ایک اور ویڈیو کہانی

July 8, 2019

ملک کے بیشترحصوں میں جہاں موسم گرم ہے وہیں پچھلے چند روز میں پاکستان کےسیاسی درجہ حرارت میں بھی کافی تیزی دیکھنے میں آئی۔ 6 جولائی بروز ہفتہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ہمراہ ایک تہلکہ خیز پریس کانفرنس کی۔ جس میں نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی مبینہ آڈیو ویڈیو ٹیپ جاری کی۔

الزام لگایا گیا کہ نوازشریف کے خلاف فیصلہ دباؤ میں کیا گیا۔ دوران کانفرنس مریم نواز بہت پراعتماد دکھائی دیں۔ ویڈیو کے بعد مریم نوازنے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اب نوازشریف کا جیل میں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ پریس کانفرنس کے فوراً بعد ملکی سیاست میں بھونچال سا آگیا۔ تمام میڈیا کی توجہ جو اس وقت تک سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کی چند روز قبل ہونے والی گرفتاری اور کرکٹ ٹیم کی ورلڈکپ کی دوڑ سے باہرہونے پر مرکوز تھی وہاں سےہٹ کر مریم نواز کی پریس کانفرنس اور خاص طور پر اس میں پیش کی گئی ایک ویڈیو پر مرکوز ہوگئی۔

وطن عزیز میں ایک ویڈیو میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ بڑے بڑے مسائل کو پس پشت ڈال کر سب کی توجہ ہتھیانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ ویڈیو کے مرکزی کردار ن لیگ لندن کے نائب صدر ناصر بٹ ہیں جن سے جج ارشد ملک نےتعلقات کا اعتراف بھی کیا۔ لیکن ۔۔۔۔۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد بٹ صاحب منظر سے غائب نظر آئے۔ جج ارشد ملک نے اگلے ہی روز مریم نواز کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ایک پریس ریلیز جاری کی اور ویڈیو کو’’ جعلی‘‘ قرار دیا۔

جج صاحب نے بھی ن لیگ پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ ان کے مطابق نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران انہیں رشوت کی پیش کش کی گئی اور دھمکیاں بھی دی گئیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر جج صاحب کو ن لیگ کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں تو وہ پہلے کہاں تھے۔۔۔ ؟ رشوت کی پیش کش کس نے کی؟نام بھی بتا دیتے تو بہتر ہوتا۔ کیا انہوں نے پہلے متعلقہ فورم پر اس بات کی شکایت کی تھی۔۔۔؟ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کو اس تمام معاملے کا از خود نوٹس لینا چاہئےاور حقائق پوری قوم کے سامنے لانے چاہئیں کیونکہ معاملہ ایک فرد یا جماعت کا نہیں بلکہ عدلیہ کی ساکھ اور وقار کا سوال ہے۔

جج ارشد ملک کے مطابق ویڈیو میں گفتگو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ،یعنی جج صاحب اس ملاقات اور ویڈیو کی حقیقت سے انکاری نہیں۔‏ مریم نواز بھی کہتی ہیں کہ جو ویڈیو ثبوت کے طور پر پیش کی اس کا فارنزک آڈٹ کروا لیں ۔ وفاقی حکومت نے بھی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کا فارنزک آڈٹ کرانے کا اعلان کیا ہے۔ فارنزک ہو گا تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔

مریم نواز نے منڈی بہاؤالدین میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کیلئے خوشخبری ہے وہ بے گناہ ثابت ہوچکے اور نوازشریف کو جیل میں رکھنا جرم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الزامات در الزامات کی اس سیاست میں کون جھوٹا کون سچا۔۔؟ اگر ویڈیو سچی نکلی تو نواز شریف کے خلاف کیے گئے فیصلے مشکوک قرار پائیں گے لیکن جعلی نکلی تو یہ مریم نواز کی جانب سے ایک اور کیلبری فونٹ ثابت ہوگا۔