ہوم   >  بلاگز

آنکھوں میں ہجر چہرے پر غم کے شکن 

1 month ago

یہ تصویر ہے غموں سے چور بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے نال کے رہائشی بایزید کی جس کا 13 سالہ بیٹا عطااللہ 18 جولائی کو تین سو فٹ گہرے خشک ٹیوب ویل میں جا گرا۔ بایزید کا کہنا ہے وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ٹیوب ویل سے پائپ نکال رہا تھا کہ اس دوران اچانک عطااللہ پھسل کر گہرے بور میں گرگیا۔

متاثرہ بچے کے ماموں محمد شریف نے بتایا کہ علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت عطااللہ کو ریسکیو کرنے کی بہت کوشش کی لیکن بنیادی اور ضروری آلات نہ ہونے کی وجہ سے ہم اسے نہیں نکال سکے۔ ایک گھنٹے تک عطاءاللہ زندہ تھا۔ وہ تنگ اور گہرے کنویں سے مدد کیلئے پکار رہا تھا مگر ہم سب بے بس تھے۔ اسے باہر نکالنے کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکے، کچھ گھنٹوں کے بعد ہم نے موبائل فون بور کے نیچے اتارا اور اس کے کیمرے سے ریکارڈنگ کی تو معلوم ہوا کہ بچے کی موت ہوچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بچے کی لاش کو نکالنے کے لیے خضدار کی ضلعی حکومت سے مدد مانگی مگر ان کے پاس ایسی کوئی مشینری نہیں تھی جو کسی تنگ کنویں سے کسی کو ریسکیو کرسکیں۔ ہم نے علاقے کے قبائلی رہنماوں اور بااثر سیاسی شخصیات سے بھی رابطہ کیا مگر انہوں نے بھی مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ سینکڑوں فٹ گہرے اور انتہائی تنگ ٹیوب ویل کے بور سے بچے کو نکالنا مشکل ہے۔ آپ لوگ اس بور کے اوپر ہی اس کی قبر بنا دیں اور فاتحہ پڑھ لیں مگر ہمارے دل نے یہ بات قبول نہیں کی۔ ہم نے نال اور قریبی علاقوں سے پانچ پانچ ہزار روپے فی گھر جمع کیے اور ڈمپر سمیت جدید مشینری کی مدد سے بچے کو نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔ سات دن کی مسلسل محنت اور کوشش کے بعد عطا اللہ کی لاش کو نکال لیا گیا۔ 113 فٹ گہرائی سے بچے کی لاش نکالی گئی اور اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد تدفین کردی گئی۔

محمد شریف نے بتایا کہ بچے کی لاش کو نکالنے کے لیے 12 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 30 ہزار روپے دیے گئے جو انہوں نے لینے سے انکار کر دیے۔

ڈپٹی کمشنر خضدار میجر ریٹائرڈ الیاس کبیزئی نے سماء سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خضدار میں زیرِ زمین پانی کی سطح گرنے کی وجہ سے بیشتر ٹیوب ویل خشک ہوگئے ہیں۔ لوگ خشک ٹیوب ویلوں کو بھرنے اور ان پر سیفٹی کیسنگ لگانے کے بجائے ایسا ہی کھلا چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے حادثات رونما ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ خضدار شہر اور نواحی علاقوں میں خشک ٹیوب ویلوں پر کیسنگ لگا رہی ہیں جبکہ لوگوں کو بھی خشک ٹیوب ویلوں کو بند کرنے اور ڈھکنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

 یہ بلوچستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل خضدار، مستونگ، قلعہ عبداللہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی اس طرز کے حادثات پیش آچکے ہیں۔

چھ اکتوبر 2015 کو ضلع قلعہ عبداللہ کی تحصیل  گلستان میں نیک محمد کا کم سن بیٹا کھیلتے ہوئے خشک ٹیوب ویل کے بور میں جا گرا۔ علاقہ مکینوں اور انتظامیہ نے کئی دن تک بچے کو نکالنے کی کوشش کی لیکن جدید مشینری اور سہولیات کی کمی کی وجہ سے بچے کو زندہ نہیں نکالا جاسکا۔ ایک ماہ بعد جب والدین کی امیدیں دم توڑ گئیں تو انہوں نے بور کے اوپر ہی معصوم بچے کی قبر بنا دی۔

یکم دسمبر 2017 کو خضدار کے علاقے اورناچ میں 8 سالہ بچی 130 فٹ گہرے بور میں گر گئی۔ بچی کو زندہ تو نہیں نکالا جاسکا مگر 13 دن کی مسلسل محنت کے بعد بچی کے ورثاء مقامی انتظامیہ اور علاقہ مکینوں نے لاش کو نکال لیا۔

مارچ 2018 میں مستونگ کے رہائشی محمد حنیف کی تین سالہ بیٹی بھی کھیلتے ہوئے بور میں جا گری۔ لیویز اور ضلعی انتظامیہ کوشش کے باوجود بھی بچی کو ريسکيو نہ کرسکے۔ مشینری اور تربیت یافتہ عملہ نہ ہونے کی وجہ سے دو دن بعد آپریشن بند کردیا گیا۔

تین لاکھ تینتالیس ہزار ایک سو نوے مربع کلو میٹر پر محیط بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا 43.6 فیصد حصہ بنتا ہے۔ سال 2017 کی مردم شماری کے مطابق صوبے کی آبادی ایک کروڑ تئیس لاکھ سے زائد ہے۔ بلوچستان قدرتی وسائل و معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے مگر افسوس عالمی ادارے اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق بلوچستان دنیا کا سب سے پسماندہ اور غریب ترین علاقہ ہے جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے بنیادی سہولیات کا فقدان ہے وہیں ہنگامی صورتحال کے دوران ریسکیو کا کوئی انتظام نہيں ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں نہ صرف دہشتگردی اور کرپشن  کے مسائل ہیں بلکہ بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے انسانی المیے بھی جنم لے رہے ہیں۔

پی ڈی ایم اے بلوچستان کےسربراہ عمران زرکون نے سماء سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو 1122 کے پاس گہرے اور انتہائی تنگ ٹیوب ویل کے بور میں گرنے والے کسی شخص کو ریسکیو کرنے کے لیے کوئی سہولت یا آلات موجود نہیں ہیں۔ حکومت بلوچستان نے چند سال قبل ریسکیو 1122 کا ادارہ قائم کیا تھا جس میں 28 ریسکیو اہلکاروں کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کرکے انہیں لاہور سے چھ ماہ کی تربیت دلائی گئی لیکن کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد انہیں فارغ کر دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے حادثات کے تدارک اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری آلات کی خریداری اور اہلکاروں کے تربیت بہت ضروری ہے۔

آبی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر انتہائی تشویشناک حد تک کم ہونے کی وجہ سے ہزاروں کنویں خشک ہوگئے ہیں۔ خشک ٹیوب ویلوں پر سیفٹی کیسنگ نہ ہونے کہ وجہ سے کئی افراد گر کر زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

بلوچستان کے عوام کا صوبائی حکومت سے مطالبہ ہے کہ خشک کنوؤں کو بھرنے اور ان پر سیفٹی کیسنگ لگانے کےلیے اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے دردناک واقعات رونما نہ ہوں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں