ہوم   >  بلاگز

مسئلہ کشمیر کا حل، سفارتی جنگ یا معاشی استحکام؟

4 weeks ago

مودی سرکار کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد نہ صرف پوری پاکستانی قوم نے رواں سال یوم آزادی کو یوم یکجہتی ِکشمیر کے طور پر منایا بلکہ حکومت کی جانب سے مودی سرکار کے خلاف سفارتی جنگ لڑنے کے فیصلے کے بعد کئی سالوں بعد یہ مسئلہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ پاکستانی قیادت نے عالمی سطح پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں مؤقف اپنایا کہ انڈیا کی جانب کشمیر میں مظالم کا نہ صرف نوٹس لے بلکہ اس عالمی مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے حل کیا جائے۔ وزیر خارجہ کی جانب سے لکھے جانے والے خط پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے ممالک کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے ساتھ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد چینی مندوب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک غیر حل شدہ اور متنازعہ معاملہ ہے، اس لیے دونوں ممالک یکطرفہ فیصلے کرنے سے گریز کریں۔

کشمیر کی صورتحال پر بلائے گئے مشاورتی اجلاس کو پاکستان اور انڈیا دونوں ہی اپنی اپنی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک بین الااقوامی مسئلہ ہے اور سلامتی کونسل نے بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی مندوب سید اکبر الدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اجلاس کے دوران کسی بھی ملک نے بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی یہ مؤقف اپنایا گیا کہ کشمیر انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جو بھی مسائل ہیں وہ شملہ معاہدے کے تحت ہی حل کیے جائیں۔ اب کشمیر میں حالات بتدریج معمول پر آتے جا رہے ہیں اور ان کے بقول سلامتی کونسل نے بھی اجلاس میں اس سلسلے میں اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر عالمی دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے جوکہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔ اگر اس پورے معاملے کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی سفارتی جیت صرف اسی حوالے سے ہے کہ بھارت کی پرزور کوششوں کے باوجود مسئلہ کشمیر کو بین الااقوامی فورم پر اٹھایا گیا لیکن پاکستان کی حقیقی کامیابی اُس وقت ہوگی جب سلامتی کونسل کے باضابطہ اجلاس میں کشمیر کے مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ بحث اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کروایا جائے گا۔

اگر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے مؤقف کا جائزہ لیا جائے تو صرف چین نے کھل کر پاکستان کے مؤقف کی تائید کی  ہے جبکہ فرانس کی جانب سے اس معاملے میں سرد روی دیکھنے کو ملی ہے۔ اس کے علاوہ غیر مستقل ارکان کی جانب سے بھی زیادہ مثبت ردعمل  نہیں ملا۔

مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا دروازہ کھٹکھٹانے سے قبل پاکستان کی جانب سے دوست ممالک کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان کے انتہائی قریبی اور اہم دوست ملک متحدہ عرب امارات کی جانب سے انتہائی حیران کن ردعمل سامنے آیا۔ یو اے ای کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے نہ صرف پاکستانی مؤقف کی مخالفت کی گئی بلکہ معاملے کو ختم کرنے کے لیے تجاویز بھی دیں گئیں۔ سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں ہونے والی بحث کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحدہ عرب امارات نے بھارتی وزیر اعظم کو اعلیٰ شہری ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ متحدہ عرب امارت کا جھکاؤ مودی سرکار کی جانب ہونے کی بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے بھارت میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کی گئی ہے اس لیے مسئلہ کشمیر پر مودی سرکار کو للکار نے کے بجائے پاکستان کو خطے میں امن برقرار رکھنے کی تنبیہ کی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں تعینات پاکستانیوں کے سفیر ولی عہد کی ہی مثال لے لیجیے۔ پاکستانی حکام نے احتجاج کے طور پر مودی حکومت کے ساتھ تجارت معطل کی تو سعودی آئل کمپنی ’’امارکو‘‘ نے   بھارتی کمپنی ریلائینس کے 20 فیصد شئیرز خرید کو مودی سرکار کی پریشانیوں کو نہ صرف حل کیا بلکہ بھارتی معیشت کو بھی چار چاند لگا دیئے۔ حکومت پاکستان کشمیریوں کے ساتھ نہ صرف یکجہتی کا اظہار کر رہی ہے بلکہ سفارتی سطح پر اس معاملے کو اٹھانے کی ہر ممکن کوشش بھی کر رہی ہے۔ سلامتی کونسل کے بعد پاکستانی قیادت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اگر سکے کا دوسرے رخ کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اس معاشی صورتحال میں ملکی قیادت کی جانب سے عالمی دنیا پر اثر و رسوخ  انتہائی مشکل ہے۔ پاکستان کی کمزور معیشت کشمیریوں کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ پاکستان کو اپنی معاشی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے سفارتی حکمت عملی بنانا ہوگی۔ پاکستان معیشت پر آئی ایم ایف سمیت کئی ممالک اور عالمی بینکوں کے قرضوں کا بوجھ ہے، اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار بھی لٹک رہی ہے۔ اس لیے پاکستانی قوم کو موجودہ صورتحال میں عالمی دنیا سے انصاف کی توقع ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔

سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس سے پوری قوم نے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر لی تھیں۔ کشمیر میں حالات سنگین سے سنگین تر ہو تے جا رہے ہیں جبکہ اجلاس کا کوئی نتیجہ برآمد ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ سلامتی کونسل کے مستقل ممالک کے لیے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اہم نہیں بلکہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نیوکلئیر جنگ کے بڑھتے خطرات کے باعث فکر مند ہیں۔ اس لیے عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کے بجائے کنٹرول لائن پر بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے یک طرفہ فیصلوں کے بجائے مذاکرات کی تجاویز پیش کر رہی ہیں۔ اگر پاکستان اقوام متحدہ کے فیصلوں کا منتظر رہا تو گزشتہ 72 سالوں کی طرح صرف دوطرفہ مذاکرات کا ڈھول ہی پیٹا جائے گا۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کےلیے پوری دنیا کی توجہ سمیٹنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستانی قیادت کو چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے علاوہ غیر ملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرے تاکہ ملکی معیشت پرمثبت اثرات مرتب ہوسکیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں