان پر عمل درآمد اور ضلع کی سطح پر اسموگ رسپانس ڈیسک قائم کرنا اور اینٹوں کے بھٹے سے نکلنے والے آلودہ دھویں کے اخراج کو کم کرنا شا مل تھا۔ تاہم ان سفارشات پر عمل درآمد ایک حد سے آگے نہ بڑھ سکا۔ یہ صورت حال اُس وقت مزید گھمبیر ہوئی جب یکم نومبر 2019 کو لاہور میں فضائی آلودگی کا انڈیکس بدترین معیار کی فضا کی حد (اے کیو آئی) 550 سے تجاوز کر گیا۔

یاد رہے کہ فضائی آلوگی کے انڈیکس میں بدترین معیار کی فضا کی حد 250 سے 300 ہے۔ سیکٹورل امیشن انوینٹری فار پنجاب کے مطابق فضائی آلودگی کا سب سے بڑا اخراج ٹرانسپورٹ سیکٹر سے ہوتا ہے۔ اس لیے ٹرانسپورٹ سے 45 فیصد، انڈسٹری 25 فیصد اور زراعت سے 20 فیصد آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ فضائی آلودگی کے بعد اس وقت درجہ حرارت میں اضافہ ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہے اور اسکی بڑی وجہ کاربن ڈائی اکسائیڈ کا اخراج ہے۔ اگر کاربن ڈائی اکسائیڈ کے اخراج  کو روکا نہ گیا تو آنے والے سالوں میں درجہ حرارت مزید بڑھنے کا خطرہ ہے۔ درجہ حرارت کے مزید بڑھنے سے جن واقعات میں اضافہ ہوگا ان میں گلیشیرز کا پگھلنا، سطح سمندر میں اضافہ، سیلاب اور خشک سالی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کی زمین کا تقریباً 41 ملین ہیکٹرزیا 51 فیصد صحرائی علاقوں پر مشتمل ہے اور اس میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث کمی اور بےترتیب ہوتی ہوئی بارشوں کے نتیجے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ پاکستان میں ماحولیات سے متعلق عوامی آگاہی کےلیے نہ تو کانفرنسز منقعد کروائی جاتیں ہیں اور نہ ہی خصوصی پروگرام تر تیب دیے جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں زیادہ تر میڈیا کو عوامی آگاہی اور شعور کےلیے استعمال کیا جاتا ہے مگر ہمارے میڈیا پر تو ہر وقت سیاست چھائی رہتی ہے۔ کبھی ایک سیاسی رہنما کی بیماری پر کئی دنوں تک خصوصی نشریات چلائی جاتیں ہیں۔ تو کبھی کسی سیاسی رہنما کے آزادی مارچ پر خصوصی کوریج کی جاتی ہے مگر ہم ماحولیاتی خطرات کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں اس لیے تو کبھی بھی کسی چینل یا اخبار نے ماحو لیاتی خطرات سے متعلق عوامی آگاہی کےلیے کام نہیں کیا۔ مختلف موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کےلئے ضروری ہے کہ جنگلات کے رقبے کو بڑھایا جائے اور شجر کاری کی مہم کو شروع کیا جائے۔ اس کے علاوہ  حکومتی اور عوامی سطح پر ایسے اقدامات اُٹھانے چاہیے کہ ہم موسمیاتی تبدیلیوں سے نبردآزما ہوسکیں اور اس زمین کا حق ادا کر سکیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
Climate change, Pakistan weather, air pollution, smog, Lahore, Samaa blogs
 
مقبول خبریں