کلبھوشن کیس: آئی سی جے کا جھکاؤ کس جانب تھا؟

July 20, 2019

 

تحریر: محمد ساجد الرحمن

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ  آنے کے بعد  سرحد کے دونوں  جانب خوشیاں منائی جارہی ہیں۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے تو اس کا جھکاؤ کافی حد  بھارت کی جانب تھا۔ فیصلے پر بحث کرنے سے پہلے اس کیس کے پس منظر کوجاننا بہت ضروری ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سےگرفتارکیا گیا تھا۔ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا، جس پر ملٹری کورٹ نے بھارتی جاسوس کو موت کی سزا سنائی تھی۔

8 مئی 2017 کو بھارت نےعالمی عدالت سے رجوع کیا۔ آئی سی جے میں کی گئی اپیل میں بھارت نے  مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن  یادیوکو دی جانے والی سزا ویانا کنویشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی  ہے ۔ ملٹری کورٹ کے فیصلے کو  کالعدم قرار دیا جائے  کیونکہ کلبھوشن پرچلایا جانے والا مقدمہ فیئر ٹرائل نہیں تھا اور سزا سنائے جانے سے قبل بھارت کو سفارتی رسائی نہیں دی گئی،اس لیےعدالت انسانی حقوق کے تحت کلبھوشن کی رہائی کا حکم جاری کرے۔ بھارت کی جانب سے اپیل میں کیا گیا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ اگرعالمی عدالت کلبھوشن کو ملوث قرار پائے  اور سزا   کو کالعدم قرار دینا ناممکن ہو تو عدالت پاکستان کو  ملٹری کورٹ کے فیصلے  پر عمل درآمد کرنے سے روک دے۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پاکستان کو پابند کیا جائے کہ کلبھوشن کا ٹرائل سویلین عدالت میں کیا جائے اور تمام سول اور سیاسی حقوق  بھی فراہم کیے جائیں۔

پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت میں مؤقف اپنایا گیا کہ  کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت عالمی عدالت انصاف کے  دائرہ اختیار میں ہی نہیں ہے کیونکہ 21 مئی 2008 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی رسائی  کے لیے ایک اور اہم معاہدہ طے کیا گیا تھا۔ اس معاہدے  کے تحت قومی سلامتی اور جاسوسوں کے معاملات میں متعلقہ ملک کے سفیر کو رسائی دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے اس معاہدے کو ویانا کنونشن پر برتری حاصل ہے۔  اگر ویانا کنویشن کا جائزہ بھی لیا جائے تو اس کا اطلاق صرف عام شہریوں اور جنگی قیدیوں پر ہوتا ہے۔

دونوں ممالک کے دلائل سننے کے بعد عالمی عدالت انصاف  کی جانب سے دیئے گئے فیصلے میں پاکستان کے اعتراضات کو مسترد کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ویانا کنویشن کے تحت عالمی عدالت کویہ کیس کو سننے کا اختیار حاصل ہے۔ بھارتی اپیل پر عالمی عدالت انصاف  کی جانب سے کیے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ویانا سمجھوتہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان اس بات کا پابند تھا کہ کہ وہ بھارت کو تمام معلومات فراہم کرے۔ آئی سی جے نے اپنے فیصلے میں  کہا ہےکہ پاکستان نے بھارتی جاسوس کو وکیل کی سہولت فراہم نہ کرنے پرآرٹیکل 36(a) کی خلاف ورزی کی ہے اور پھانسی کی سزا پر اس وقت تک حکم امتناع جاری رہنا چاہیے جب تک  پاکستان اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کرتا۔ ویانا کنویشن کے تحت پاکستان اپنی مرضی سے کیس میں مؤثرنظر ثانی کرے گا تاکہ  پاکستان سے  سفارتی معاملات میں جو خلاف ورزیاں سرزد ہوئی ہیں، ان کا ازالہ ممکن ہو سکے۔ آئی سی جے نے پاکستانی فوجی عدالت کا فیصلہ منسوخ کرنے اور کلبھوشن یادیو کی حوالگی کی بھارتی استدعا  مسترد کردی جبکہ  حسین مبارک پٹیل کے نام سے کلبھوشن کے دوسرے پاسپورٹ کو اصلی قرار دیا  گیا ہے۔

ویانا کنوینشن کے آرٹیکل 36(a) میں کسی بھی ریاست کے باشندے کو  قونصلر رسائی اور دیگر حقوق کی بات کی گئی ہے۔ ویانا کنویشن  کے پہلے پیراگراف میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ریاستوں کے نمائندوں کو اپنے ملک کے  شہریوں کے ساتھ گفتگو کرنے  میں مکمل آزادی ہو گی اور وہ ان تک باآسانی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر کسی شہری کو  گرفتار کیا جاتا ہے تو  اس کے خلاف عدالتی کارروائی سے قبل مہمان ریاست کی ذمہ داری ہو گی کہ متعلقہ ریاست کے  قونصلر کو مطلع کرے۔آرٹیکل 36 کے دوسرے پیراگراف میں بتایاگیا ہے کہ اگر پہلے پیراگراف کو مدنظر رکھتے ہوئے شہری کو سزا اس ملک کے قوانین اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہی ہو گی۔

قونصلر رسائی سے مراد جب ایک ملک کا شہری دوسرے ملک میں کسی بھی کیس میں گرفتار ہو جاتا ہے تو اُس ملک میں متعلقہ شہری کے سفارت خانے کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہری کی مدد کے لیے جہاں تک ممکن ہوسکے کوشش کرے۔ اس کے علاوہ  اسے  تمام سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی تگ ودو کرے،وہ  مدد ضروریات زندگی کے حوالے سے بھی ہو سکتی ہے اور  قانونی چارہ جوئی کے لیے  وکیل  کی فراہمی بھی ہو سکتی ہے۔ موجودہ کیس میں  پاکستانی حکام بھارتی ہائی کمیشن سے اپنا نمائندہ نامزد کرنے  کے لیےرابطہ کرے گی۔ نمائندے کا نام  ملزم سے ملاقات کے لیے دیا جائے گا جس کے بعد ملاقات کا دن اور دورانیہ طے کیا جائے گا۔

پاکستان میں ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف نظر ثانی اپیل ہائیکورٹ میں کی جاتی ہے ۔ اگر سویلین عدالت میں کلبھوشن کیس کی دوبارہ  سماعت کی گئی تو  بھارت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا ہو جائے گا۔ عالمی عدالت کے فیصلے کو دونوں ممالک میں اپنی اپنی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن اگر فیصلے کا جائزہ لیا جائے تو عالمی عدالت انصاف نے اپنے اختیارات سے کافی حد تک تجاوز کیا ہے اور بھارتی لابی کو خوش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ فیصلے میں  کلبھوشن یادیو کو دہشت گرد کے  بجائے بھارتی شہری کا درجہ دیا گیا ہے حالانکہ وہ ایک دہشت گرد ہے اور پاکستان میں نقصان پہنچانے میں ملوث رہا ہے۔ویانا  کنونشن دہشت گردوں کی حفاظت کے لئے ہرگز نہیں تھا۔ اس معاملے میں عدالت بھارت کو عالمی دہشت گرد  بھی قرار دے سکتی تھی۔