ہوم   >  بلاگز

کے ایم سی بجٹ میں اُتار چڑھاؤ کی وجوہات

1 month ago

کراچی میٹروپولیٹن ( کے ایم سی ) کے بجٹ میں پچھلے 20 سال میں آنے والے اُتار چڑھاؤ کو پانچویں کلاس کا بچہ بھی پڑھ سکتا ہے۔ بجٹ کے خدوخال میں اضافہ ہوا اور وہ نیچے بھی آئے تاہم اس کمی بیشی سے صورتحال کا درست اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

بجٹ بناتے ہوئے بظاہر ایک بات ذہن میں ہوتی ہے کہ اس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے اور اس میں گھریلو اخراجات کی مثال بھی لی جاسکتی ہے۔ کے ایم سی کے سابق مالیاتی مشیر خالد محمود شیخ نے بتایا کہ عام طور پر بجٹ میں اضافہ ہوتا ہے تاہم  کےایم سی کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا۔

خالد محمود شیخ آج کل حکومت سندھ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ یونٹ میں تعینات ہیں۔ وہ کچھ عرصے کے لیے واٹر بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے۔ ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ کراچی ایک امیر شہر ہے اور اس کی حکومت پسماندہ یا غربت کا شکار ہے؟

انھوں نے دو ٹوک کہا کہ کے ایم سی کو بند کردینا چاہئے، یہ مالیاتی طور پر ناکام ہوگئی ہے۔

اگر ہم گزشتہ 2 عشروں قبل کا جائزہ لیں اور شہر کے بجٹ برائے 2001 پر نظر ڈالیں تو وہ 5.7 ارب روپے تھا۔ اگلے ہی برس یہ 20 ارب روپے ہوگیا۔ کچھ تو ایسا ہوا ہوگا کہ بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

اس دور میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف حکومت میں تھے اور کراچی کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ انھوں نے وہی کیا جو اس سے پہلے دو سابق فوجی آمروں، جنرل ایوب اور جنرل ضیاء نے کیا تھا۔ انھوں نے اختیارات کو نچی سطح پر منتقل کیا اور فنڈز فراہم کئے۔

سابق صدر ایوب خان نے اس نظام کو بنانا شروع کیا اور اس کو بنیادی جمہوریت کا نام دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور پھر ضیاء الحق نے اس کو مقامی حکومت کا نام دیا۔ پرویز مشرف نے اس نظام میں ترمیم کرکے اِس کو نیا رخ دیا۔

پرویز مشرف کے لائے ہوئے نظام میں 2001 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے اور کراچی میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے نعمت اللہ خان کو ناظم کراچی منتخب کرلیا گیا۔ کراچی کی شہری حکومت کا نام کے ایم سی سے تبدیل ہو کر سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی ہوگیا۔

پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے سے قبل،سندھ کے شہروں کو ضیاء دور کے 1979 کے قانون کے تحت چلایا جاتا تھا جس میں کے ایم سی چلانے کے قواعد موجود تھے۔ یہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن  کا کام تھا کہ وہ سیوریج ، پانی، برساتی پانی کے نکاس ، سڑکیں، محلے، چڑیا گھر، پارکس، کھیلوں کے میدان، ساحل ، قبرستان اور آگ بجھانے کے اداروں کی منصوبہ بندی، تعمیر اور دیکھ بھال کرے۔ اس کےعلاوہ ، ان کے ذمے شہر میں دودھ کی سپلائی،بازار، کھانے کے معیار کی جانچ بھی شامل تھا۔ کے ایم سی کو شہر کی ماسٹر پلاننگ سمیت عمارتوں کی تعمیرات ، زون اور کمرشمل علاقوں کی نگرانی بھی کرنا تھی۔

پرویز مشرف نے اس نظام میں تبدیلی کی اور شہری حکومت کو سندھ حکومت کے 23 محکموں کے اختیارات دے دئیے۔ جیسے ہی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کا حجم بڑھا، اس کےعملے اور بجٹ میں اضافہ ہوگیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ صرف ایک مالیاتی سال میں اس کا بجٹ 5.7 ارب روپے سے 20 ارب روپے ہوگیا۔

کراچی سٹی گورنمنٹ کو اس کے علاوہ بھی فنڈز ملے جن میں پرویز مشرف کے شروع کئے گئے تعمیر کراچی پروگرام کی جانب سے 29 ارب روپے کی رقم بھی شامل تھی ۔ اس پیکج میں کراچی سے 6 ارب روپے، سندھ حکومت کے 6 ارب روپے،اسلام آباد سے 5 ارب روپے اور دیگر اہم اداروں سے 12 ارب روپے کی رقم شامل تھی۔

سال 2002 سے 2003 اور 2004 تک، اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور شہری حکومت کا بجٹ 20 ارب روپے سے بڑھ  کر27 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

سال 2005 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے،شہر کے ناظم مصطفی کمال کے دور میں کراچی کا بجٹ 42 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا اور اس وقت کے صدر پرویز مشرف کی کوششوں سے اس میں اضافہ ہوتا رہا۔

تعمیر کراچی پیکج دراصل شہر کو دی جانے والی گرانٹ  کا حصہ تھا جس کا مقصد کسی مخصوص پروجیکٹ کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے رقم کی فراہمی تھا۔ اس صورت میں پرویز مشرف کی جانب سے دی گئی رقم کو شہر کے ناظم مصطفی کمال کسی اور پروجیکٹ میں استعمال نہیں کرسکتے تھے۔ اس دور میں ہی شہر میں کئی فلائی اوورز تعمیر ہوئے جو اس پیکج کا حصہ تھے۔

سال 2008 تک صورتحال بدل گئی اور ملک میں سیاسی تبدیلی آگئی۔ خالد محمود شیخ نے بتایا کہ اس وقت کام ہونے اس لئے بھی رک گئے کیوں کہ تعمیر کراچی پیکج کی فنڈنگ ختم ہوگئی۔ اُس سال پاکستان پیپلزپارٹی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔

سال 2010 میں، پرویز مشرف کے 2001 کے مقامی حکومتوں کے نظام کی قانونی حیثیت ختم ہوگئی اور کسی نے اس کو دوبارہ جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں لی۔ اس لئے ناظم غیر مؤثر ہوگئے اور سٹی ایڈمنسٹریٹرز کے پاس شہری حکومت چلانے کے اختیارات نہیں رہے، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی تاریخ کا حصہ بن گئی۔

پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے 1979 کا قانون سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈینسس کے تحت بحال کردیا اور شہری حکومت کو  کے ایم سی کا پرانا نام دے دیا گیا۔ وہ تمام 23 بڑے محکمے جو شہری حکومت کا حصہ بنائے گئے تھے،اس سے علیحدہ ہوگئے۔ شہری حکومت کا بجٹ کم ہوتے ہوئے31،35،33 اور 26 ارب روپے تک ہوگیا۔

خالد محمود نے وضاحت کی کہ پچھلے 7 سے 8 برسوں میں میونسپل سروسز کے بجٹ میں کٹوتی کی یہ وجہ بنی۔

 

یہ اسٹوری سماء انگلش پر پوسٹ کی گئی جس کا لنک یہ ہے
https://www.samaa.tv/news/local/2019/09/kmc-budgets-why-they-went-up-and-down/

  ترجمہ : محمد افضال فاروقی

مقامی حکومتوں سے متعلق سیریز کا اگلا آرٹیکل پڑھنے کیلئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں