صحافیوں کی تربیت کے حوالے سے اقدامات کی ضرورت

July 8, 2019

صحافیوں پر تشدد کے واقعات پر تحقیق کے بعد واضع ہوا ہے کہ زیادہ تر واقعات پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت کی کمی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کو اس بات کی تربیت ہی نہیں دی جاتی کہ کس واقعے کو کب، کیسے اور کس طریقے سے کور کرنا ہے۔ حالانکہ جس طرح ریسکیو 1122 کے جوانوں کی تربیت کی جاتی ہے کہ پہلے خطرے کا جائزہ لیں اور خطرے سے محفوظ ہونے کی صورت میں آپریشن کے ایریا میں داخل ہوں اسی طرح صحافیوں کی بھی تربیت ہونی چاہیے۔

یک طرفہ موقف اور کسی بھی بڑے مسئلے میں صحافی کا پارٹی بن جانا ایسے مسائل ہیں جو صحافیوں کی ہراسمنٹ کے واقعات میں زیادہ عام نظر آرہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تشدد، گرفتاری، یا ہراسمنٹ کے واقعات تب ہی پیش آتے ہیں جب ہم اداروں کے کام میں مداخلت کرتے ہیں۔ ملک کی اہم معلومات بغیر موقف یا مشاورت کے شائع کر دیتے ہیں۔ دشمن کو سپورٹ اور بیرون ملک سے آئے ہوئے لوگوں کو بغیر سکیورٹی رجسٹریشن کے وزٹ کرواتے ہیں۔

صحافتی تربیت کے فقدان کے پیش نظر ہراسمنٹ کا ایک واقعہ ڈیرہ غازی خان میں نجی اخبار کے رپورٹر جاوید صدیقی کے ساتھ پیش آیا۔ انہوں نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقدمہ نمبر 282/18 زیردفعات 302، 324 پولیس اسٹیشن شاہ صدر دین ضلع ڈیرہ غازی خان میں محمد شفیع عمرانی کے خلاف درج ہے۔ ملزم کے لواحقین کی جانب سے اس کی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے آر پی او ڈیرہ غازی خان محمد عمر شیخ کو تفتیش تبدیلی کے لیے دی گئی درخواست منظوری کے بعد 21 مئی کو صبح ساڑھے 8 بجے آر آئی بی برانچ سے انسپکٹر غلام شبیر نے فون پر درخواست دہندہ محمد عرفان عمرانی کو پیرعادل دربار پر بلایا۔ محمد عرفان نے نیوز کوریج کے لئے مجھے بھی فون پر اطلاع دی۔ پیر عادل پہنچنے پر پولیس انسپکٹر غلام شبیر 2 کانسٹیبلان کے ہمراہ سرکاری گاڑی پر ہمیں جائے وقوعہ سابق وائس چیئرمین پیر عادل سیف اللہ گاڈی کے ڈیرہ پر لےگیا جہاں پہنچتے ہی دیکھا کہ پتافی برادری کے 15 سے 20 افراد ہماری طرف آ رہے ہیں۔ محمد عرفان عمرانی نے تفشیشی پولیس انسپکٹر سے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ لوگ ہم پر دوبارہ حملہ آور نہ ہو جائیں تو پولیس آفیسر غلام شبیر نے کہا کہ آپ سیف اللہ کی بیٹھک میں بیٹھ جائیں۔ میں پتافی برادری کا بیان لے کر آپ لوگوں کا بیان لیتا ہوں۔ ہم محمد عرفان، قربان حسین، حمیداللہ سمیت 6 افراد کمرے میں جا کر بیٹھ گئے۔ پتافی برادری کے گروہ نے آتے ہی مین گیٹ کو باہر سے بند کر دیا۔ خطرے کو بھانپتے ہوئے محمد عرفان نے جس کمرے میں ہم موجود تھے اس کو اندر سے کنڈی لگا دی جس پر پتافی برادری کے افراد نے کھڑکیوں کے شیشے توڑ ڈالے۔ ہم نے کھڑکیوں کے آگے چارپائی اور میز کھڑی کردی۔ پتافی برادری کے افراد نے کھڑکیوں اور دروازے سے اندھادھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 4 افراد شدید زخمی جبکہ دو معمولی زخمی ہوئے۔ پہلے جو پولیس ساتھ آئی ہوئی تھی وہ فائرنگ دیکھ کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ پتافی برادری کے حملہ آور ہوتے ہی ہم نے ریسکیو 15 اور ڈی پی او ڈیرہ غازی خان کو فوری اطلاع دی، 45 منٹ بعد پولیس موقع پر پہنچی اور فائرنگ کر کے پتافی برادری کے مسلح افراد کو منتشر کیا اور ہمیں پولیس نے اپنی حفاظت میں لے کر ٹراما سینٹر منتقل کیا۔ پولیس نے موقع سے کلاشنکوف کے 182 خول برآمد کیے۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور 3 ملزمان کو اسلحہ سمیت گرفتاری کے بعد چلان کردیا گیا ہے۔ دو جون 2019 کو پتافی برادری کی جانب سے مساجد میں اعلان کروائے گئے کہ پیر عادل شہر میں عمرانی برادری کی کوئی دکان کھلی نظر نہ آئے اگر کوئی دکان کھلی نظر آئی تواس پر بیٹھے شخص کو چاہے وہ ملازم ہی کیوں نہ ہو گولی مار دی جائے گی۔

