ہوم   >  بلاگز

بندر روڈ سے کیماڑی، میری چلی ہے گھوڑا گاڑی

2 months ago

اگر آپ کا تعلق کراچی سے ہے اور آپ کو کام کرتے کرتے رات کے 2 سے ڈھائی بج جاتے ہیں تو آپ اُس کیفیت کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں جو میں بیان کرنے جا رہا ہوں۔ اپنے دفتر یا کاروبار سے نکل کر آپ جوں ہی باہر نکلتے ہیں تو ایک نئی دنیا آپ کا انتظار کر رہی ہوتی ہے، جہاں گاڑیوں کا شور ہے نہ ہی لوگوں کی ریل پیل ، چاروں جانب سناٹا ہے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں میں خالی سڑک پر آپ کی موٹرسائیکل فراٹے بھرتی ہوئی جا رہی ہو تو ایسے میں ساری تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔

کراچی کا ایم اے جناح روڈ بالخصوص ٹاور سے جامعہ کلاتھ مارکیٹ،جہاں دن کےاوقات میں اس قدر بھیڑ ہوتی ہے کہ پیدل چلنا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔ روزانہ ہزاروں لوگ گاڑیوں کے شور شرابے اور ٹریفک جام کی اذیت سے گزرتے ہیں لیکن رات کے اوقات میں، جس کا میں نے ذکر کیا، یہاں سے گزرنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ سڑک کی دونوں جانب ماضی کی پرشکوہ عمارتیں آنکھوں کو خیرہ کرتی ہیں ۔ ریڈیو پاکستان، کے ایم سی بلڈنگ ، میری ویدر ٹاور، موتن داس مارکیٹ اور پھر ڈینسو ہال کی طرف آئیں، جو بارہ عمارتوں پر مشتمل پورا ایک بلاک ہے، ایک مشہور گانا بھی ہے ‘ بندر روڈ سے کیماڑی ، میری چلی ہے گھوڑا گاڑی’ اس گانے میں ان عمارتوں کا خوبصورت انداز میں تذکرہ کیا گیا ہے۔

دہائیوں پہلے بندر روڈ پر ٹرام چلا کرتی تھی،جو غیرملکی سیاحوں کیلئے اُس دور کی چیئرلفٹ تھی۔ پنجاب، شمالی علاقہ جات اور دیگر شہروں سے سیاح کراچی آتے تو اُن کی ایک ہی خواہش ہوتی کہ وہ ٹرام کی سواری کریں گے اور سمندر دیکھیں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت سے یہ توقع تھی کیوں کہ ایسا ہی ایک منصوبہ ‘ کلچرل ہیریٹیج ٹریل ‘ کے نام سے پشاور میں مکمل ہوچکا ہے، گورگٹھری سے گھنٹہ گھر کا سفر آپ کو ماضی کے دریچوں میں لے جاتا ہے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ بندر روڈ سے ٹاور اور آگے کیماڑی تک کی اس پٹی کو سیاحتی زون میں تبدیل کر دیا جائے۔ عمارتوں کی صفائی اور وال چاکنگ پر پابندی لگائی جائے۔ پارکنگ سسٹم کو بہتر بنایا جائے، ٹھیلے اور پتھارے والوں کو کسی دھارے میں لایا جائے۔ اس سڑک پر بڑی بڑی کھٹارا بسوں کی جگہ جب ٹرام چلے گی تو یہ سیاحوں کی لیے یقینا دلچسپی کا باعث بنے گی ۔ سپریم کورٹ کے سخت احکامات کے بعد اُمید ہے سرکلر ریلوے بھی جلد بحال ہو جائے گی، جس سے ٹریفک کے دباؤ میں کمی آئے گی، شہر میں صفائی مہم ویسے ہی شروع ہوچکی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ یہ کتنی کامیاب ثابت ہوتی ہے۔

کراچی میں امن بحال ہوچکا ہے لیکن لوگ اب بھی یہاں آنے سے پہلے تھوڑا بہت سوچتے ضرور ہیں۔ ہمارے ایک دوست دبئی سے تشریف لائے، پہلے تو بہت ڈرے ہوئے تھے، لیکن جب چہل پہل دیکھی، ڈر خوف ختم ہوا تو کہنے لگے مجھے لیاری دکھاؤ، چیل چوک دیکھنا ہے، ہم چیل چوک پہنچے ، وہاں تصویریں بنائیں، ہوٹل پر بیٹھ کر کڑک دودھ پتی ، پراٹھا اور انڈا چھولا کھایا۔ ڈیڑھ سو روپے کا بل دیکھ کر کہنے لگے یار۔ کراچی کراچی ہے۔ اتنا سستا، اتنا خوبصورت موسم ، بس تھوڑا سا سسٹم ٹھیک ہوجائے تو دنیا یہاں کھنچی چلی آئے گی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں