ہوم   >  بلاگز

عزادار حسینؓ کا نہ رُکا ہے نہ رُکے گا

3 weeks ago

 شہداء کربلا کی یاد میں جلوس نکالنے اور عزاداری کرنے کی روایت صدیوں سے جاری ہے، خواہ کوئی بھی موسم ہو کیسے بھی حالات ہوں لیکن غم حسین منانے کا سلسلہ کبھی نہیں رُکا۔ متعدد بار عزاداروں کو دہشت گردی کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم دہشت گروں کے حملے بھی عزاداروں کے عزم کو کمزور نہ کرسکے ۔

دس برس قبل سال 2009 میں 10 محرم الحرام کو یوم عاشور کا مرکزی جلوس اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا تاہم ایم اے جناح روڈ لائٹ ہاوس کے نزدیک ایک خوفناک دھماکہ ہوا جس سے قیامت صغریٰ کا منظر بپا ہوگیا تھا۔

اس دھماکے میں بزرگ ، جوان ، خواتین اور بچوں سمیت 40 سے زائد افراد شہید، جب کہ سیکڑوں سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے میں جیو ٹی وی چینل کے رپورٹر فہیم صدیقی کا بیٹا اور بھانجی بھی جاں بحق افراد میں شامل ہیں، جب کہ خود فہیم صدیقی بھی دھماکے میں زخمی ہوئے۔

پاک حیدری اسکاوٹس کے سیکریٹری پی آر محمد علی نقوی نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتےہوئے بتایا کہ 10 برس قبل جب یہ دھماکہ ہوا تھا تو میں دھماکہ کی جگہ سے 60،70 قدم پچھے تھا اللہ نے مجھ پر کرم کیا ، انہوں نے بتایا کہ اس دھماکے میں ہمارے اسکاوٹس کا کوئی رضاکار شہید یا زخمی نہیں ہوا جبکہ اس قبل سال 2002 میں پاک حیدری اسکاوٹس کے کیمپ پر حملہ ہوا تھا جس میں پاک حیدری اسکاوٹس کے کنٹرولر خواجہ انیس حیدر اور سید اظہر رضا شہید ہوگئے تھے جبکہ حنیف حیدر شدید زخمی ہوگئے تھے ۔

انہوں نے بتایا کہ اس دھماکے میں حنیف حیدر کے جسم کا بڑا حصہ متاثر ہوا تاہم کئی آپریشن کے بعد اب وہ بہت بہتر ہیں لیکن اس دھماکے نے بھی ان کے جذبے کو کم نہیں کیا وہ آج بھی ہمارے بہت ایکٹو ساتھی ہیں۔

علی نقوی نے بتایا کہ میرا تعلق پیدائشی طور پر اہل تشیع گھرانے سے ہے لیکن حنیف سنی مسلک سے شعیہ مسلک میں تبدیل ہوئے لیکن اس کا جذبہ اور عقیدت مجھ سے کہیں زیادہ دیکھائی دیتا ہے عاشور کے موقع پر جتنے دن ہمارا کیمپ لگتا ہے حنیف وہاں موجود ہوتا ہے اور جلوس کے شرکاء کے ساتھ پیش پیش رہتا ہے ۔

اربعین حسینی میں شرکت کے لیے لاکھوں عراقی اور غیر ملکی زائرین مشی کرتے ہوئے نجف سے کربلا پہنچے، جہاں عزادار نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کرکے  کربلا کے شہيدوں کو خراج عقيدت پيش کرتے ہیں۔

علی نقوی نے بتایا کہ کراچی میں ہونے والے عاشورہ دھماکے کے بعد کربلائے معلیٰ کی روایت مشی میں اضافہ ہوا عزادار کراچی کے مختلف علاقے  ملیر ، کورنگی ، انچولی  سمیت دیگر علاقوں سے مشی یعنی پیدل چل کر مرکزی جلوس میں شرکت کیلئے آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چہلم کے جلوس میں عاشورہ کے جلوس سے زیادہ تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے اسکاوٹس میں تقریباً6 سو رضاکار ہیں لیکن میں نے دیکھا کہ عاشورہ دھماکہ کے بعد ہمارے اسکاوٹس میں اضافہ ہوا بچے بڑے خود چل کر عوام کی خدمت کیلئے آئے اور اپنے آپ کو رجسٹرڈ کروایا۔

ملک بھر میں انسانیت کے جذبے سے سرشار اسکاوٹس بغیر کسی معاوضے کے عوام کی خدمت پیش پیش رہتے ہیں، جب کہ انہیں کئی بار مشکلات کا سامنا بھی رہتا ہے۔ کئی خطروں سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔

ماضی کو یاد کرتے ہوئے علی نقوی نے بتایا کہ 90 کی دہائی میں جب ہم جلوس میں جایا کرتے تھے تو پُرامن ماحول میں جایا کرتے تھے ٹیکنالوجی اتنی نہیں تھی راستے کھلے رہتے تھے لیکن جہاں دنیا نے ترقی کی وہیں تحزیب کار بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے لگے جس کے باعث موبائل سروس کی بندش کی جانی لگی۔ جلوس میں سیکیورٹی بڑھائی جانے لگی، جیمرز کا استعمال ہونے لگا، تاہم میرے خیال میں ڈبل سواری پر پابندی کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ۔

اس سال بھی محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے چہلم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے موقع پر سندھ بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے، اس دوران موٹر سائیکل کی ڈبل سوار پر بھی پابندی لگائی گئی، جب کہ جلوس کے راستوں پر موبائل فون سروس کے بندش کی بھی سفارش کی گئی۔

 علی نقوی نے مزید کہا کہ چاہے جیسا موسم ہو جیسے بھی حالات ہوں جلوس امام حسینؓ صدیوں سے جاری ہے اور تاقیادت جاری رہے گا۔ ہر سانحہ سے ہمارا جذبہ مزید پختہ ہوتا ہے، حسینؓ کا عزادار نہ کبھی کسی سانحہ سے رکا ہے نہ رُکے گا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں