ہوم   >  بلاگز

مسز خان، آپ کی سوچ کو سلام

4 weeks ago

مسز خان ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ ان کی اس ’’مشہوری‘‘ کے پس پردہ مارننگ شوز ہیں جن کا زور آج کل تو ٹوٹ چکا ہے لیکن کبھی گھر بیٹھی بیشتر خواتین کی صبح میں گلشن کی ساری بہاریں وہ اپنے دم سے ہی آباد کرتی تھیں۔ مسزخان رشتے کرواتی ہیں اور مارننگ شوز میں انہیں بطور خاص اس لیے بلایا جاتا تھا یا ہے کہ وہ سماجی مسائل پر ’’گہری نظر‘‘ ڈالتے ہوئے رشتے بننے اور ٹوٹنے کے اسباب پر اپنی قیمتی رائے سے ’’ناقص العقل عوام ‘‘ کو فیض یاب کرسکیں۔

پیشے کے اعتبار سے ’’رشتوں کا بزنس‘‘ کرنے والی مسز خان میرج بیورو کے نام سے سوشل میڈیا پر ایک پیج چلاتی ہیں اور’’یو کے ، یو ایس بیسڈ ، ہائی لی کوالیفائیڈ، انجینئر ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر‘‘ کے ٹیگز سمیت آمدنی میں اضافے کے سارے گرآزماتی ہیں ۔ حالیہ دنوں میں انہی مسز خان کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں وہ ایک مارننگ شو میں بیٹھی اپنی ’’ للّو‘‘ کے جوہر دکھاتے ہوئے موجودہ  دور کی لڑکیوں کی شان میں شدید گستاخی کرتے ہوئے سارا زور اس بات کو ثابت کرنے پرلگارہی ہیں کہ گھر ٹوٹنے کی واحد وجہ آج کی عورت ہے۔

ویڈیو دیکھ کرشاک لگا، دوبارہ دیکھی توبھی کم وبیش یہی حالت تھی، سہ بارہ میں کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا اور چوتھی باردیکھ کر نتیجہ اخذ کرہی لیا کہ محترمہ کا مسئلہ کیا ہے۔ فیثا غورث سے بھی زیادہ ’’پیچیدہ ‘‘ اس مسئلے کے اسباب میں سرفہرست عناصر کمپلیکس یعنی احساس کمتری اور بیچارگی کی حد تک ذہنی پسماندگی ہے۔ اس کے علاوہ دوسروں پرحاوی ہونا، خود کو نمایاں رکھنے کا شوق، رعب جمانے کیلئے انگریزی کا تڑکا اور کسی کی نہ سننا بھی اس ہانڈی کے دیگرلوازمات میں شامل ہیں۔

محترمہ کے استعمال کیے جانے والے الفاظ سن کرکسی بھی باشعورعورت تو کیامرد کا بھی خون کھول سکتا ہے۔ ان کے فرمودات کے اہم نکات یہ ہیں۔۔۔

عورتیں ’’ للّو‘‘ کو کنٹرول میں رکھیں۔ ( یہ گوشت کی بنی للّوصرف عورتوں کے پاس ہوتی ہے نہ جیسے ، باقیوں پر اسے کنٹرول میں رکھنا حرام ہے )۔

منہ زورعورتیں شوہروں کے گھر آتے ہی جوتے کپڑے طریقے سے رکھیں۔ ( یہی کام کوئی عورت مرد سے کہہ دے تو ساس نے جو کہ خود ایک عورت ہے وہ جوتا اپنے بیٹے کی عورت کے سر پر بجانا ہے )۔

جب شوہر گھر آئے توا چڑھا ہوتا کہ گرم گرم روٹی پکائیں ( ویڈیو میں اس جملے پر مسزخان کا کرتب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے )۔ چلو توا چڑھانے میں مضائقہ نہیں لیکن اس صورت میں کیا جب عورت خود بھی مرد کے ساتھ ہی گھر میں داخل ہو اور تھکی ہاری آٹا گوندھنے کے بعد  ’’ٹھنڈ توا‘‘ چڑھائے جسے گرم ہونے میں تھوڑا وقت لگتا ہے؟؟؟۔

غلطی ہر معاملے میں عورت کی ہوتی ہے، ٹی وی دیکھ کر اونچا اونچا منہ کھولتی ہیں ۔ ( ہاں گھریلو تشدد کے ان گنت کیسز میں عورتیں خود غلطی کرکے خود ہی اپنے بال موںڈ لیتی ہیں، زبانیں کاٹ لیتی ہیں، اپنے جسم پر تیزاب گرا لیتی ہیں اورحد تو یہ کہ خود کو خود ہی قتل بھی کر لیتی ہیں۔ محترمہ اسی ٹی وی کے دم سے آپ کو جاننے لگے ہیں ہم ، یہ اتنی ہی غلط ہے تو اس پرآتی کیوں ہیں؟؟؟) ۔

کون سے منسٹر یا گورنرکی بیٹی ہوجو کام نہیں کرنا کیسے بڑی ہوئی ہو؟ کون کما کے لاتا تھا؟ جو رولز تمہارے گھر میں تھے وہی سسرال میں اپلائی ہوں گے ۔ (  ہیں ؟؟؟ مطلب گورنر یا منسٹر کی بیٹی پر گھر بسانے کے یہ سنہرے اصول لاگو نہیں ہوتے۔۔۔ اوہ وی مینگو پیپلز آرسپوزڈ ٹوڈو سچ تھنگز ؟؟ اوکے اوکے ۔۔ کماتی توعورتیں بھی ہیں پیاری مسز خان اور کاش کہ ماں کے گھرجیسا سلوک ہرسسرال میں ہونے لگے اور وہی رولز اپلائی ہوجائیں تو دنیا جنت نہ بن جائے ؟؟؟)۔

جب تک آپ پراپرعورت نہ ہوں شادی مت کریں۔۔۔ ( کہنا کیا چاہ رہی ہیں محترمہ؟ اپنی چھوٹی سوچ سے لفظ عورت کو گالی مت بنائیں۔۔ کیا ’’پراپر عورت ‘‘ صرف وہ ہوگی جو سسرال کی خدمت کرکے مرجائے لیکن بدلے میں کسی صلے کی توقع نہ رکھے ۔۔۔ ان عورتوں کو کس کیٹگری میں رکھیں گی جو ایمانداری سے اپنی ذمہ داری نبھائیں لیکن ظلم وزیادتی کے خلاف آواز بلند کرنا آتا ہو اورایسا کرلیں تو انہیں معتوب ٹھہرایا جائے ؟؟ )۔

چوہدرانی بن کربیٹھیں گی اورکہیں گی میں صرف شوہرکا کام کروں گی۔ کام کرو ورنہ گھرسے باہرنکلو ( آپ کی سوچ پر آخ تھو۔۔۔۔ اسی معاشرے میں متعدد ایسی عورتیں بھی بستی ہیں جو کام کر کر کے مر جاتی ہیں لیکن ان کے نکھٹو شوہر پھر بھی انہیں خود گھر سے نکال دیتے ہیں۔ تصویر کو دوسرا رخ دیکھنے کی زحمت کریں)۔

منہ بند کرکے رکھو، چاہے غریب گھر کی ہوں چاہے مڈل کلاس کی ہوں ( ذہنی پسماندگی کی ایک اور مثال۔۔۔ یہاں صحیح معنوں میں ان کا احساس کمتری جھلکتا ہے جب یہ اپنے ہی دعوے کی نفی کرتے ہوئے عورت کو طبقات میں تقسیم کرتی ہیں)۔

میری ماسی اپنے شوہرکوسناتی ہے۔۔۔ وہ میرے کک کو سنا کرچلی جاتی ہے اور وہ چپ کرکےسنتا رہتا ہے۔ ( تعجب ہے آپ کے گھر میں ماسی کا کیا کام؟؟؟  کیا آپ خود ، آپ کی بیٹٰی یا آپ کی بہو عورت نہیں؟ اور جب آپ کے شوہر گھر آتے ہیں تو گرم توا ماسی کا شوہر یعنی آپ کا ’’کک ‘‘ چڑھاتا ہے؟؟ ہا ہائے۔۔۔  اسے کہتے ہیں دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فصیحت یو پوورمسزخان ، مشہوری کے شوق اور عورتوں کا ناصح بننے کے شوق نے آپ کو کہیں کا نہیں رکھا )۔

نہ جانے کس بات نے مسز خان کو عورت کا شدید مخالف بنا رکھا ہے لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ وہ سوچ کے در وا کرتے ہوئے یہ جان لیں کہ آج اور کل سے کچھ نہیں بدلا عورت کل بھی عورت تھی اور آج بھی عورت ہی ہے ۔۔۔ ’’عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے ‘‘ جیسا مقولہ سچ ثابت کرنے کے بجائے مان لیں کہ عورت کو عزت و تکریم چاہیے ہوتی ہے۔ عورت مرد کے شانہ بشانہ چلتی ہے ، پیشہ ورانہ فرائض کے بعد گھرکی ذمہ داریوں میں بھی اس کا ہاتھ بٹاتی ہے ۔۔۔ اس کے بچوں کی تربیت کرتی ہے تو کیا وہ تھکتی نہیں؟؟ اسے غصہ نہیں آسکتا؟؟ اس کے پاس بھی وہی دل و دماغ ہے جو مردوں کے پاس ہوتا ہے توکیا وہ اپنے جائز حقوق نہیں مانگ سکتی ؟؟ طریقے سے اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنا عورت کا حق ہے۔ مذہب نے عورت کو جتنے حقوق دیے ہیں ، اگر مرد وہ پورے کرلے تو معاشرتی مسائل سامنے ہی نہ آئیں۔ لیکن شاید یہ آپ جیسی عورتیں ہی ہیں جو مردوں کو شہہ دیتی ہیں کہ بیٹا تو صحیح ہے اور تیری بیوی غلط ۔

کاش آپ عورت کیلئے وقت کی فرعون بننے کے بجائے انہیں یہ سبق دیں کہ اپنے بیٹوں کی بہت اچھی تربیت کرو کیونکہ کل کو اس نے کسی کی بیٹی کی قسمت کا مالک بننا ہے۔ جو اپنی بیٹیوں کیلئے خواہش رکھو کسی کی بیٹی کیلئے بھی اس پر عمل کرنا سکھاؤ ۔۔۔  اسے سکھاؤ کہ عورت ہی ہے جس نے تمہیں جنم دیا تھا اور عورت ہی ہے جو تمہاری بہن ہے تو پھر بیوی بھی ایک عورت ہے بیٹا جس کا بہت خیال رکھو کیونکہ اس کے نازک احساسات کی اچھی آبیاری کروگے تو بدلے میں وہ تمہاری نسلیں سنواردے گی۔۔ مسز خان ۔۔ آپ بھی ’’عورت کو عزت دے کر تو دیکھیں ‘‘۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں