ہوم   >  بلاگز

چاند، چندریان اور چاندنی

1 month ago

چاندنی سری نگر کے گرلز کالج میں تھرڈ ائیر کی طالبہ ہے۔میرا اور اس کا رابطہ دو سال قبل ہوا تھا جب وہ گلمرگ سے مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے سری نگر میں مقیم تھی۔مختلف جگہوں پر میرے مضامین کے ذریعے اس کا اور میرا تعارف تھا،تاہم بعد ازاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کبھی کبھار ہماری بات ہوجاتی تھی۔رواں سال وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے آبائی علاقے میں گئی تھی۔ جہاں ہمارا رابطہ انتہائی کم ہوتا۔میرے اور چاندنی کے علاقے گو کہ ایک دوسرے سے متصل ہیں۔بھیڈوری پہاڑ کے ایک جانب چاندنی کا گھر ہے جبکہ اسی پہاڑ کے دامن میں میرا آبائی قصبہ ہے۔گلمرگ میں ہماری آبائی زمین بھی ہے جو کہ آج کل ہندوستانی فوج کے قبضے میں ہے۔ بھیڈوری پہاڑ کے علاوہ ہمارے بیچ جو سب سے خطرناک چیز حائل ہے وہ لائن آف کنٹرول کی خونی لکیر ہے جسے عبور کرنے کا خواب لئے میرے اور چاندنی کے آباؤ اجداد خاک میں جا بسے، نہ ان کی زندگی نے ان کا ساتھ دیا اور نہ ہی ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکا۔

  پانچ اگست کے بعد جہاں مقبوضہ وادی میں موجود دوستوں اور رشتہ داروں کے حوالے سے پریشان تھا، وہیں معصوم چاندنی سے گلمرگ کی وادیوں کے حالات جاننے کیلئے بھی بے تاب تھا۔ کرفیو ، چھاپوں اور ٹارچر کی خبریں وادی سے مسلسل آرہی تھیں، مگر اوڑی اور گلمرگ میں لوگوں تک رسائی نہیں ہو پا رہی تھی۔ بھارت کے مشن چندریان کی خبروں کے دوران ہی واٹس ایپ پر چاندنی کا پیغام ملا، پیغام تھا کہ بھیڈوری کے عقب میں ڈوبتے چاند، سنو پیر پنجال کے پہاڑوں سے آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔ جیل بنی یہ وادی ایک دن ہٹلر کے تسلط کی بیڑیوں سے ضرور چھٹکارہ پائے گی۔ یاد رکھو!یہاں کے چنار اور صنوبر کے درخت جو ہزاروں شہیدوں کے بہیمانہ قتل کے شاہد ہیں ، ضرور بولیں گے، تبھی گلمرگ کے زعفران کی خوشبو پوری وادی میں پھیلے گی۔ پھر وادی کے ہر پہاڑ اور گھاٹی میں یہی چاندنی راج کرے گی۔ پھر بھارتی جبر کے اندھیروں کو کہیں چھپنے کو جگہ میسر نہیں آئے گی۔

چاندنی کا میسج ملتے ہی فوری اس کا جواب دیا ، کیونکہ میں اپنے پڑوس کی وادی کے حالات جاننے کو بے تاب تھا۔ چاندنی ایک ماہ گلمرگ میں رہنے کے بعد احمد آباد اپنے بھائی کے پاس پہنچی تھی، چاندنی کے مطابق گلمرگ وادی کے دیگر علاقوں کی نسبت حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ بھارتی فوج کبھی بھی اور کسی بھی وقت عام شہریوں کو گھروں سے اٹھا لیتی ہے۔تشدد کے نت نئے طریقے آزمائے جاتے ہیں۔ بھارتی فوجی کیمپوں اور عقوبت خانوں سے کشمیری نوجوانوں کی چیخیں ساری وادی میں گونج رہی ہیں۔ اس وقت علاقے میں سیب ، اخروٹ اور مکئی کی فصلیں تیار ہیں جو کہ مسلسل خراب ہورہی ہیں ،لوگوں کا ذریعہ معاش یہی فصلیں ہیں جس کی مطلوبہ مقدار حاصل نہ ہونے پر وادی کے کسان بڑے معاشی نقصان کا سامنا کر سکتے ہیں۔

چاندنی نے مودی کےمشن چاند یاترا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر کی سینکڑوں مائیں اپنے چاند سے بیٹوں کے مُکھڑے دیکھنے کو بے تاب ہیں۔ انہیں احساس ہوا کہ جب امید اور یاس کی ڈوری ٹوٹ جاتی ہے تو زندگی کتنی کٹھن ہوجاتی ہے۔ انہیں شاید
علم ہوگیا ہوگا کہ سگنل بند ہونے ، رابطے کٹ جانے سے تکلیف کیسی ہوتی ہے۔ چندریان مشن کے سائنس دان کو دلاسے دینے ، اس کے کندھے پر تھپکی دینے اور اس کی پیٹھ سہلانے کو تو وزیراعظم آگے بڑھ گئے،اسے کھینچ کر گلے سے لگایا  مگر دہلی سے کچھ فاصلے پر زندہ انسان ہیں جن کا رابطہ اپنے پیاروں سے خود مودی جی نے کاٹ دیا ہے۔ جن کی امیدوں کا ریمورٹ کنٹرول بھارتی وزیر اعظم کے ہاتھ میں ہے ۔مگر وہ نازی ذہنیت اور روایتی ہٹ دھرمی کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں انہیں کیسے خبر ہوگی کہ ان کا یہ بہیمانہ قدم بھارت کیلئے چندریان مشن کی ناکامی سے زیادہ خطرناک ہوچکا ہے۔

مقبوضہ وادی کے چنار سبزتھے جب مودی کے نازی عفریت کے اندھیرے نے ان پر قبضہ کیا تھا ،اب وہ چنار سنہری ہوچکے ہیں۔چناروں کی اس زردی میں وادی میں دھکتے لاوے کی سرسراہٹ واضح سنائی دے رہی ہے۔ یہ لاوا گلیشیر بننے والے برف کے ان نازک گولوں کی مانند بن چکا ہے،جو اپنے رستے میں آنے والے پربتوں کو بھی ریت بنا کر ہواؤں میں اڑا دیتا ہے۔ گلمرگ سے جموں اور سری نگر سے لداخ تک وادی کے گہرے سکوت میں ایک آتش فشاں ابل پڑا ہے،جس کی آگ 9لاکھ بھارتی فوجیوں کو راکھ بنادے گی۔ کشمیر کے پیر و جواں ، بچے اور مستورات نازی جبر کی زنجیروں کو توڑ دینے کیلئے بیتاب ہیں۔ رات کو جب چکور چاند کی جانب محو پرواز ہوتا ہے ، عین اسی لمحے وادی کی مائیں اپنے بچوں کو درس حریت دے رہی ہوتی ہیں۔ بہنیں اپنے بھائیوں کے لاڈ اس شرط پر اٹھا رہی ہوتی ہیں کہ وہ جنت نظیر کو شیطانی چنگل سے نجات دلا ئے گا۔ بھائی اور بیٹے آسمان کے تاروں کو تکتے ہوئے اور چاند کی چمک سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ عہد کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ بھارتی جبر کا مقابلہ کریں گے۔کشمیریوں کا جذبہ آزادی زعفرانی پھولوں کی مانند اس وقت پورے جوبن پر ہے۔ انہیں اب روایتی ہتھکنڈوں ، چالوں اور نت نئے فریب کے ذریعے رام نہیں کیا جاسکتا۔

چاندنی کے لہجے میں ظاہر نیلم اور جہلم کے پانیوں کی مانند ٹھنڈک تھی ،لیکن ان دریاؤں کی لہروں کی طرح اس کی باتوں میں مجھے اٹھان اور بغاوت دکھائی دی۔ اس کی باتیں آنے والے دور سے اقوام عالم کو خبردار کر رہی تھیں کہ اگر انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا نہیں کیا تو کشمیر سے اٹھنے والا سونامی ساری دنیا کو بہا کر لے جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ انصاف کے پہرہ دار، امن کے ٹھیکے دار، انسانی حقوق کے چوکیدار سبھی مل کر اس انسانی المیے کے حل کیلئے کردار ادا کریں اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوائیں تاکہ دنیا میں امن کا اجالا پھیل سکے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں