Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

شعبہ تعلیم کا انتخاب اور ہمارا معاشرہ

SAMAA | - Posted: Aug 29, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 29, 2019 | Last Updated: 2 years ago

موسم گرما کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد ملک بھر میں تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں۔ میڑک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحان سے فارغ التحصیل طلباء کالجز اور جامعات میں داخلہ لینے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ اچھے مستقبل کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے والدین کی جانب سے بچوں کو میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبہ جات میں داخلہ دلوانے کی سرتوڑ کوشش کی جا رہی ہے  جبکہ ان کی امیدوں اور خوابوں کو پورا کر نے کےلیے پرائیوٹ کالجز کی جانب سے تحریک بھی اپنے عروج پر ہے۔ علم کے یہ بیوپاری شہر شہر گاؤں گاؤں اپنا چورن بیچنے میں مصروف عمل ہیں۔

کامیاب مگر سکون بھری زندگی ہر انسان کی بنیادی خواہش ہوتی ہے۔ کامیابی اور ترقی کو حاصل کرنے کے کئی راستے ہو سکتے ہیں لیکن زندگی کے مختلف مراحل سے گزرنے اور اپنی صلاحیتوں کو منوانے کےلیے معلومات کا ذخیرہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اسی لیے تعلیم کو اس معاملے میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تعلیمی شعبے کا انتخاب زندگی کا انتہائی اہم فیصلہ ہوتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ پاکستان میں نوجوان نسل کی تعلیم پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد والدین کی حتیٰ المکان کوشش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد ڈاکٹر یا انجینئر بنے جس کے لیے محدود وسائل ہونے کے باوجود پرائیوٹ کالجز اور اکیڈمیوں کی بھاری فیسوں اور دیگر اخراجات کو برداشت کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں میڈیکل یا انجینئرنگ کے علاوہ  دیگر شعبوں کو فضول اور بے معنی سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے بعد کیرئیر کی منصوبہ بندی کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔ چند تعلیمی اداروں نے کونسلرز کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جبکہ باقی معاشرہ اس سے بلکل لا علم ہے۔ کیریئر پلاننگ میں اس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ طالب علم کی ترجیحات کیا ہیں اور وہ کس شعبے یا مضمون میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ کیرئیر کونسلنگ کے چند اصولوں پر عمل کرتے ہوئے طلباء یا والدین خود بھی جائزہ لے سکتے ہیں کہ کون سا شعبہ ان کے لیے فائدہ مند ہے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کی ذہنی صلاحیتوں کا بھرپور جائزہ لیں جس کےلیے ’آئی کیو‘ ٹیسٹ انتہائی ضروری ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے ذہنی صلاحیتوں کو سائنسی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ طالب علم مطلوبہ شعبے میں جانے کی بنیادی قابلیت رکھتا ہے یا نہیں۔ والدین کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچے کی ذہنی صلاحیت کتنی ہے۔ اس معاملے میں خود کو دھوکے میں رکھنے کے بجائے حقیقت پسند ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اکثر والدین اپنی اولاد کو دیگر بچوں سے ممتاز رکھنے کے لیے ڈھینگیں مارتے رہتے ہیں جس کے باعث ان کے بچوں کی زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ طالب علم کی ذاتی دلچسپی کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔ جیسا کہ تحریر کے آغاز میں ذکر کیا گیا ہے کہ والدین اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے زور و زبردستی سے مختلف شعبوں کا انتخاب کرواتے ہیں۔ انسان کی فطرت ہے کہ جس کام میں اس کی مرضی نہ ہو وہ کبھی بھی صیح طریقے سے پورا نہیں ہو سکتا۔ اگر زبردستی کام کروا بھی لیا جائے، تو بھی اس میں وہ نفاست نہیں ہوگی جو دلچسپی سے کرنے پر آتی ہے۔ والدین کی جانب سے بچوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے کئی منفی نتائج سامنے آتے ہیں۔ میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلہ لینے والے کئی بچے ذہنی دباؤ کے باعث تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دے پاتے اور ناکامی کی صورت میں خودکشی سمیت دیگر کئی جرائم کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔ تعلیمی کیریئر کے انتخاب میں طلباء کے شوق، مرضی اور دلچسپی کا خیال رکھنا چاہیے ورنہ ان کی تمام محنت ضائع ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ عملی زندگی میں ناکامی کی بڑی وجہ ایسے شعبے سے وابستگی ہے جس میں دلچسپی کے بغیر کام کرنا پڑے۔ اکثر اوقات روپے کی ریل پیل ہونے کے باوجود  بھی سکون نصیب نہیں ہوتا کیونکہ خوشی کا تعلق روپے سے نہیں بلکہ ذہنی سکون سے ہے۔

ہر گاؤں یا محلے میں کئی ایسے خاندان ہیں جن کی کوشش صرف اور صرف اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے کی ہوتی ہے۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات میڈیکل کالجز میں داخلے کےلیے امتحانات دیتے ہیں جبکہ سرکاری میڈیکل کالجز میں سیٹوں کی تعداد انتہائی محدود ہے۔ والدین اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے ہر حد تک جانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب سرکاری کالجز میں داخلہ نہیں ملتا تو پرائیوٹ اداروں کا رخ کر لیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ڈاکٹر بننے کے بعد لاکھو ں روپے تنخواہ ہوتی ہے اس لیے جذبات، خواہشات کے ساتھ ساتھ اپنی عزت برقرار رکھنے میں قرضوں کا سہارا لیا جاتا ہے جو کہ بعد میں سنگین مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ واضح رہے میڈیکل کے شعبے میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی اتنی ہی محنت کی ضرورت ہوتی ہے جتنی کے کسی دیگر شعبے میں۔ اس لیے خوابوں کی دنیا سے باہر نکل کر حقیقت پسندی کو اپنایئے اور اپنے یا اپنے بچے کے لیے کسی بھی کورس کا انتخاب کرتے وقت معاشی حالات کو مدِ نظر رکھیئے۔

ہمارے ہاں اکثر طالب علموں اور ان کے والدین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس وقت کون کون سے تعلیمی شعبہ جات میں وہ داخلہ لے سکتے ہیں۔ عمومی طور پر ایف ایس سی پری میڈیکل کرنے  کے خواہشمند طلباء اس کے بعد مزید شعبہ جات سے لاعلم ہوتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان میں ایم بی بی ایس/بی ڈی ایس کے علاوہ فارمیسی، ویٹرنری، میڈیکل سائنسز، بائیو میڈیکل، کیمیکل میڈیکل، ایگریکلچرل، مائیکرو بائیولوجی،سائیکاٹری، سائیکولوجی، فزیوتھیراپی وغیرہ کے شعبہ جات میں تعلیم اور روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

پاکستان میں تعلیم کا مقصد سرکاری نوکری کا حصول ہے کیونکہ کام کا بوجھ نہیں ہوتا اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن بھی وصول ہوتی رہتی ہے۔ مغربی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد طلباء کا پورا دھیان اپنا کاروبار شروع کرنے کی جانب ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں تعلیم سے فارغ التحصیل نوجوان سارا وقت انٹرنیٹ پر نوکریوں کی تلاش اور حکومت کو کوسنے میں گزار دیتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں نوجوان نسل کےلیے نوکری کا حصول سب سے زیادہ پریشان کن صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ اس مشکل پر قابو پانے کےلیے ہر شہر میں کئی سرکاری کالجز ٹیکنیکل ایجوکیشن پر بھی کام کر رہے ہیں جہاں پر طلباء کو  سائنسی بنیادوں پر روزمرہ زندگی کے کام سرانجام دینے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اگر والدین دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو ٹیکنیکل تعلیم کی جانب راغب کریں تو باعزت روزگار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں درپیش دیگر کئی مسائل پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ پاکستانی قوم کا المیہ ہے کہ اگر کوئی نیا شعبہ متعارف کروایا جاتا ہے تو کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی لیکن اگر کسی عزیز کی اولاد کو اسی شعبے میں کامیابی ملتی ہے تو  پورے خاندان کا جھکاؤ اسی جانب ہو جاتا ہے۔

بہترین تعلیمی شعبے کا انتخاب ہر طالب علم کے لیے سب سے اہم فیصلہ ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اپنی شخصیت، صلاحیت، خواہش، ذہنی استعداد، مالی وسائل اور اپنی عملی ضروریات کو  پیش نظر رکھتے ہوئے شعبے کا انتخاب کرے چونکہ معاشرے کے ہر فرد کی ضروریات اور مسائل مختلف ہیں، چنانچہ ہوسکتا ہے کہ ایک شعبہ ایک طالب علم کے لیے فائدہ مند جبکہ دوسرے طالب علم کےلیے پریشان کن ثابت ہو۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube