ہوم   >  بلاگز

گاندھی جی کے تین بندر اور مودی

1 month ago

فوٹو: اے ایف پی

مہاتما گاندھی کو ہندوستان میں ادب کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور احتراما باپو کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ وہ عدم تشدد اور رواداری کے قائل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا کل اثاثہ عینک، چپلوں کا ایک جوڑا، ایک گھڑی، پیالہ و پلیٹ اور تین بندروں کا ایک مجسمہ تھا۔ ان کے اس تمام اثاثے میں بندروں کا مجسمہ سب سے اہم تھا۔ یہ دسویں صدی کے جاپان کی روایت سے متاثر تھا۔ یہ مجسمہ عدم تشدد اور رواداری کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ گاندھی جی کے تینوں بندر بہت عجیب تھے، ایک بندر نے آنکھ، دوسرے نے کان جبکہ تیسرے نے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ نہ برائی دیکھو، نہ سنو اور نہ ہی منہ سے برائی کا کوئی لفظ ادا کرو۔ میں خود جاپان کی اس روایت سے گاندھی جی کے تین بندروں کی وساطت سے متعارف ہوا۔

گاندھی جی کا بھارت اس روایت کے تحت ہی قائم ہوا اور انہوں نے اپنے اسی انداز کو آئین ہند بنانے کی کوشش کی، پنڈت جواہر لال نہرو بھی کسی حد تک اسی روایت کو برقرار رکھنے کی کوشش میں رہے۔ لیکن پھر وقت بدلہ اور گاندھی جی کے نظریئے کی جگہ دیش بھگتوں کی تھیوری نے لے لی۔ وہ گاندھی جو دنیا میں عدم مساوات سے دل برداشتہ تھے، انہی کے دیس میں اونچی اور نچلی ذات کے ہندوؤں کے مسائل نے سر اٹھایا، پھر گئو رکھشک میدان میں آئے، جنہوں نے ایک طرف تو اپنے دیس کو میٹ ایکسپورٹ میں نمبر ون بنایا تو دوسری طرف گائے ذبحہ کرنے کے الزامات لگا کر مسلمانوں کا جینا حرام کردیا۔ بات یہاں تک رہتی تو قابل قبول تھی لیکن گجرات کے قصاب کے نام سے جانے جانے والے بھارتی وزیر اعظم اور ان کی پارٹی نے ریاست قاتلوں آر ایس ایس اور شیوسینا کے ذریعے اقلیتوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔

اس وقت نریندر مودی کے تین بندروں کے اصطلاح بھی اعتدال پسند بھارتی شہریوں میں گردش کر رہی ہے، جس میں ان کا کہنا ہے کہ مودی کا پہلا بندر ظلم کیخلاف دیکھنے پر پابندی لگا رہا ہے۔ دوسرا بندر مظلوم کی آواز بننے پر بندشوں کا استعارہ ہے اور تیسرا بندر ظلم پر لب کشائی کرنے والوں کو یہ نصیحت کر رہا ہے کہ خبردار اگر ظلم پر کوئی بات کی۔ اب آتے ہیں اصل مدعے کی جانب، تو جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت جن جن ریاستوں میں برسرِ اقتدار ہے، ان علاقوں میں اقلیتوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ لوک سبھا میں پیش کردہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ چھے سالوں میں بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نریندر مودی اپنی تقاریر میں گاندھی کے فلسفہ عدم تشدد پر دھواں دار خطاب کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کی مادر سیاست آر ایس ایس اور شیوسینا کے غنڈے عین اسی لمحے اقلیتوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھا رہے ہوتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں مودی کے اقتدار کے چھ سالوں کے دوران ریاستی مظالم میں شدت آئی ہے۔ ایک جانب سوشل میڈیا کے ذریعے وادی کے نوجوانوں نے ان مظالم کو عالمی دنیا کے سامنے اجاگر کیا تو دوسری جانب مودی سرکار نے سماجی رابطوں کے اداروں سے معاہدے کرکے ان نوجوانوں کی آواز بند کرنے کی کوشش کی۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی کی قیادت انڈین میڈیا کے ذریعے جھوٹ کو فروغ دے رہی ہے۔ یہاں مودی کے تین بندر کا دوسرا نظریہ فروغ پا رہا ہے۔ یعنی نہ سچ دیکھو، نہ ہی سچ سنو اور سچ بولنے کا یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جو بھی فرد مودی کے دیس میں اس نظریئے سے بغاوت کرتا ہے اس کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے۔ گاندھی جی کے بندر تو گویا کہیں کھو سے گئے ہیں۔

گاندھی جو انسانیت کی برابری کا درس دیتے تھے، اگر وہ کشمیر میں ہونے والے مظالم  گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام، آسام میں انسانیت کی تذلیل اور ہریانہ و امرتسر میں سکھوں کے ساتھ ہونے والی ستم ظریفیاں دیکھتے تو یقینا بندروں کا مجسمہ اپنی لاٹھی سے چکنا چور کردیتے۔ وہ گاندھی جو تھپڑ کھانے پر چہرے کی دوسرے طرف آگے کرنے کا درس دیتے تھے، پیلٹ گنوں سے چھلنی آنکھیں دیکھ کر ان کا سینہ چھلنی ہوجاتا۔ مگر آج کا بھارت نہا بھارت، رامائن اور گاندھی کا بھارت نہیں ہے۔ اس بھارت میں مودی کی صورت میں راون کا آسیب مسلط ہے۔ جس کے سائے سے ہندوستان کی بیٹی محفوظ ہے اور نہ ہی بھارتی اقلیتوں کو تحفظ میسر ہے۔ اس آسیب نے بھارت کو پوری طرح جھکڑ لیا ہے جس کی بدولت غالب امکان یہی ہے کہ اکھنڈ بھارت دیسی کھنڈ (چینی) کی صورت ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ علیحدگی کی تحریکیں جنم لیں گی۔ پھر ایک مسئلہ درپیش آئے گا کہ گاندھی جی کے تین بندروں والا مجسمہ کس کی ملکیت ہوگا؟؟

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں