ہوم   >  بلاگز

نو ستارے، پانچ پیارے، اقتدار کنارے

2 weeks ago

فوٹو: آن لائن

دنیا بھر میں اس وقت عوام کے اندر سیاسی شعور بیدار ہو رہا ہے۔ اس شعور کی ابتداء ’’عرب بہار‘‘ سے ہوئی جس نے مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے تخت نشین حکمرانوں کو گھروں میں بھیجنے پر مجبور کردیا۔ سیاسی شعور کے اس سفر نے پاکستان کا سفر کیا، عوام کو اپنے حقوق سے آگاہی ہوئی، روٹی اور چھت کے خوف میں مبتلا شہریوں کو پہلی بار اپنے حقوق کا ادراک ہوا۔ انہیں احساس ہوا کہ ان کے بھی حقوق ہیں، انہیں بھی اپنے ووٹ کی قیمت کا احساس ہوا، یہ احساس انہیں عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے دیا۔ نوجوانوں نے ایک بڑی تعداد نے عمران خان کے منشور سے اتفاق کیا اور یوں وہ اقتدار میں آگئے۔

عام انتخابات 2018 میں عمران خان نے کئی سیاسی برج اُلٹ دیے۔ قیام پاکستان سے اب تک 5 بڑے حکمران خاندانوں کا انہوں نے سیاسی سفر ختم کیا گو کہ ان کے ساتھ بھی کئی موروثی سیاست دان موجود ہیں، تاہم عوامی شعور مستقبل میں ان خاندانوں کو بھی گھر کا راستہ دکھا سکتا ہے۔ انہی خاندانوں میں شریف خاندان، بھٹو خاندان، مفتی محمود خاندان، ولی خاندان اور اچکزئی خاندان شامل ہیں۔ یہ خاندان ایک بار پھر میدان سیاست میں اکٹھے ہوگئے، گویا آگ اور پانی ایک ساتھ ہوگئے ہیں۔ لبرل ازم کے نعرے دفن ہوچکے ہیں، سیکولرازم کی صدائیں دب چکی ہیں اور مذہبی کارڈ بھی کبوتر اچک کر لیا گیا ہے۔ اب صرف ایک ہی آواز، ایک ہی نظریہ اور ایک ہی سیاست ہے اور وہ ہے ریاست نہیں سیاست بچاو۔ عمران خان کے 2014 کے دھرنے کو مثال بنا کر اس احتجاج کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انتخابی سیاست کا راگ الاپ رہے ہیں، ہجوم کو حکومت تبدیل کرنے کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے لیکن آئین اور قانون کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے انہوں نے جتھوں کے ذریعے پارلیمنٹ کو فتح کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ نئے انتخابات کا مطالبہ کرنے والے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے سے انکاری ہیں۔ جعلی الیکشن کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں نے نہ صرف انتخابات کو تسلیم کیا ہے بلکہ ان کے بقول جعلی اسمبلیوں میں حلف بھی اٹھایا ہے۔

اس وقت 9 ستارے اور 5 پیارے باب اسلام آباد میں موجود ہیں۔ یہ بہرحال اس وقت حکومت کے سَر بڑی ذمہ داری ہے، وزیر اعظم کے ترجمانوں اور پارٹی عہدیداروں کو ہر بیان احتیاط سے دینا ہوگا۔ اس وقت جہاں اپوزیشن جماعتیں بظاہر تقسیم نظر آرہی ہیں، وہیں وزراء اور ترجمانوں کے بیانات معاملات کو خراب کرنے کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان اگر مذہبی کارڈ استعمال کر رہے ہیں تو وزیر اعظم پاکستان کے بیانات بھی اسی سیاق و سباق کے تحت آرہے ہیں، حکومتی عہدیداروں کے بیانات معاملات کو خراب کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں، ان بیانات سے جہاں اپوزیشن میں اشتعال پیدا ہوسکتا ہے، وہیں عوام میں بھی حکومتی حمایت میں کمی آسکتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن لچک کا مظاہرہ کرکے معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کریں۔ کسی بھی منتخب وزیر اعظم کو جتھوں اور چڑھائی کے ذریعے اقتدار سے علیحدہ کرنا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ اس وقت اپوزیشن اور حکومت دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے آئین  کو خطرات لاحق ہوں۔ مولانا فضل الرحمان سمیت اپوزیشن میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت ذمہ دار اور ملک و آئین کے وفادار افراد کے ہاتھوں میں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ یہ قیادت آئین، قانون اور ملک کے ساتھ اپنی وفادار کس حد تک نبھا پاتے ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
Samaa blogs, Azadi March, JUI-F, Islamabad, Fazal Ur Rehman, protest, Imran Khan
 
مقبول خبریں