ہوم   >  بلاگز

تحریک آزادی کشمیر کا گمنام ہیرو

5 months ago

سن 1846 کا سال عہد نامہ امرتسر کی شکل میں تاریخ کا ایک سیاہ ترین سال ہے۔ اس سال انگریزوں نے 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض کشمیر کا سودا سکھوں مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں کیا۔ سکھ شاہی رائج ہوتے ہی کشمیریوں پر زندگی تنگ کردی گئی۔ فصلوں پر خراج یا ٹیکس کی صورت حال تھی کہ کشمیریوں کو سال بھر محنت کے بعد بھی چند من ہی اناج دستیاب ہوتا تھا۔ کشمیریوں سے بیگار لینا مہاراجہ کا معمول تھا۔ کرشن چندر مشہور افسانہ نگار ہیں۔ کشمیریوں کی حالت زار پر وہ لکھتے ہیں کہ راجہ اور اس کے ساتھیوں ، سپاہیوں اور اہلکاروں کا معمول تھا کہ کشمیر بھر میں جہاں بھی کوئی خوش شکل لڑکی نظر آتی وہ اس کی عزت تار تار کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ کشمیریوں کو صحت و تعلیم کی سہولیات تک نہیں دی گئیں۔ اسی ظلم و بربریت میں 85 سال گزر گئے۔

کشمیریوں میں 1931کے عرصے کے دوران تعلیم حاصل کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا۔ کشمیری نوجوان علی گڑھ ، دہلی ، لاہور اور دیگر اعلیٰ تعلیمی مراکز میں جاکر تعلیم حاصل کرنے لگے۔ نوجوانوں میں تعلیم کے آتے ہی خود کو بدلنے کا شعور آیا۔ ان کے اندر ڈوگرہ راج کیخلاف جدوجہد کرنے کا رجحان فروغ پانے لگا۔اس وقت کشمیر پر مہاراجہ ہری سنگھ کی مطلق العنان حکومت تھی۔ یہ دور بھی کشمیریوں کیلئے بدترین دور تھا۔اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف منظم تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپریل 1930میں سری نگر میں مفتی ضیاء الدین کی رہائش گاہ پر نوجوانوں کا اجلاس ہوا اور ریڈنگ روم کی بنیاد رکھی۔ ریڈنگ روم سے منسلک نوجوانوں نے جامع مسجد سری نگر، خانقاہ معلی اور گاو کدل میں تقاریر کا سلسلہ شروع کردیا ، جس سے ڈوگرہ سرکار کے ایوانوں میں تہلکہ مچ گیا۔ اسی دوران ریڈنگ روم کے عہدیداروں اور سرکردہ کشمیری رہنماوں نے ڈوگرہ راج کے مظالم کے خلاف ایک یاداشت مہاراجہ کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔مشاروت کے بعد میرواعظ مولانا یوسف شاہ، مولوی احمد اللہ ہمدانی، چودھری غلام عباس، شیخ محمد عبداللہ، خواجہ سعد الدین شال، خواجہ غلام احمد عشائی اور آغا سید حسین شاہ سمیت اہم رہنماوں کے ناموں پر اتفاق کیا گیا۔

اکیس جون 1931کو ناموں کے حوالے سے عوام کو آگاہ کرنے کیلئے جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔جلسے کے اختتام پر شرکاء اپنے گھروں کی جانب جانے لگے تھے کہ ایک نوجوان اٹھا اور عوام سے مخاطب ہونے لگا،نوجوان کا کہنا تھا، ’’ بے شک مہاراجہ کی فوج کے پاس بندوقیں اور توپیں ہیں اور تم نہتے ہو۔ مگر تم پتھر اورلاٹھیوں کا استعمال کرکے مہاراجہ کی فوج کا مقابلہ کرسکتے ہو۔ مورخین کے مطابق  اْس نوجوان نے یہ بھی کہا کہ یاداشت پیش کرنے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا اور اپنی تقریر کے اختتام پر مہاراجہ پیلس کی طرف انگلی اٹھا کر اعلان کیا کہ اٹھو اور اس محل کی اینٹ سے اینٹ بجا دو‘‘۔ اس نوجوان کے بارے میں جلسے کے شرکاء نے ایک دوسرے سے دریافت کیا لیکن کوئی بھی اس کے بارے میں جانتا تک نہیں تھا۔ نوجوان کا نام عبد القدیر تھا، بعض مورخین کے مطابق وہ اترپردیش کا تھا اور انگریز خاتون سیاح کیساتھ کشمیر آیا تھا۔ بعض تاریخ دان اسے افغان اور چند ایک اسے رائے بریلی کا بتاتے ہیں ۔ تاہم اسے آج تک کوئی نہیں جان پایا کہ وہ نوجوان کون تھا ، جس نے کشمیریوں میں بغاوت کی روح پھونکی۔ جس نے ڈوگرہ سرکار کیخلاف اٹھ کھڑے ہونے کا درس دیا۔ جس نے بیڑیوں میں جھکڑے کشمیریوں کو آزادی کی اہمیت کا احساس دلایا۔ ڈوگرہ سپاہی عبد القدیر کو گرفتار کرکے لے گئے۔ اس گرفتاری کے بعد ہی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے ایک لا متناہی سفر کا آغاز ہوگیا-

تیرہ جولائی 1931 کو عبد القدیر کے مقدمے کی سماعت سینٹرل جیل میں ہونا تھی، جس کے لئے ہزاروں کی تعداد میں کشمیری جیل کے باہر جمع ہوگئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مقدمے کی سماعت جیل کے صحن میں کی جائے۔اسی دوران نماز ظہر کا وقت ہوگا۔ ایک کشمیری نوجوان نے آگے بڑھ کر اذان کہی، ڈوگرہ سپاہی نے اذان کہتے نوجوان کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ اسی دوران ایک اور نوجوان اذان مکمل کرنے کیلئے آگے بڑھا ، جس کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا۔ یوں صرف ایک اذان مکمل کرنے کیلئے 22 کشمیری نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ انگریزمورخین کے مطابق تمام نوجوانوں کے سینے میں گولیاں لگی تھیں۔ اسی افرا تفری کے دوران 100 سے زیادہ کشمیری زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد کشمیریوں نے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی۔

تحریک آزادی کے گمنام مجاہد عبد القدیر نے کشمیریوں کو ایک نیا جذبہ دیا۔ جدوجہد آزادی کا راستہ دکھایا مگر بعدازاں بھارت کی چالاکی اور انگریز حکومت کی پالسیویں کے بعد کشمیریوں کو ایک بار پھر شدیدکرب میں مبتلا کردیا۔ آج عہد نامہ امرتسر کے 173 سال گزرنے کے باوجود آزادی کی نعمت کو ترس رہے ہیں۔ آج بھی کشمیری خون کی ندیاں بہا رہے ہیں۔ آج بھی مرکزی جامعہ مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی ہے۔ آج بھی خانقاہ معلیٰ اور درگاہ حضرت بل میں کشمیریوں کے جانے پر پابندی ہے۔ کشمیر میں آج بھی برہان وانی کی صورت میں کئی گمنام کرداراس تحریک کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں