ہوم   >  بلاگز

اور قندیل بجھ گئی

SAMAA | - Posted: Sep 27, 2019 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 27, 2019 | Last Updated: 4 months ago

1141118-qandeelx-1468406996

فیک بک یعنی ’’ فیس بک ‘‘کے مریضوں کی ہمارے ملک میں کمی نہیں، اپنی انتہائی ذاتی باتوں، کھائے پیے سے لیکر کہیں آنے جانے،  پہننے اوڑھنے تک بتانا ہو، کسی کی نجی زندگی میں جھانکنا ہو یا پھر کسی کی ذات کی دھجیاں اڑانی ہوں یہ ’’فیک بک‘‘ بہتوں کا بھلا یا برا کردیتی ہے۔ کسی کے لیے یہ کامیابی کا زینہ چڑھنے کیلئے سیڑھی بنی تو کسی کی زندگی ہی داؤ پر لگ گئی۔ ایسے بھی ہیں جو اعتدال کا دامن تھام کر اسے سماجی رابطوں کا ذریعہ ہی سمجھتے اور برتتے ہیں ( اللہ ان کا بھلا کرے)۔

qandeel-sonu

اسی فیس بک نے قریب دو ، ڈھائی سال قبل ’’قندیل بلوچ‘‘ کو متعارف کرایا۔ ابتداء کے بعد انتہا کی جانب قدم بڑھاتی قندیل توآب وتاب سے جل رہی تھی اور اسے دوام بخش رہے تھے وہ پروانے جو اچھا ہے، بھلا ہے یا برا ہے کی تفریق میں نہیں پڑتے بس محفل جمی رہے اور ماحول بنا رہے ، داد ملتی رہے یا دھجیاں اڑتی رہیں ، ان کی بلا سے۔

qandeel-baloch-verifies-claims-of-ex-husband-4a92b90dbbbc5e446a0bac22708c129d

ڈیرہ غازی خان کی فوزیہ عظیم سے سب کی جانی پہچانی قندیل بلوچ بننے کا سفرشاید اتنا آسان نہ رہا ہو جتنا نظرآتا ہے۔  یکم مارچ 1990 سے 16 جولائی 2016 کے چھبیس سال کے سفر میں کیا کیا اتار چڑھاؤ آئے ہونگے ، کسے غرض ہے؟ یاد تو بس اتنا رہے گا نا کہ بہت بے باک تھی، شرم و حیا سے عاری تھی، عزت کا مطلب اسے کیا پتا تھا؟ وہ تو سب جانتے ہیں کیا تھی؟ مگر یہ کون سوچے گا کہ اسے ایسا بنانے والا کون تھا؟ بہت سے تو اب بھی یہی کہیں گے کہ ’’خود ‘‘ تھی اور کون تھا؟

Qandeel Baloch FTG Lhr 01-05

غیرت کے نام پر بھائی یا کسی اورسگے کے ہاتھوں قتل ہونے والا یہ پہلا واقعہ تو ہے نہیں۔ ہمارے کان اور آنکھیں تو سب یہ دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ کیونکہ غیرت کے ٹھیکیداروں کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ سب سے برا منصف وہ اوپر والا ہے، اس پر چھوڑ دیں تو بہت سے بیگناہ بھی زد میں آنے سے بچ جائیں گے کیونکہ سزاورجزا کا اختیار اس صرف اس ’’اچھے رب‘‘ کو ہے ’’سب ‘‘ کو نہیں۔ قندیل کا معاملہ اس لیے مختلف تھا کہ اسے شہرت چاہیئے تھی چاہے جیسے بھی ملتی۔ اس لیے اس نے ’’فیک بک ‘‘ کا سہارا لیا اور اسے نتائج بھی حسب منشاء ملے۔ لاکھوں لوگوں نے آفیشل پیج بھی لائک کیا، باقاعدگی سے اس کی تصاویر اور قابل اعتراض ویڈیوزدیکھنا تو ان کا حق تھا مگرپھر اسی پیج پر اسے فحش گالیوں سے نوازنا انہوں نے اپنا فرض سمجھ لیا تھا۔

Qandel

کسی نے یہ سوچا کہ ایسی قندیلیں جنم کیوں لیتی ہیں؟ پیدا تو وہ بھی ایک ننھی پری کی صورت ہوئی ہو گی جسے ماں باپ نے گود میں لیتے ہوئے یہ سوچا تک نہ ہوگا کہ بڑے ہوکر اس کے ساتھ کیا ہو گا۔ ہاں امید ضرور وابستہ کی ہو گی کہ بڑی ہوکر وہ ان کے دل کی ٹھنڈک بنے گی، اس کے اچھے نصیب کی دعا کی ہوگی۔ پھر وہ فوزیہ عظیم سے  قندیل کیوں بن  گئی؟ کیا قندیل جیسے کیسز ہمارے ناہموار اور بیمار معاشرتی رویے کی عکاسی نہیں کرتے؟۔

QANDEEL BALOCH FILE 16-07

مجھے علم نہیں کہ قندیل کے حالات کیا رہے ،وہ بہت مجبورہو کراس راہ پرخار کی مسافر بننے چلی آئی تھی یااتنا شعور نہیں رکھتی تھی کہ اسلام نے اسے کیا مقام دیا ہے؟ عورت ہونا کتنا بڑا اعزاز ہے؟ اللہ پاک نے توجنت بھی اس کے قدموں تلے رکھ دی تھی اس نے یہ راہ کیوں چنی؟ لیکن پھرسوچتی ہوں کہ کیا خبر آج غیرت مند بننے والے اس وقت اس کے ساتھ نہ ہوں جب اسے ضرورت ہو۔ شوہر کا گھر چھوڑنے کے بعد بھائی نے اس کا دارالامان میں رہنا کیوں گوارا کیا؟ چھت محفوظ تھی مگر تھی تو ان کے لیے نا جو بےسائبان ہوتے ہیں؟ اس کے ماں باپ تو زندہ تھے نا؟ کیوں نہ منایا اسے؟ اب بھی تو اس سے ملنے لگے تھے نا۔ غریب ہیں تو یقیننا بیٹی مالی مدد بھی کرتی ہو گی کیونکہ بیٹیاں جیسی بھی ہوں ماں باپ کے دل کا مان ہوتی ہیں۔

1141118-qandeelx-1468406996

پھرقندیل کو کیوں بجھا دیا گیا؟ اچھی تھی ، بری تھی ، اسے بنانے والے بھی تو ہم میں سے ہی تھے نا؟ کہیں نہ کہیں اس کا قاتل صرف اس کا بھائی نہیں، یہ معاشرہ بھی ہے، ہم بھی برابر کے ساجھے دار ہیں ۔ ایسے کرداروں کی اپنے عمل سےحوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں اور پھر توبہ استغفار بھی کرتے ہیں۔ انہیں خوب تشہیردی جاتی ہے ، گڈی  اوپر، اور اوپر چڑھائی جاتی ہے مگر جب ڈورکٹ جائے تو یہ کوئی نہیں دیکھتا اور سمجھتا کہ ذمہ دار کون ہے۔ یہ کون پوچھے گا کہ اسے برا کہنے والے اس کی نئی ویڈیو اور اسکینڈل آنے کے منتظر کیوں رہتے تھے؟ کسی نے اسے بیوقوف سمجھ کر یہ مارجن کیوں نہیں دیا، کیوں نہیں سمجھایا کہ اچھی لڑکی، ایسا خسارے کا سودا نہ کرو، اس میں گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔

560bc2b1843cf

کیا خبردنیا میں دوسروں کے کیے دھرے پرانہیں سبق سکھانے کا اختیاراپنے ہاتھ میں لینے والے نام نہاد چیمپئنز سے اس جہاں میں اللہ راضی نہ ہو اور یہاں رہتے ہوئے دنیا جہاں کی بدنامی سمیٹنے والے وہاں جا کر سارے گناہوں کے باوجود اپنے کسی ایک عمل کے باعث اس کے محبوب ٹھہریں۔ کیا خبر وہاں بھی کوئی ایدھی ہو جو قندیل کے نام کا جھولا لگا دے ۔ فی الحال تو قندیل بجھ گئی۔

نوٹ: یہ تحریر قندیل بلوچ کے قتل کے اگلے روز لکھی گئی تھی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube