ہوم   >  بلاگز

میڈل سے ناکامی تک کا سفر

1 month ago

فوٹو: آن لائن

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے جن اقوام نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے انہوں نے علم و تحقیق پر خاص توجہ دی۔ تاریخ کے مختلف جھروکوں سے لے کر دور حاضر تک ہونے والی ترقی تعلیم ہی کی مرہون منت ہے۔ جن اقوام نے تعلیم سے روگردانی کی اور علم و تحقیق کے بجائے دیگر سرگرمیوں پر توجہ دی وہ  زمانے کے سامنے ٹِک نہ سکے اور رفتہ رفتہ ناکامیاں اور مایوسیاں ان کا مقدر ٹھہریں۔ دور حاضر میں بھی تمام اقوام تعلیم کے شعبہ میں ایک دوسرے پر بازی لینے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ شعبہ ہائے زندگی کے مختلف شعبوں  کے کئی پہلوؤں پر تحقیق کی جا رہی ہے۔

اقوامِ عالم میں تعلیم کا معیار دن بدن بلندیوں کی جانب رواں دواں ہے لیکن ہمارے پیارے ملک پاکستان میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ پاکستان کی تعلیم یافتہ نسل کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سی ایس ایس 2019 کے تحریری امتحان میں ساڑھے 14 ہزار طلباء میں سے صرف 372 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ سال 2019 کے امتحانات کی شرح 2 اعشاریہ 56 فیصد رہی ہے۔ ان نتائج کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امتحان میں حصہ لینے والے طلباء کی تعلیمی قابلیت کامیاب ہونے والے امیدواروں سے کم تھی بلکہ ناکامی کے پیچھے انتہائی پریشان کن وجوہات ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جیسے ہی کوئی بچہ ہوش سنبھالتا ہے تو والدین کو اسکول داخل کروانے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ سرکاری اداروں میں طلباء کی بڑھتی تعداد اور معاشرے میں اپنے معیار کو برقرار رکھنے کےلیے والدین  پرائیوٹ اسکولز کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ تمام پرائیوٹ ادارے والدین سے بھاری فیسیں بٹورنے اور ایک دوسرے  پر سبقت لے جانے کےلیے  نمبروں کی لامتناعی دوڑ میں شامل ہیں۔ اس کا واضح ثبوت کسی بھی پرائیوٹ تعلیمی ادارے کی جانب سے بنائے جانے والے اشتہارات ہیں جن پر پوزیشن ہولڈرز کے نمبر آویزاں ہوتے ہیں۔ والدین کےلیے اس سے بڑھ کر فخر کی بات اور کیا ہوسکتی ہے؟ طلباء بھاری فیسیوں کے عوض نمبر گیم میں سبقت تو لے جاتے ہیں لیکن اصل مسائل یہی سے شروع ہوتے ہیں۔ بچے نمبر گیم کے چکر میں کئی اہم باتیں اس لیے نہیں سیکھتے کیونکہ اس کا عام زندگی میں اطلاق نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ علم صرف معلومات کی حد تک ہے جس کا مقصد صرف امتحانات پاس کرنا ہے۔

ہمارے گاؤں کی ایک انتہائی معتبر شخصیت نے اپنے بیٹے کا داخلہ علاقے کے انتہائی مشہور اسکول میں کروایا۔ بچہ ہر امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کرتا اور والدین میڈلز وغیرہ دیکھ کر بیٹے پر رشک کرتے۔ خیر دن گزرتے گئے اور بچے نے آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کر لیا۔ والدین نے نویں جماعت میں داخلے کےلیے ایک مقامی اسکول کا انتخاب کیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ان کا بچہ اپنی ذہانت اور قابلیت کی بدولت باآسانی اچھے نمبر حاصل کر لے گا۔ بچے کو تعلیمی سرگرمیوں میں دشواری پیش آنے پر ٹیوشن کا اہتمام بھی کیا گیا لیکن نویں جماعت کے نتائج تمام توقعات کے برعکس نکلے۔ اتنے اخراجات کے باوجود بھی بچہ محض ایک مضمون ہی پاس کرسکا۔ جب بچے کی گزشتہ کامیابیوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ اسکول انتظامیہ نتائج آنے پر کلاس کے تمام طلباء کو میڈلز اور دیگر انعامات تقسیم کرتی تھی جس سے تمام بچوں کے والدین اس زعم میں مبتلا تھے کہ ان کے بچے ذہانت کی آخری سیڑھی کو چھو رہے ہیں۔ سی ایس ایس امتحانات میں ناکامی بھی اس واقعے سے کافی حد تک مشابہت رکھتی ہے۔

ہم تعلیم کو معلومات کے انتہائی نچلے درجے تک دیکھتے ہیں۔ ہمارے بچے کوئی نئی چیز بنا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی  چیز کو بنانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں بچے پڑھتے اور سمجھتے نہیں بلکہ رٹہ لگاتے ہیں اور امتحان میں جاکر الٹی کر دیتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی معیار کا المیہ یہ ہے کہ اساتذہ کہانیاں بھی رٹوا دیتے ہیں۔ بچوں کو صرف امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرنے کےلیے پڑھایا جاتا ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلباء کو ایسے پڑھائیں کہ وہ خود غور و فکر کرتے ہوئے سوالات اٹھائیں اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے میں لطف اندوز ہوں۔

عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں  کہ آپ کا بچہ مستقبل میں اچھی نوکری حاصل کرے تو اسے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیلنے کا زیادہ سے زیادہ موقع دیں کیونکہ مستقبل میں اسے تخلیقی، جذباتی اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں کی ضرورت پڑے گی۔ مثال کے طور پر سپر ہیروز کی نقل کرنے والے بچوں میں لیڈر بننے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ مٹی کے گھر بنانے والے بچوں میں نئی چیزیں ایجاد کرنے کی جستجو ہوتی ہے۔ اگر کوئی بچہ کسی بھی کھیل میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے تو والدین کو چاہیے کہ ڈانٹنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ اس میں موجود صلاحیتوں میں اچھی طرح نکھار پیدا ہو سکے۔

والدین اور اساتذہ بچوں کے ساتھ مل کر ان کے اردگرد موجود سائنسی حقائق کو تسخیر کریں۔ بچوں کو سنی سنائی اور پہلے سے طے شدہ جوابات دینے سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں محدود ہوکر رہ جاتی ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں اساتذہ اپنی آسانی کےلیے بچوں کو گائیڈز اور حل شدہ پیپرز مہیا کرتے ہیں جس کے باعث عارضی طور پر بچے سوالات تو حل کر لیتے ہیں لیکن چند ماہ گزرنے کے بعد انہیں دوبارہ انہیں پیپرز یا گائیڈز سے مدد لینی پڑھتی ہے۔ طلباء عارضی طور پر کامیابی تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن مستقبل میں یہ شارٹ کٹ بڑی مشکلات کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں پانچویں جماعت کے بعد انگلش زبان سکھانے کا باقاعدہ عمل شروع ہو جاتا ہے لیکن ماسٹر اور ایم فل کرنےکے بعد بھی سینکڑوں طلباء انگلش سیکھنے کی غرض سے اکیڈمیوں میں دربدر ہو رہے ہیں۔

اساتذہ اور والدین سے التماس ہے کہ بچوں کو چیزوں کو سمجھنے کی طرف رغبت دلائیں کیونکہ بچے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں نمبر تو لے جاتے ہیں لیکن عملی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا موجودہ  دور ہے اور اس میدان میں صرف وہی قومیں کامیابیوں کا سہرا اپنے سر پر سجا رہی ہیں جو کچھ نیا کرنے، سوچنے اور ایجاد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب معاشرہ ابتدائی طور بچوں میں تخلیقی فکر کو پروان چڑھانے میں مدد فراہم کر سکے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
CSS exams, Education, Pakistan, Students