ہوم   >  بلاگز

قربانی، فریج اور فراوانی

1 month ago

لاہور کی عابد مارکیٹ الیکٹرونکس کے حوالے سے مشہور ہے، جہاں ہر وقت گاہگوں کا ہجوم رہتا ہے، گرمیاں شروع ہوتے ہی یہاں روم کولر اور اے سی کی فروخت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایسا ہی منظر بقر عید کے موقع پر دیکھا جاتا ہے جبکہ ’’ڈیپ فریزرز‘‘ ہاتھوں ہاتھوں فروخت ہوتے ہیں۔ ملٹی نیشنل اور مقامی کمپنیز خصوصی رعایتی اور پرکشش مراعات متعارف کراتی ہیں۔ یہ لاہور ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کا المیہ ہے کہ بقر عید کے موقع پر بڑے سے بڑا فریج خریدا جائے اور اسے ’’حسب توفیق‘‘ گوشت سے بھرا جائے۔

قربانی سنت ابراہیمی کی یاد میں منائی جاتی ہے، اس قربانی کی یاد میں جس میں ایک فرزند نے حکم ربانی کی خاطر اپنا سر چھری کے نیچے رکھ دیا۔ اس قربانی کی یاد میں جس میں ایک باپ نے اللہ کے حکم پر اسی سال کی عمر میں ملنے والی اولاد کو قربان کرنے کا ارادہ کر لیا تھا، اسی قربانی کی یاد میں ہم اپنے مال کو قربان کرتے ہیں جس میں ایک ماں نے اپنے لخت جگر کو بارگارہ رب العزت میں فدا کرنے کا فرمان جاری کردیا، ایک لمحے کو سوچیے کہ جب شیطان حضرت ہاجرہ کے پاس آیا اور کہا کہ تمھارا شوہر حکم ربی پر اپنے بیٹے کو قربان کو کر رہا ہے۔ جی ہاں اسی ہاجرہؑ کی بات ہو رہی ہے جنہوں نے پیاسے بیٹے کی خاطر صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے ساتھ چکر لگائے۔ عرب کی تپتی ریت میں بے آب و گیا پہاڑیوں سے اپنے بیٹے کی پیاس بجھانے کیلئے باربار ایک نئی امید کے ساتھ چکر لگائے۔ اسی ماں کو کہا جاتا ہے کہ روکو اپنے شوہر کو بیٹے کی قربانی کرنے سے لیکن وہ ماں جس نے بیٹے کی ایڑیاں رگڑنے سے پیدا ہونے والے پانی کے چشمے جیسا اپنے رب کا معجزہ دیکھا ہو، اسے بہکانے کی کوشش کی گئی، لیکن مجال ہے کہ ان کے پایہ استقامت میں ذرا بھی لغزش آئی ہو۔ قربانی کے وقت حضرت ابراہیم اپنے بیٹے سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ بیٹا تمھیں اللہ رب العزت نے قربان کرنے کا فرمان جاری کیا، لیکن پسر ابراہیم کو سلام ہے کہ جو جوابا فرماتے ہیں، ابا جان! اگر میری قربانی حکم الٰہی ہے تو اس کے بجا لانے میں تاخیر نہ کریں، بلکہ آپ مجھے ذبح کرتے وقت اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں، کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ چھری چلاتے ہوئے شفقت پدری حکم ربی پر بازی لے جائے اور آپ کے ہاتھ رک جائیں۔ قصہ مختصر خلیل اللہ نے اللہ کے فرمان پر بارہا چھری چلائی مگر وہ چل نہ سکی، پھر جنت سے جبرائیل مینڈھا لے کر حاضر ہوگئے، جو اسماعیل کی جگہ قربان کیا گیا، لیکن بدقسمتی کیساتھ ہم نے جانور کی قربانی کو تو زندہ رکھا ہوا ہے لیکن اس وقت باپ اور بیٹے کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اسے ہم بھول بیٹھے ہیں۔

سنت ابراہیمی کے تقاضوں کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے ہم نے معروضات کو اپنا اُوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ ہماری ترجیحات محض نمود و نمائش سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ خاندان، برادری اور محلے میں اپنی ناک اونچی رکھنے کیلئے مہنگے سے مہنگا جانور خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابتدائی طور پر ہمارا خیال ہوتا ہے کہ ہم قربانی سے دو دن قبل جانور لے آئیں اور اسے سارے محل میں کیٹ واک کرائیں۔ قربانی کے دن خوب تشہیر کرتے ہیں، قصائیوں کی آو بھگت سے فراغت کے بعد ”ڈیپ فریزر“ کو خوب بھرتے ہیں اور ہڈیاں غریبوں میں تقسیم کرکے فرض ادا کرتے ہیں جبکہ ضرورت مندوں پر بھی احسان عظیم کرتے ہیں۔ گذشتہ چند سالوں سے ایک اور رواج بھی عام ہے، گائے اور بیل کیساتھ ساتھ متمول افراد بکرے اور دنبوں کی قربانی بھی کرتے ہیں۔ اس دوران گائے کا گوشت رشتہ داروں میں تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ بکرے اپنے فریزرز میں ٹھونس لیتے ہیں۔ یہ بھی ایک المیہ ہے جس نے ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، ہمارے ایک دوست عید پر گوشت کی ٹکیاں بنا لیتے ہیں اور اگلے سال عید تک انہی ٹکیوں سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے۔ ابھی گذشتہ ماہ ہی ان کے گھر پر ہماری دعوت تھی، جس میں گذشتہ سال فریز کئے گئے گوشت کے پکوان پیش کئے گئے، مختلف اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 27 فیصد شہریوں کو صرف عید پر ہی گوشت نصیب ہوتا ہے جبکہ عید الاضحی پر پاکستان بھر کے 37 فیصد زیادہ گوشت کھانے کے باعث معالج سے رجوع کرتے ہیں، طبی ماہرین کے مطابق ایک نارمل انسان ایک دن میں 250 گرام  تک گوشت کھا سکتا ہے، لیکن ہم خوش خوراکی میں دنیا بھر میں مشہور ہیں اور ایک دن میں ایک ہزار گرام سے کم گوشت کھانا ہماری توہین سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح فریز کیا گیا گوشت بھی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔

آئیے، اس عید پر عہد کریں کہ اب کی بار گوشت فریزر پر رکھنے کی بجائے ان غریبوں تک پہنچائیں گے جنہیں سال میں ایک بار گوشت نصیب ہوتا ہے۔ انہیں جانوروں کی اوجڑی دینے کی بجائے ران ان کے سامنے رکھیں گے، گھر میں مختلف پکوان تیار کرتے ہوئے اس گھر کا بھی خیال کریں گے جس گھر میں ہمارے پکوان کی سوندھی سوندھی خوشبو تکلیف کا باعث بنتی ہے، آئیں آج سنت ابراہیمی کو تازہ کریں اور حضرت اسماعیل ؑ کے اطاعت گزاری کے مشن کو فروغ دیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں