ہوم   >  بلاگز

تعلیمی اداروں میں بڑھتی جنسی ہراسانی کا ذمہ دار کون؟

1 month ago

تحریر: محمد ساجد الرحمان

فریحہ کی پیدائش ایک مڈل کلاس گھرانے میں ہوئی۔ وہ اپنے والدین کی لاڈلی اور بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ فریحہ کے والدین کو معاشرے میں درپیش مسائل کا باخوبی علم تھا اس لیے انہوں نے اپنی بیٹی کو اچھی تعلیم دلوانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ ناں صرف اپنے حقو ق کا تحفظ کرسکے بلکہ اپنی اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت بھی کرسکے۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد فریحہ کے بھائیوں نے والدین کے فیصلے کی سخت مخالفت کی لیکن والدین کے ڈٹے رہنے کے باعث وہ بھی بے بس ہو گئے۔

انٹرمیڈیٹ کا نتیجہ آنے پر جہاں پورا خاندان خوش تھا وہیں فریحہ کے بھائیوں نے مستقبل کے حوالے والدین کے فیصلے کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ہر شام یونیورسٹی میں داخلے پر بحث ہوتی۔ فریحہ کے بھائیوں کا مؤقف تھا کہ زمانہ اب بہت بدل گیا، لڑکیوں کو یونیورسٹی میں داخل کروانا پورے خاندان میں بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔ باقی کی رہی سہی کسر خالہ ، تایا اور پھوپھی نے پوری کر دی۔ ان کا گھر کسی کیبنٹ میٹنگ کا منظر پیش کر رہا ہوتا جس میں پوری کابینہ فریحہ کے والد کو اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ قائل کرنے کی کوشش کرتی ۔کئی ہفتے بحث وتکرارچلتی رہی اور بالآخر کئی پابندیوں اور شرائط کے بعد فریحہ کو یونیورسٹی میں داخلے کی اجازت مل گئی۔

یونیورسٹی میں داخلہ ملنے کے بعد فریحہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا لیکن معمولی سی غلطی اس کے ایجوکیشنل کیریئر میں رکاوٹ بن سکتی تھی، اس لیے وہ محتاط رہتی۔ آخری سمسٹر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے فریحہ کی زندگی کو بالکل بدل کررکھ دیا۔ ریسرچ کے پروفیسر نے فریحہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی ۔ شکایت کرنے کے باوجودیونیورسٹی انتظامیہ کے کان پرجوں تک نہ رینگی۔ بارہا شکایات درج کروانے پرمتعلقہ پروفیسر کے خلاف انکوائری شروع کر دی گئی۔ فریحہ کے بھائیوں کو جب واقعے کا علم ہوا توانہوں نے اپنی عزت کو بچانے کی غرض سے معاملہ دبانے کی کوشش کی اور بہن کی تعلیمی سرگرمیوں کو رکوا دیا جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے انکوائری کاغذی کارروائیوں تک ہی محدود رہی ۔

فریحہ جیسی ہزاروں لڑکیاں ہیں جو اپنے گھر سے بمشکل اجازت ملنے کے بعد تعلیم حاصل کرتی ہیں لیکن اپنے حقوق کے خلاف آواز اٹھانے سے قاصر ہیں۔ اگر کوئی جرات مندی سے ایسے اساتذہ کے خلاف علم بغاوت بلند کرتی ہیں تو گھریلو ماحول اور معاشرہ ان کی کوششوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ چند روز قبل پشاور یونیورسٹی کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ نے اپنے والد کے توسط سے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ پروفیسر نے مجھے ایک ہی مضمون میں کئی بار فیل کیا ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شکایت کے باوجود ڈیپارٹمنٹ نے متعلقہ پروفیسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

درسگاہوں میں خواتین کے ساتھ جنسی ہراسگی کے واقعات ایک معمول کی شکل اختیار کر چکے ہیں لیکن ان واقعات کے پیچھے چھپی اصل وجوہات کوجاننا انتہائی ضروری ہے۔ گھریلو دباؤ کے باعث مجموعی طور پر طالبات اچھے گریڈز حاصل کرنے کی تگ و دو میں رہتی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی جانب سے طالبات کو امتحانی نتائج، اچھے گریڈز کے عوض رجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے لیے طالبات ان واقعات کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں ،جس کے اکثر بھیانک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

جنسی ہراسانی کے واقعات منظرعام نہ آنے کی ایک اوراہم وجہ خواتین کی قانون سے ناواقفیت اور سماجی دباؤ ہے، جس کے باعث وہ ہراساں کرنے والوں کو نہ صرف نظر انداز کرتی ہیں بلکہ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں۔ طالبات کی مجموعی تعداد اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا بھی نہیں جانتی ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی ادراک نہیں ہے کہ خواتین کی مدد کے لیے پاکستان میں میں کون کون سے قوانین موجود ہیں۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 509 کے تحت عوامی مقامات پر خواتین کو کسی طور پر ہراسگی کا نشانہ بنانے یا کسی بھی خاتون کی توہین کرنے کے علاوہ سیٹی بجانے، گاناگانےاور تحریری یازبانی بداخلاقی وغیرہ کوجرائم میں شامل کیا گیا ہے۔ان معاملات کی شکایت کرنے پرملوث شخص کو 3 سے 5 سال قید اور تقریباً 5 لاکھ تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ بدنامی سے بچنے کے لئے طالبات کے ساتھ پیش آنے والے ان انسانیت سوز واقعات کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے اور بعض دفعہ معاملے کو ختم کرنے کے لیے طالبات اور ان کے اہلخانہ پردباؤ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی جاتی ہے ۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں جنسی ہراسگی کے واقعات نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ پروفیسرزکو ملازمت کا تحفظ حاصل ہوتا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے غیر سنجیدگی جرائم کی شرح میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ شکایات کرنے کے باوجود ہراسگی میں ملوث افراد باآسانی بچ جاتے ہیں، اس لئے شکایت درج کرانے کی بجائے خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی جاتی ہے۔

استاد کو ہر معاشرے میں انتہائی قابل احترام طبقہ سمجھا جاتا ہے ۔ اسلامی تہذیب وتمدن میں اس پیشے کوانبیاء اکرام سے تشبیہ دی جاتی ہے ، معلم کا مقصد معاشرے کو علم و ہنر اور شعور و آگاہی دینا ہوتا ہے، لیکن اگر یہی لوگ غیراخلاقی اورانسانیت سوز واقعات میں ملوث پائے جائیں تو معاشرے کی تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ جنسی ہراسگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی اہم وجہ شعبہ تعلیم میں غیر پیشہ ور افراد کی بڑھتی شرح ہے۔ اس شعبے کو کئی ایسے افراد نے اپنا رکھا ہے جو کسی دوسرے پروفیشن میں جانے سے ناکام ہوئے اور بسلسلہ روزگار درس وتدریس سے وابستہ ہو گئے ۔ ایسے لوگ اس پیشے کے مرتبے اور تقدس کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اپنے اندر کی ناکامیوں ، مایوسیوں اور محرومیوں کو نکالنے کے لیےطالبات سے دوستی کی راہ اختیار کرتے ہیں۔

دوسری بڑی وجہ عمر میں فرق ہے۔ اسلامی نقطہ نظر کے علاوہ بھی چند دہائیوں قبل اساتذہ کی عزت و تکریم کی جاتی تھی، ٹیچرز کو والدین کا درجہ دیا جاتا تھا لیکن دور جدید میں پروفیسر یا لیکچرار اور طلباء میں بمشکل ہی فرق کیا جا تا ہے، باقی کی کسر ذہنی پسماندگی پوری کر دیتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں پروفیسرز کی اپنی طالبات سے شادی کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔

مخلوط نظام تعلیم بھی جنسی ہراسگی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ تعلیمی اداروں نے مصنوعی کلچر کواپنے اوپر حاوی کررکھا ہے۔ پاکستان کے کئی تعلیمی اداروں میں میوزک کنسرٹ اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ یہ نظام نہ صرف نظم و ضبط بلکہ معیار تعلیم پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ طلباء کی زیادہ تر توجہ خود نمائی اور زیب وزینت پرہوتی ہے گویا وہ علم کے حصول کے بجائے ماڈلنگ یا فیشن شو میں حصہ لینے آئے ہوں۔

گھریلو دباؤ بھی جنسی ہراسگی کے بڑھتے واقعات کی اہم وجہ ہے۔ طالبات تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ اور والدین کے خوف سے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو بتانے سے کتراتی ہیں۔ مخلوط نظام تعلیم کی اجازت دینے کے بعد اہلخانہ کو طالبا ت پر بلا ضرورت دباؤ ڈالنے سے اجتناب کرتے ہوئے ہر ممکن حد تک دوستانہ ماحول قائم کرنا چاہیے جبکہ چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر حوصلہ افزائی کرنی چاہیے،تاکہ اگر کوئی انہونا واقعہ پیش آئے تو وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آپ کو بتا سکیں ۔ جنسی ہراسگی کی ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں جن میں اہلخانہ کی جانب سے معاملے کو دبانے کی ہر ممکن کوششیں کی گئی۔ اسی وجہ سے بدنامی اور سماجی دباؤ کے باعث متاثرہ طالبات حقوق کے حصول کی تگ ودو سے گھبراتی ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں