ہوم   >  بلاگز

سال 2005 میں آنے والے زلزلے کو 14 سال مکمل

1 week ago

متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام تاحال جاری




اکتوبر 2005 کے ہولناک زلزلے میں آزاد کشمیر کے علاوہ ہزارہ ڈویژن میں شدید جانی و مالی نقصان ہوا جس پر سرکاری سطح پر ’ایرا‘ (زلزلہ کی تعمیر نو اور بحالی اتھارٹی) نامی ادارے کو بحالی کا کام سونپا گیا تھا جو مکمل نہ کر سکا۔


ایرا کے بعد پیرا (صوبائی زلزلہ کی تعمیر نو اور بحالی ایجنسی)  نامی ادارے کا قیام وجود میں آیا جس نے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے کام کی زمہ داری لی۔


ڈائریکٹر پیرا محمد شفیق چشتی کے مطابق زلزلے سے ضلع ابیٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، شانگلہ اور کوہستان میں تعلیمی اداروں سمیت تمام انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوئے جن کی کل تعداد 7042 تھی۔ پیرا نے بحالی کام کےلیے کئی منصوبے ترتیب دیے۔


ڈائریکٹر پیرا کا کہنا تھا کہ پیرا کو ہر سال منصوبوں کو مکمل کرنے کےلیے ایرا کی جانب سے ایک ارب روپے دیے جاتے ہیں جوکہ بہت کم ہیں جب کہ 16 ارب روپے ایرا نے پیرا کے دینے ہیں۔ اگر بروقت 16 ارب روپے مل جائیں تو تمام پراجیکٹ ایک سال کے عرصہ میں مکمل ہوسکتے ہیں۔ اسوقت جو پراجیکٹ شروع ہیں ان کےلیے سرے دست 4 ارب روپے درکار ہیں تب جا کر ایک ساتھ تمام پراجیکٹ پر کام شروع ہوسکتا ہے۔


انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی کی جانب سے مطلوبہ روپے نہ ملنے پر پراجیکٹ پر کام تعطل کا شکار ہے اور جس طرح ادارہ پیرا کو سالانہ  ایک ارب روپے دے رہا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو مزید 16 سال لگیں گے۔


پیرا کے اعداد وشمار کے مطابق 7042 میں سے 5852 منصوبے مکمل کر لیے گئے جب کہ 1190 منصوبے ابھی رہتے ہیں۔ اسکے علاوہ 447 پراجیکٹ پر کام جاری ہے۔



ضلع ابیٹ آباد میں منصوبوں کی کل تعداد 1255 تھی جس میں سے 1041 پراجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں جب کہ 214 پراجیکٹ باقی ہیں۔ اس وقت 156 پراجیکٹ پر کام جاری ہے جب کہ 58 پراجیکٹ کےلیے فی الحال کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔


ضلع مانسہرہ میں کل پراجیکٹ 2821 تھے جس میں سے 2441 مکمل ہو چکے ہیں جب کہ 380 پراجیکٹ باقی ہیں۔ فی الوقت 156 پراجیکٹ پر کام جاری ہے جب کہ 214 پراجیکٹ کے لیے ابتک کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔


ضلع بٹگرام میں کل پراجیکٹ 1313 تھے جس میں سے 1149 مکمل ہو چکے ہیں جب کہ 164 پراجیکٹ باقی ہیں۔ اس وقت 53 پراجیکٹ پر کام جاری ہے جب کہ 111 پراجیکٹ کےلیے ابھی تک کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوئی۔


ضلع شانگلہ میں کل 852 پراجیکٹ تھے جس میں سے 766 پراجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں جب کہ 86 پراجیکٹ باقی ہیں۔ فی الحال 44 پراجیکٹ پر کام جاری ہے جب کہ 42 پراجیکٹ کےلیے کوئی منصوبہ بندی نہیں۔


اسی طرح ضلع کوہستان میں کل 801 پراجیکٹ تھے جس میں سے 455 پراجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں جب کہ 346 پراجیکٹ بقایا ہیں۔ اسوقت 38 پراجیکٹ پر کام جاری ہے جب کہ 308 پراجیکٹ کے لیے کوئی پلاننگ نہیں کی گئی۔


ابیٹ آباد گورنمنٹ ہائی اسکول میرپور 8 اکتوبر 2005 کے زلزلہ میں تباہ ہوا جو ابھی تک زیرِ تعمیر ہے۔ ایرا نے ایک ساتھ تمام پراجیکٹ پر کام شروع کر دیا تھا۔


صوبے میں عوامی نیشنل پارٹی کے اقتدار میں آتے ہی زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے فنڈ منتقل کر دیئے گے تھے جوکہ 17 ارب روپے تھے۔ بعد میں پیرا نامی ادارے کا قیام ہوا جس نے صوبہ خیبر پختونخوا کے زلزلہ متاثرہ علاقوں کی بحالی کا کام شروع کیا جو تاحال جاری ہیں۔ میر پور ابیٹ آباد کا اسکول ابھی تک ایرا کے پاس ہے جس پر 30 فیصد کام ہوسکا ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں