ہوم   >  بلاگز

قیام پاکستان کے وقت قربانی دینے والی خاتون کی آپ بیتی

SAMAA | - Posted: Aug 15, 2019 | Last Updated: 6 months ago
Posted: Aug 15, 2019 | Last Updated: 6 months ago

میرے 10 بیٹے بھی ہوتے میں کشمیر کو دے دیتی

 میرے اپنے گھر کی اور میرے ماں باپ کی پانچ قربانیاں ہیں۔ میری ماں ہاتھ جوڑتی تھی کہ میرے بچوں کو نہ مارو۔ ایک آدمی پاس آیا اس نے کرپان ماری اور انگلیاں کاٹ دیں۔ ہم اپنی ماں پر سایہ کر رہے تھے تو ماں نے دم توڑ دیا۔ بہت بڑی کہانی ہے میری ۔۔۔ ایک میرا بھائی صادق تھا جس کی چیخیں میرے کانوں میں آج بھي گونجتی ہیں۔

میرا نام رشیدہ بی بی ہے۔ میں دس سال کی تھی جب سکھوں نے ہمارے گاوں پر حملہ کیا، گولیاں اور بم چل رہے تھے۔ پھر انہوں نے تمام مردوں کو اکھٹا کیا اور تیل پھنک کر آگ لگا دی۔ پھر عورتوں کی باری آگئی ہم بھی اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ جب گولی چلی تو میرے بازو پر لگی اور ایک سکھ نے میرا بازو کاٹا۔ اس نے پہلے ایک اور پھر دوسری کرپان مار کر میرا بازو الگ کر دیا۔ میرے والد نے میرا ماتھا چوما اور کہا کہ بیٹی اب قیامت والے دن ہی ملیں گے۔

پاکستان پہنچنے سے متعلق بزرگ خاتون نے بتایا کہ ایک سکھ میرے والد کا دوست تھا جو کھو پر رہتا تھا میں اس کے پاس چلی گئی۔ میں نے بولا تایا اگر میں زندہ رہی تو میں خود چلی جاوں گی اور میں ڈری نہیں۔ میرے پاس ایک ٹوٹا ہوا جگ تھا جسں میں اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے کھلونے رکھے ہوئے تھے کہ یہ میری ماں، یہ میرا باپ اور یہ میرے بہن بھائی ہیں۔

وہ سکھ تایا جس کے پاس میں رہی وہ میرے والد کا بھائی تھا۔ اس نے بہت میرے لیے قربانیاں دی۔ مجھے بیٹیوں سے زیادہ پیار دیا اور نو ماہ تایا کے پاس رہی۔ اس نے کہا کہ لڑکی بڑی ہوتی جا رہی ہے۔ یہ کسی کی امانت ہے اور کہیں امانت میں خیانت نہ ہو جائے لہٰذا یہ جلد پاکستان پہنچ جائے۔ کچھ  اچھے لوگ بھی تھے جب سکھ بارڈ پر لے کر آیا تو بہت خوشی ہوئی کہ میں پاکستان جا رہی ہوں۔ میں نے تائی (سکھ کی بیوی) کو بولا کہ دیکھ لو میں سارا کچھ یہاں ہی چھوڑ کر جا رہی ہوں۔

ملٹری والوں نے کہا یہ جگہ دوبارہ نہیں دیکھنی اس کو آخری بار دیکھ لو۔ لڑکیوں نے پاکستان زندہ باد کے خوب نعرے لگائے۔ ملٹری والوں نے خاموش کروانے کی کوشش کی مگر لڑکیاں بھلا رکتی ہیں۔ وہ کہتی تھیں کہ ہم نئی زندگی میں آئے ہیں، اس پاکستان کی حفاظت کرو۔ آج بھی میں کہتی ہوں اگر میرے 10 بیٹے بھی ہوتے تو میں کشمیر کو دے دیتی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube