ہوم   >  بلاگز

ویلڈن عمران خان ۔۔۔ لیکن؟؟؟

2 months ago

فوٹو: آن لائن

تحریر: اعیان سندھو

وزیراعظم عمران خان نے 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کیا جس کی نہ صرف پاکستان بلکہ کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم مظلوم مسلمانوں نے بھرپور تعریف کی۔ اپنے خطاب کے بعد جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان اسٹیج سے نیچے تشریف لائے تو ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے انہیں امت مسلمہ کا مقدمہ بہترین انداز میں لڑنے پر خراج تحسین پیش کیا اور گلے لگا کر تھپکی بھی دی۔ ادھر سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے حق میں پوسٹوں کے انبار لگ گئے۔ ہر کسی نے خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے تھا بطور وزیراعظم عمران خان کی تعریف کی۔ چند حلقوں نے عمران خان کو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کا لیڈر قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کی جانب سے ایسا خطاب پہلی دفعہ کسی سربراہ مملکت کی جانب سے سننے کو ملا۔

سب سے پہلے تو آغاز کرنا ہوگا اقوام متحدہ میں ہونے والی تقاریر اور ان کے اثرات کا۔ تو جناب یہ بات تو واضح ہے کہ عمران خان اور نواز شریف کے علاوہ ہر آنے والے سربراہ مملکت کو ہر سال یہ شرف ضرور حاصل ہوتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اقوام عالم کے سامنے اپنی تقریر کرے اور اپنا مدعا بیان کرے۔ ایک اور وضاحت جس کی ضرورت ہے کہ وہ خاص طبقہ جن کی پیدائش 30 اکتوبر 2011 کو ہوئی اس سے پہلے کے حالات سے ان کو واقفیت ہے اور نہ ہی انہوں نے حالات جاننے کی کوشش کی۔ وہ یہ بات ذہن نشین کر لے کہ کئی دہائیوں سے سربراہ مملکت ہر سال وہاں جاتے ہیں اور ہر سال کی تقریر میں بہت کچھ نیا دیکھنے کو ملتا ہے۔

چند واقعات پر نظر ڈالیں تو عمران خان کا شلوار قمیض میں وہاں خطاب کرنا نئی روایت بالکل نہیں تھی کیونکہ کئی سربراہان مملکت قومی لباس میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ سابق صدر پاکستان جنرل ضیا الحق اپنے خطاب سے پہلے باقاعدہ قرآن پاک کی تلاوت کے ساتھ آغاز کر چکے ہیں۔ اس لیے چند دانشور جنہوں نے ہماری نوجوان نسل کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے ان کےلیے عرض ہے کہ اب تاریخ کا مطالعہ کرنا مشکل نہیں رہا۔ موبائل کے ایک ٹَچ پر آپ کو بہت ساری حقیقت کا علم ہوسکتا ہے لیکن شرط چاہنا ہے۔

اب آتے ہیں جنرل اسمبلی میں ہونے والی تقاریر، کارنامے اور ان کے اثرات سے۔ تو بات ہے 15 دسمبر 1971 کی جب اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل اسمبلی میں ملک کی ابتر صورتحال پر اقوام عالم کی توجہ دلائی اور بھارت کے ساتھ جاری  جنگ میں دنیا کو کردار ادا کرنے کا کہا لیکن شنوائی نہ ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کو قرارداد پھاڑ کر احتجاج کرنا پڑا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ اگلے ہی دن 16 دسمبر 1971 کو ملک دو لخت ہوگیا اور مشرقی پاکستان ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ اس کے بعد پاکستان نے کیا کچھ بھگتا اس کا فیصلہ قارئین خود کر سکتے ہیں۔ کیونکہ آٹھ سال بعد 4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختے پر جھولنا پڑا۔

اسی طرح صدر پاکستان جنرل ضیاالحق نے  21 فروری 1987 کو دہلی میں راجیو گاندھی سے ملاقات کی جس میں انہوں نے تاریخی جملہ ادا کیا کہ پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں پاکستان ختم ہو بھی جائے تو بھی اسلام اس دنیا میں موجود رہے گا لیکن اگر ایٹمی جنگ کے نتیجے میں  ہندوستان ختم ہوگیا تو ہندوازم کا خاتمہ ہوگا۔ تاہم 19 اگست 1988 کو ضیاالحق کا طیارہ بہاولپور کے قریب کریش کر گیا جس میں ملک صدر پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ اقوام عالم کی جانب سے پاکستان میں ہونے والی سازشوں سے کون واقف نہیں۔ اس لیے آج 72 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود پاکستان مستحکم ہوا اور نہ ہی یہاں کسی کو بااختیار حکومت کرنے کا موقع ملا۔

عمران خان کی ایک کمزوری سے تو سب واقف ہے کہ وہ کانوں کے کچے ہیں اور کان میں ہونے والی ہر بات پر مِن وعَن یقین کر لیتے ہیں۔ لیکن ایک خوبی جو وزیراعظم میں پائی جاتی ہے اس میں ان کی شعلہ بیانی ہے جس سے نہ صرف انہوں نے پاکستان کی عوام سے ووٹ حاصل کیے بلکہ آج عالمی دنیا میں بھی انہیں پذیرائی مل رہی ہے۔ دوسری جانب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ وقت صرف شعلہ بیانی سے کام لینے کا ہے یا سفارتی اقدامات کا ہے کیونکہ سفارتی سطح پر ہم کتنے کامیاب ہیں اور ہمارا دشمن اس محاظ پر کیسے لڑ رہا ہے یہ سب کے سامنے ہے۔

ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ  55 دنوں سے زائد کا وقت گزر چکا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کی حالت میں رتی برابر بھی تبدیلی نہیں آئی۔ امریکا کی ثالثی کی پیشکش بھی بھارت کی جانب سے ٹھکرائی جا چکی ہے۔ مسلم امہ کی بات کہنے میں تو شاندار لگتی ہے لیکن درحقیقت  متحدہ عرب امارات  مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والے عالمی دہشتگرد نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نواز رہا ہے جبکہ پاکستان کا سب سے عزیز دوست سعودی عرب بھی کشمیر کی صورتحال میں کشیدگی کم کروانے میں ناکام ہے۔ عمران خان کی شخصیت کا یہ اثر تو ضرور ہے کہ سعودی شہزادے ذاتی طیارہ دے کر امریکا کا دورہ کرواتے ہیں لیکن کشمیر کی صورتحال پر ان کی خاموشی اصل بات ہے جسے ہمیں سمجھنا ہوگا۔

ایک بات کی داد تو بنتی ہے کہ فی البدیع  تقریر میں عمران خان نے نہ صرف منی لانڈرنگ بلکہ اسلاموفوبیا سمیت کشمیر کا مقدمہ بہترین الفاظ سے لڑا لیکن دوسری طرف انہیں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ عین اس تقریر کے بعد سعودی شہزادے کی جانب سے دیے گئے طیارے میں اڑان بھرتے ہی فنی خرابی آگئی اور ایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑی۔ کیا یہ عمران خان اور حکومت وقت کو اشارہ دیا گیا ہے کہ ایک اور سانحہ بہاولپور پاکستان کا منتظر ہے۔ میرے خیال میں پاکستان کو اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کیلئے عالمی سازشوں سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا کیونکہ اس خطاب کے بعد قوم تو متحد ہے اور کشمیری بھی ہم آواز ہیں لیکن ریاست پاکستان کسی بھی سانحے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ ہمیں اپنے دوستوں، دشمنوں اور سازشیں کرنے والوں پر بھی نظر رکھنی ہوگی کیونکہ یہ ایٹمی ریاست جس دن مستحکم ہوئی پوری دنیا پر حکمرانی کرے گی اور شاید پاکستان کے دشمن یہ نہیں چاہتے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں