اقلیت سے اکثریت تک کا سفر

August 11, 2019

کشمیر اور فلسطین دنیا کے دو ایسے علاقے ہیں جہاں کی اکثریت خود ایک اقلیت کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت یعنی تاج برطانیہ میں اقلیتوں کے حقوق کا یہ حال ہے کہ ماضی میں حکمران جماعت کی سربراہ ایک مسلمان خاتون تھیں جبکہ لندن جیسے بڑے شہر کا میئر ایک مسلمان اقلیت سے ہے جبکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا یہ حال ہے کہ وہاں عیدالاضحیٰ سے قبل آنے والا آخری جمعہ بھی نماز کے بغیر گزر گیا۔

کشمیر میں کرفیو کے باعث نماز جمعہ ادا نہ کیا جا سکا اور مذہب کس قدر اہمیت کا حامل ہے شاید یہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس تمام صورتحال پر امریکہ کی جانب سے اہم بیانات سامنے آئے ہیں لیکن یہ اہم صرف بیانات ہی ہیں ان سے اقدامات کی توقع رکھنا شاید ہماری سب سے بڑی بے وقوفی تصور ہوگی۔ کچھ عرصہ قبل امریکہ نے پاکستان کو اقلیتوں کیلئے غیر محفوظ ملک قرار دے دیا تھا جبکہ آج بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر امریکہ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر گھسائے چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔

 پشاور میں کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف ہندو برادری نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ شاید صرف ایک مظاہرہ ہی ہے لیکن دراصل یہ پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ گزشتہ 6سالوں کی جدوجہد بھی ہے۔ خیبر پختونخوا پاکستان کا شاید وہ پہلا صوبہ ہے جس نے اقلیتوں کے حقوق ادا کرنے میں پہل کی اور جو جدوجہد 6سال قبل شروع کی گئی اب اس کے ثمرات آنے شروع ہوگئے ہیں گو کہ ابھی منزل دور ہے لیکن جب سفر شروع ہو جاتا ہے تو کٹ بھی جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا پہلا صوبہ ہے جس نے ہندوﺅں کیلئے سرکاری سطح پر شمشان گھاٹ قائم کرنے کیلئے اراضی خریدنے کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح مسیحی قبرستانوں کی اراضی کا معاملہ بھی صوبائی حکومت نے اپنے سر لے لیا۔ یہ اعلانات تو کئی سال قبل کر دئے گئے تھے تاہم اب ان پر عملی کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ، لوئر دیر، ہنگو اور مردان میں شمشان گھاٹ اور مسیحی قبرستانوں کی اراضی کی نشاندہی کا عمل مکمل ہو گیا ہے جبکہ اراضی کی رقم کی ادائیگی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ اسی طرح کیلاش جیسی نظر انداز اقلیت جسے صرف دنیا کو راغب کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا آج ان کی بقا کیلئے کروڑوں روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ان کے قبرستانوں اور علاقے کی بحالی کو حکومت نے اپنے پروگرام میں شامل کیا ہے جبکہ سب سے اہم اقدام ہندو شادی کے قانون کے رولز کی تیاری، مسیحی شادی و طلاق کے قانون اور سکھ شادی کے قانون پر کام کا باقاعدہ آغاز ہے۔

 اسی طرح خیبر پختونخوا نے ان تمام اقلیتوں کو یکجا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ2  برسوں سے سرکاری سطح پر کرسمس، ایسٹر، دیوالی، ہولی، بیساکھی اور سکھ رہنماﺅں کی سالگرہ کی تقریبات سمیت بہائی برادری کی عید رضوان بھی سرکاری سطح پر منائی گئی جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ سرکار آج ان اقلیتوں کو اپنا حصہ مان رہی ہے۔ یہ صرف مذہب کے اعتبار سے اقلیت ہیں جبکہ شہری ہونے کے ناطے یہ ہمارا ہی حصہ ہیں۔

 بات کی جائے مستقبل کی تو اس کا سہرا بھی خیبر پختونخوا کے سر جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع سے 300سے زائد جبکہ ملک کے بیشتر علاقوں سے 50سے زائد اقلیتی نوجوانوں کو پشاور میں ایک چھت تلے یکجا کیا گیا۔ انہیں 3 روز تک یہاں رہائش دی گئی اور بین المذاہب کانفرنس منعقد کی گئی جس میں مدارس کے بچوں کو بھی ان نوجوانوں کے ساتھ رکھا گیا۔

 مسیحی ، سکھ ، ہندو کو بہائی کے ساتھ  کمروں میں ایسے ٹھہرایا گیا کہ ہر ایک مذہب والے کے ساتھ کسی اور مذہب کا نوجوان تین روز تک مختلف امور پر گفتگو کرتا رہا جس سے ان نوجوانوں کو ایک دوسرے کے مذاہب کے مثبت پہلو سمجھنے میں مدد ملی۔ خیبر پختونخوا کے اقلیتی نوجوانوں کو اسلام آباد میں اہم سیاسی شخصیات، کراچی میں تاریخی مقامات اور آزاد کشمیر کے خوبصورت مقامات کی سیر بھی کرائی گئی اور انہیں اپنا وطن دکھانے سمیت اس ملک کا اپنا سمجھنے کا پیغام دیا گیا۔