ہوم   >  بلاگز

نئے پاکستان پر یوٹرن کے اثرات

2 weeks ago

الیکشن سے قبل دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں عوام کی توجہ اور اقتدار کے حصول کےلیے طرح طرح کے سہانے خواب دکھاتی ہیں جبکہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ اقتدار میں آنے سے قبل پاکستان تحریک انصاف نے عوام کو کرپشن فری معاشرہ، مہنگائی کے جن پر قابو اور انصاف کی فراہمی کا وعدہ کیا۔ وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد اپنی کئی تقریروں میں ریاست مدینہ کا حوالہ دیتے ہوئے فلاحی مملکت خداداد کے قیام کےلیے خاصے پرجوش نظر آتے ہیں لیکن حقائق بالکل برعکس ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک حالیہ خطاب میں کہا کہ لوگ کہتے ہیں آپ یوٹرن لیتے ہیں لیکن یوٹرن لیتے لیتے وزیراعظم بن گیا ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں اپنے ویژن سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ وزیراعظم پاکستان کا خطاب سننے کے بعد شدید پریشانی اور اضطراب کا شکار ہوں کہ کیا ان کا ویژن یوٹرن لینا ہے جس پر وہ سمجھوتا نہیں کرسکتے۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ کپتان کے عوام سے کیے گئے تمام وعدے صرف اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ تھے۔ کیا نئے پاکستان اور ریاست مدینہ کے دعوؤں پر بھی یوٹرن ممکن ہے؟ ویسے پاکستان میں کچھ بھی ناممکن نہیں لیکن اگر ایسا ہوا تو پاکستانی قوم کی امیدیں دم توڑ جائیں گی۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد تمام ادارے اور وزراء اپنی اپنی کارکردگی قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ اگر معیشت کا جائزہ لیا جائے تو آئی ایم ایف سمیت دیگر اداروں اور ممالک سے لیے گئے قرضوں کے باوجود صورتحال جوں کی توں موجود ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کا زرمبادلہ 15 ارب ڈالر ہے۔ گزشتہ ایک سال میں مہنگائی کی شرح میں 3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ  ڈالر کی قدر میں 53 روپے اضافہ ہوا۔ کرنسی ڈی ویلیوایشن سے اسٹیٹ بینک کے منافع میں 300 ارب کا اضافہ ہوا لیکن وہیں  ڈالر کی اونچی اڑان سے گزشتہ ایک سال کے دوران بیرونی قرضوں میں 8500 ارب روپے اضافہ بھی دیکھنے کو ملا۔ گزشتہ ایک سال میں ملک کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 34.45 کھرب روپے رہا جوکہ 1970 کے بعد قومی خزانے کو لگنے والاسب سے بڑا جھٹکا ہے۔

صنعتیں جوکہ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ٹیکس ریونیو کا سب سے بڑا ذریعہ بھی سمجھی جاتی ہیں، انٹرسٹ ریٹ، ڈی ویلیو ایشن اور ٹیکس کی بھرمار کے باعث ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ غیر ملکی کمپنیاں ٹیکسوں کی بھرمار کے باعث پاکستان میں موجود اپنے پلانٹس بند کرنے پر مجبور ہیں۔ سابق وزیر خزانہ اور پی ٹی آئی کے تھنک ٹینک اسد عمر نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ آنے والے چند ماہ میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا۔ پی ٹی آئی قیادت گزشتہ حکومت کو موجودہ معاشی بحران کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی ہے کہ (ن) لیگی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور کرپشن کے باعث حالات اس نہج پر پہنچے ہیں۔ سابقہ حکومت کے دور اقتدار میں 53 ہزار پوائنٹس کی بلندی کو چھونے والی مارکیٹ اچانک 20 ہزار پر کیسے آ گئی؟ کیا اس کے پیچھے بھی (ن) لیگی قیادت کی حکمت عملی ہے؟