ایس ایچ او تھانہ شاہ صدر دین عمران نے بتایا کہ سب کو علم ہے کہ پیرعادل شاہ کے مشہور تہرے قتل کیس میں دونوں پارٹیز ایک دوسرے کی جان کی دشمن بنی ہوئی ہیں۔ اس صورت حال میں کوریج کے لیے جاوید صدیقی کا اکیلے جانا اور دونوں فریقین میں سے صرف ایک کے ساتھ رابطے میں رہنا ثابت کرتا ہے کہ جاوید وہ اپنی دوستی نبھا رہے تھے۔ اب چونکہ ان پر فائرنگ ہوگئی ہے تو اسے صحافت پر حملہ شمار کیا جا رہا ہے جو کہ صریحا غلط ہے۔

سینئر قانون دان مرزا عرفان بیگ ایڈووکیٹ نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبضہ، ڈکیتی، لڑائی جھگڑا، بم بلاسٹ اور کوئی بھی ایسی صورت حال جس میں عوام مشتعل ہو وہاں بغیر حفاظتی اقدامات کے رپورٹنگ نہیں کرنی چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں سب سے بڑا مسئلہ صحافت کے حوالے سے حکومتی قوانین کا فقدان ہے۔ تمام پریس کلبز اکابرین کو چاہیے کہ حفاظتی سامان اور صحافیوں کی تربیت کے حوالے سے میڈیا ہاؤسز کو خط لکھیں اور صحافت کے بچاو لے لیے اقدامات کیے جائیں۔ سینئر جرنلسٹ فرید اللہ چوہدری نے بتایا کہ 2013 سے پہلے تک ہر چینل اور اخبار اپنے رپورٹرز کو ٹریننگ کرواتا تھا اگر مالکان ٹریننگ لیٹ کرتے تو سینئر پروڈیوسر اور ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے انہیں بار بار رپورٹرز کی ٹریننگ کے لیے یادہانی کروائی جاتی تھی لیکن اب کیوں کہ صحافتی بقاء کی بجائے نمود نمائش کا دور ہے تو ٹریننگ پر آنے والے اخراجات کو فضول خرچی گردانا جاتا ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ صحافت کی بقاء کے لیے صحافتی لائسنس کا اجراء کرے جس کا حصول صحافتی ڈگری اور تربیت کے بغیر ممکن نہ ہو اور بلامعاوضہ صحافتی سرگرمیاں انجام دینا جرم قرار دیا جائے۔ صرف یہی ایک راستہ ہے جس سے ہم صحافت کے کھوئے ہوئے تشخص کو بحال کر سکتے ہیں اور بلیک میلرز اور جرائم پیشہ افراد کو صحافتی چھت مہیا کرنے والی فیکٹریاں بند ہو سکتی ہیں۔