کراچی کا دیوار گریہ

July 19, 2019

ہمیشہ کی طرح آج بھی یہاں بھیڑ لگی ہے، لوگ اپنے حقوق کا رونا رو رہے ہیں، ہماری مانگیں پوری کرو ورنہ؟ ہمیں ہمارے حقوق نہ ملے تو آخری حد تک جائیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ کراچی پریس کلب کے باہر کے مناظر ہیں، جہاں روزانہ سیکڑوں لوگ آتے ہیں، رونا دھونا کرتے ہیں۔ صحافی اپنے کیمروں کے ذریعے ان کی آواز حکومت تک پہنچاتے ہیں اور یوں ان میں سے بعض کی سُن لی جاتی ہے اور بعض کی نہیں۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دیوار کے ساتھ ٹینٹ لگا کر یہیں ڈیرا جما لیتے ہیں، چونکہ یہاں دن بھر نعرے بازی اور رونا دھونا چلتا رہا ہے اس لیے اس دیوار گریہ کہنا بے جا نہ ہوگا۔

گیٹ سے اندر داخل ہوں تو یہاں ان دنوں ایک نئی دنیا آباد ہے، انگریز دور کی پرشکوہ عمارت کے سامنے، بڑے سے شیڈ کے نیچے کُرسیاں بچھی ہوئی ہیں، جس پر صحافی حضرات خوش گپیوں میں مصروف ہیں، شیڈ سے متصل ایک چھوٹا سا لیکن دلکش لان آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ وہاں ایک پرانے جاننے والے سے ملاقات ہوگئی، جنہوں نے اپنے ساتھ بیٹھے دوستوں کا تعارف کچھ اس طرح کرایا۔

ان سے ملیے، یہ سہیل صاحب ہیں، بہت ہی سینئر صحافی ہیں، کئی اخبارات اور ٹی وی چینلز میں کام کیا، کافی تجربہ کار ہیں۔

اچھا اچھا، بڑی خوشی ہوئی آپ سے ملکر ، آج کل کہاں ہوتے ہیں؟ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

جی آج کل بے روزگار ہیں، بس ہاتھ پیر مار رہے ہیں، دعا کیجئے اللہ پاک بہتر کرے۔

اچھا ان کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے، فلاں پروگرام کیا کرتے تھے، ان کے آرٹیکلز بھی چھپتے تھے، فلاں فلاں چینل سے ان کا تعلق رہا ہے۔

اچھا اچھا، آج کل کہاں ہوتے ہیں؟

بس کیا بتائیں، یہی ہمارا گھر ہے، دعا کریں کوئی سبب بن جائے۔

پاکستان میں میڈیا انڈسٹری ان دنوں زوال کا شکار ہے، سیکڑوں صحافی بے روزگار ہوچکے ہیں۔ جن کا روزگار برقرار ہے وہاں تنخواہوں کے لالے پڑے ہیں اور جہاں تنخواہیں مل رہی ہیں اُنہیں یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ اُن کا وقت کب آئے گا؟

عمومی طور پر عوام میں تاثر راسخ ہوچکا ہے یا کر دیا گیا ہے کہ میڈیا انڈسٹری ماضی کی حکومتوں کے بل پر کھڑی تھی، جیسے ہی حکومت تبدیل ہوئی، میڈیا کے حالات بھی بدل گئے۔ یقینا یہ بات کسی حد تک درست ہوسکتی ہے، لیکن پاکستان ہی کیا، ہمارے صحافی دوست جو باہر بیٹھے ہیں کا بھی یہی رونا دھونا ہے کہ یار پہلے والی بات نہیں رہی، عالمی سطح پر کئی نامور اخبارات یا تو بند ہوچکے ہیں یا اُن کے منافع میں واضع کمی آئی ہے۔ میڈیا انڈسٹری کے زوال کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن میرے خیال سے جتنا نقصان اسے اسمارٹ فون نے پہنچایا ہے اُتنا شاید کسی اور نے نہیں۔

وقت گزرتا جا رہا ہے اور یہ چھوٹا سا اژدھا کئی چیزوں کو نگلتا جا رہا ہے۔ موبائل آیا گھڑی گئی، کیلنڈر گیا، خط، ٹیلیفون، الارم، ریڈیو، ٹارچ، بھاری بھر کم کتابیں، تنہائی ، سب نگل چکا ہے اور اب اس کا مقابلہ ہے ایل سی ڈی اسکرین سے، جسے بڑی حد تک یہ پچھاڑنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ فلمیں، ڈرامے، نیوز، سب ڈیجیٹل میڈیا پر شفٹ ہوچکا ہے۔

 ہمارے کچھ ساتھی کہتے ہیں میڈیا ہی کیا، ہر جگہ یہی حال ہے، جب سے یہ حکومت آئی ہے، کاروبار کا بھٹہ ہی بیٹھ گیا ہے، لہٰذا اب دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

شام ڈھل رہی تھی اور مجھے گھر جانا تھا لہٰذا میں نے ساتھیوں سے اجازت لی۔ گیٹ سے باہر آیا تو دیکھا مظاہرے ختم ہوچکے تھے لیکن کچھ لوگ دیوار کے ساتھ عارضی کیمپ لگائے اس اُمید پر بیٹھے تھے کہ جلد اُن کی مرادیں بھر آئیں گی۔ تسلی ہوئی، چلو اچھا ہے۔ کوئی تو ہے جس کے پاس آس اُمید نام کی کوئی چیز ہے۔ ورنہ دیوار گریہ کے اُس پار بیٹھے لوگ تو اُمید سے بھی ہاتھ دھوتے جا رہے ہیں۔