نئے پاکستان میں پرانے پاکستان کے تمام حربے اپنائے جا رہے ہیں۔ ایک سال پہلے نئے پاکستان کا خواب دکھا کر الیکشن میں کامیابی حاصل کی گئی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان کی ساری توجہ معیشت کے بجائے اپوزیشن جماعتو ں پر الزامات عائد کرنے پر مرکوز ہوگئی۔ اگر پی ٹی آئی قیادت عوام سے لی گئی مہلت کے دوران سیاسی بیانات کے بجائے اپنے دعوؤں کو عملی شکل دینے کی کوشش کرتی توعوام کی توقعات مایوسی میں ہرگز تبدیل نہ ہوتیں۔ پی ٹی آئی قیادت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد عوام کو ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنے زیادہ ٹیکسوں کے جھٹکے برداشت کرنا پڑے اور ہوسکتا ہے آنے والے چند ماہ میں ان جھٹکوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے۔ پی ٹی نے ٹیکس کی تلوار سے لنڈے پر بھی 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگا دی ہے جو کہ معاشرے کے نچلے طبقے کے لیے سراسر ناانصافی ہے۔

مجھ سمیت کروڑوں پاکستانی کافی پرامید تھے جب وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ حکومتی اخراجات میں کمی لائی جائے گی جبکہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی سستی شہرت حاصل کرنے والی تمام پالیسیوں کا قلع قمع کیا جائے گا۔ سرکاری اشتہارات پر کسی حکومتی رہنما کی تصویر شائع نہیں کی جائے گی لیکن ناجانے کن مجبوریوں کے باعث حکمران جماعت کا ان شوبازیوں سے  دور رہنا محال ہے۔ رمضان بازار کی ریٹ لسٹ، کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد اور بیت المال کی جانب سے امدادی رقوم کے علاوہ دیگر حکومتی سرگرمیوں کےلیے بنائے گئے پوسٹرز اور اخباری اشتہاروں پر پنجاب کے وسیم اکرم کی تصاویر پی ٹی آئی قیادت کے دعوؤں کی نفی ہے۔

قومی بچت مہم کے تحت وزیر اعظم ہاؤس کی گاڑیوں اور بھینسوں کی نیلامی بھی کی گئی لیکن گزشتہ دنوں خبر رساں ادارے  نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ موجودہ حکومت کے ذمہ بجلی کی مد میں 34,787,414 روپے واجب الادا ہیں۔ حکومت کی جانب سے شعبہ صحت میں کی گئی اصلاحات صرف اخباری سرخیوں تک محدود ہیں جبکہ اسپتال میں آئے مریضوں کے مسائل اجاگر کرنے پر انتظامیہ کو میڈیا کےخلاف سخت ایکشن لینے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

پنجاب میں 9 نئی یونیورسٹیاں قائم کی جا رہی ہیں اور اس مقصد کو پورا کرنے کےلیے صاحب اقتدار طبقے نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایات جاری کی ہیں کہ سرکاری جامعات کے فنڈز میں 30 فیصد کمی کی جائے۔ اس سے قبل حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں اسکالرشپ بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ تبدیلی سرکار کی جانب سے پرانے تعلیمی اداروں کے فنڈز میں کمی کرکے نئی جامعات کی منظوری تو دے دی گئی ہے لیکن وہاں سے تعلیم مکمل کرنے والے لاکھوں طلباء کے مستقبل کے لیے کوئی پلاننگ نہیں کی جا رہی۔

اگر حکمران طبقہ عوام سے کیے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو جائے اور میڈیا پر چیخ چیخ کر اپنے دعوؤں سے لاتعلقی ظاہر کرنے میں فخر محسوس کرے تو اس معاشرے میں ناامیدی اور مایوسی پھیلنا عام فہم بات ہے۔ حکومتِ وقت کو موجودہ حالات میں جذباتی فیصلوں اور جوشیلے نعروں کے بجائے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے معاشی حالات بہتر ہوسکیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
2 hours ago
3 hours ago
4 hours ago
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں