ہوم   >  بلاگز

ہتھکڑیوں میں جکڑا قانون

4 months ago

ترقی یافتہ قوموں اور مہذب معاشروں میں استاد کوایک نمایاں مقام حاصل ہوتا ہے کیونکہ معاشرے کی تشکیل نو میں استاد اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن جمعے کی رات نواز شریف کے سابق معاون خصوصی عرفان صدیقی کو اسلام آباد سے کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر گرفتار کرکے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ مکان کا جو حصہ کرائے پر دیا گیا وہ مکان عرفان صدیقی کے نام پر نہیں بلکہ اُنکے بیٹے کے نام پر ہے۔ لیز ایگریمنٹ بھی بیٹے کے نام پر ہے لیکن والد کو گرفتار کرکے نہ صرف ایف آئی آر کاٹی گئی بلکہ ہتھکڑیاں لگا کر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ لیکن اس گرفتاری پر ہر طرف سے شدید مذمت کے بعد اتوار کے روز ضمانت پر رہا بھی کر دیا گیا۔

عرفان صدیقی نہ صرف سابق وزیراعظم نواز شریف کے مشیر رہے بلکہ ایک استاد اور نامور صحافی  بھی ہیں۔ ایک 78 سالہ بزرگ شخص کو زنجیروں میں دیکھ کر ہر آنکھ شرما گئی۔ چلیں تھوڑی دیر کے لیے یہ فرض کر لیجیے کہ مکان عرفان صدیقی کے نام پر ہی تھا اور وہ واقعی کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے لیکن کیا یہ واقعی اتنا بڑا جرم تھا جس کی سزا کے طور پر ایک سابق مشیر کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرلیا گیا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام آباد جیسے شہر میں ہزاروں لوگ ایسے موجود ہیں جنھوں نے کرایہ داری فارم اپنے متعلقہ تھانے میں جمع نہیں کرایا۔ کیا ان سب کو چھوڑ کر عرفان صدیقی ہی باقی رہ گئے تھے جو قانون ان کے خلاف حرکت میں آگیا۔ دوسری بات کہ یہ ایک قابل ضمانت ایکٹ ہے جس میں عام طور کسی عام شہری کو بھی گرفتار کیا جائے تو اگلے ہی دن علاقہ مجسٹریٹ اس کی ضمانت منظور کرلیتا ہے۔ یہ شاید پہلی مثال ہے کہ اس معمولی جرم میں ان کا چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرکے انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ جس طرح انہیں ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا اس سے تو یہی ظاہر ہوتا تھا جیسے پولیس کے ہتھے کوئی نامی گرامی دہشتگرد لگ گیا جس کے فرار کے امکانات کے پیش نظر اسے یوں جکڑ کر لایا گیا۔

لیکن بات یہ نہیں بلکہ بات اتنی سی ہے کہ یہاں اب گرفتاریوں کا موسم ہے جس میں صرف حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والوں کا ہی باری باری نمبر لگا ہوا ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ اگلی باری کس کی ہے لیکن اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سب اس بات پر متفق ہیں کہ آج نہیں تو کل ان کی باری ہے۔ وجہ صرف اتنی سی ہے کہ آج کل یہ بات پہلے طے کی جاتی ہے کہ کس کو گرفتار کرنا ہے۔ کسے کب تک پس دیوارِ زندان رکھنا ہے۔ اس کے سر کون سا جرم تھوپنا ہے یا اسے کس کیس میں گرفتار کرنا ہے اس کا فیصلہ بعد میں کیا جاتا ہے۔ یہ سیدھی سیدھی انتقامی سیاست ہے۔ قانون کی رٹ قائم کرتے ہوئے ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ قانون کی نظر میں سب (اپوزیشن) برابر ہے اور کوئی مانے یا نا مانے یہ حقیقت ہے کہ ایسے انتقامی اقدامات سے احتساب کا سارا عمل ہی مشکوک ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ عرفان صدیقی جیسوں کی گرفتاری سے رانا ثنا اللہ جیسوں کو بھی وہ ہمدردیاں حاصل ہونے لگی ہیں جو عام حالات میں تصور بھی نہیں کی جاسکتی تھیں۔ بظاہر جن ہتھکڑیوں میں عرفان صدیقی جکڑے دکھائی دے رہے ہیں اگر بنظر غائر دیکھیں تو درحقیقت وہ ہتھکڑیوں میں جکڑے ہاتھ قانون اور انصاف کے تھے۔

 

One Comment

  1. Avatar
    feshop ru   September 7, 2019 1:38 am/ Reply

    Highly descriptive blog, I ⅼiked thаt bit. Willl thеre be а part 2?

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں