Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

پاکستان میں اسلامی بینکاری کی مقبولیت

SAMAA | - Posted: Oct 3, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 3, 2019 | Last Updated: 2 years ago

پاکستان میں اسلامک بینکاری نے معیشت میں جگہ بنانا شروع کردی ہے۔ اس طرز کی بینکاری کا آغاز 80 کے عشرے کے اوائل سے ہوا۔اس سلسلے میں پہلا پروجیکٹ مضاربہ تھا۔ ابتدا میں بینکاری کے اس نظام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن گزرتے وقت کے ساتھ عوام میں اس نظام نے مقبولیت حاصل کی۔ بنیادی طور پر رقم کا لین دین بینکاری کہلاتا ہے تاہم اس میں سود کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ اسلامی بینکاری کو رباہ فری یعنی سود سے پاک بینکاری کہا جاتا ہے۔ یہ اس طرز بینکاری کا بنیادی اصول ہے۔ اسلامی بینکاری کا مقصد معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم ہے تاکہ غربت، افلاس اور بھوک کا خاتمہ ہو۔ بینکاری کے اس نظام میں شرعی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان میں اس وقت 21 اسلامک بینکنگ کے ادارے موجود ہیں۔ ان میں 5 مکمل اسلامی بینک اور 16 بینکوں میں اسلامک بینکنگ کے شعبے موجود ہیں جن کی علیحدہ اسلامی بینکاری کے لیے برانچز بھی موجود ہیں۔ دنیا بھر میں اسلامی سرمایہ کاری کے 1300 سے زائد ادارے موجود ہیں۔ اسلامی بینکاری کے نظام کا حجم 2.20 کھرب ڈالر کے قریب ہے اور سال 2020 تک یہ 3.2 کھرب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ 15 کروڑ سے زائد صارفین اس طرز بینکاری سے سہولیات لے رہے ہیں۔

اسلامی بینکاری میں کسی بھی ایسے کاروبار کے لیے رقم کی فراہمی یا قرض ممکن نہیں جس کی شریعت میں اجازت نہیں۔ مثال کے طور پر جوئے خانے ،شراب خانے یا ایسی کسی جگہ پر کاروبار کرنے کے لیے اسلامی بینک سے قرض نہیں لیا جاسکتا جس کی اسلام میں ممانعت ہو۔

اسلامی سرمایہ کاری میں تجارت کو فروغ دیا جاتا ہے۔اس طرز بینکاری میں سود کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ سود کا ذکر قرآن میں 4 مختلف جگہ پر آیا ہے۔ قرض پر نفع سود ہوتا ہے۔ قرض پر پہلے سے طے شدہ منافع بھی سود کے زمرے میں آتا ہے۔

پاکستان میں کچھ برس پہلے سود سے پاک سرمایہ کاری کے نام پر فراڈ بھی کیا گیا۔ اس اسکینڈل میں کسی ضروری کاغذی کارروائی کے بغیر صارفین کو رقم دگنی کرنے کا لالچ دیا جاتا تھا اور شریعت کے طریقوں کو ناجائز طور پر ظاہر کیا جاتا تھا۔ سادہ لوح عوام اس جھانسے میں آگئی اور کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ تاہم سرکاری اداروں نے اس وقت نوٹس لیا جب چڑیا چک گئیں کھیت۔

پاکستان میں 90 کی دہائی کے آخر میں باقاعدہ اسلامی بینکوں کا قیام عمل میں آنا شروع ہوا۔ روایتی بینکاری کے مضبوط نظام میں اسلامی بینکاری کو اگرچہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن غیر مسلم ممالک میں بھی اسلامی بینکاری نے مقبولیت حاصل کی۔ کچھ سال قبل برطانیہ کی وزیر اعظم نے بیان دیا تھا کہ لندن کو اسلامی بینکاری کا سب سے بڑا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔

صکوک بانڈز کو اسلامی بینکاری کا اہم جزو قرار دیا جاتا ہے۔ ان بانڈز کے ذریعے کسی بھی ادارے یا سرکاری جگہ کی ملکیت  عارضی طور پر صارف کو منتقل ہوتی ہے۔ صکوک بانڈز سود سے پاک ہوتے ہیں۔ اس پر حاصل ہونے والا منافع اسلامی بینکاری میں جائز تصور کیا جاتا ہے۔ اسٹریٹیجک اثاثوں پر صکوک بانڈز جاری نہیں کئے جاسکتے۔ ان میں عسکری تنصیبات سمیت اہم قومی اثاثے شامل ہیں۔ سرکاری اداروں پر صکوک بانڈز جاری ہوسکتے ہیں۔ اب تک دنیا بھر میں 7 ہزار بین اقوامی صکوک بانڈز جاری کئے جاچکے ہیں۔

اسلامی سرمایہ کاری میں سلم کو بھی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اس کے ذریعے فریق اپنے گنے کی فصل کو تین ماہ قبل ہی مارکیٹ میں فروخت کرسکتا ہے۔اس میں سامان یا فصل کی لاگت کو فروخت کے وقت سے پہلے ہی منجمد کردیا جاتا ہے۔ ثمن کے ذریعے بھی قیمت میں بھاؤ تاؤ کیا جاسکتا ہے۔

غرض یہ کہ اسلامی بینکاری کے نظام پر معیشت کو ڈھال کر عالمی کساد بازاری پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ مالیاتی بحران سے بچنے کے لیے اسلامی سرمایہ کاری بہترین طریقہ ہے ۔ 10 برس قبل آنے والے معاشی بحران نے کسی بھی اسلامک بینک کو دیوالیہ نہیں کیا تھا جس کی بنیادی وجہ ان کے طرز بینکاری کو قرار دیا جاتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube