Thursday, October 22, 2020  | 4 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

اجتناب ۔۔۔ اجتناب ۔۔۔ اجتناب وینا جی

SAMAA | - Posted: Jul 2, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Jul 2, 2019 | Last Updated: 1 year ago

تصویر: آفیشل ٹوئٹر ہینڈل

بس کے سفرکا تجربہ ہو تو آپ نے مہربان، صاحبان، قدردان کی صدائیں لگاتے ایک شخص کو ضرور دیکھا اورسنا ہوگا جو اپنی 5 اور 10 روپے والی پراڈکٹ کو ہردکھ درد کا واحد علاج بتانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے تا کہ منجن بک جائے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ قوم کے غم میں مرے جانے والوں کو درپیش ہے جو اپنے ’’پرخلوص درد ‘‘ کو ظاہر کرنے کیلئے ٹوئٹریاتی فورم کا سہارا لیے ہوئے ہیں۔

ایسا کرنے والے بتلاتے ہیں کہ وہ تو یہ سب قوم کے درد میں کر رہے ہیں لیکن یہ کیسا علاج ہے جو بجائے شفایابی کے پہلے سے ہی متعدد امراض کا شکار اس لولی لنگڑی قوم کو کینسر بن کرچمٹ گیا ہے؟ نہ جانے کیسا چسکا ہے کہ گند اچھالنے سے جی اوبتا ہی نہیں، ہاتھ غلاظت سے لتھڑے ہیں لیکن دکھائی ہی نہیں دیتا کیونکہ اس دربار شاہی میں جب دادوتحسین کے ڈونگرے برسانے والوں کی کمی نہ ہو تو پھرکون سوچے کہ کیاصحیح اور کیا غلط ۔۔۔۔ بس محفل سجی رہے اور رونقیں جمی رہیں ۔

ایسا ہی شدید درد آج کل اداکارہ وینا ملک کولاحق ہے جو اپنی مصروف ترین زندگی سے نہ جانے کس طرح ڈھیرسارا وقت نکال کر قوم کو مفکر اعظم بنا ڈالنے والی بلا ٹوئٹر پر صرف کرتی ہیں اور نہ جانے کیا جادو کرتی ہیں کہ کسی پہنچے ہوئے پیر کے سادہ لوح اور اندھا اعتقاد رکھنے والے عقیدت مندوں کی طرح ’’ ہائی ٹیک مریدوں ‘‘ کی تعداد بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ وینا ملک کے آفیشل ٹوئٹرپیج کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی نظرکرم ایک ہستی پر بہت زیادہ رہتی ہے۔

سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا اشارہ ’’نانی اماں ‘‘ (بزبان وینا ملک ) یعنی مریم نواز کی جانب ہے۔ حمایت و مخالفت سے قطع نظر سیاست کے گندے دھندے کو ایک جانب رکھ کر سوچیں تو وینا ملک کی ٹویٹس میں استعمال کی جانے والی زبان کسی طور انہیں زیب نہیں دیتی۔ کہیں مریم کے ماضی کاذکرتو کہیں حال کو غلیظ بنانے کی کوشش میں وینا ملک اس قدر گرجاتی ہیں کہ شاید انہیں خود بھی اندازہ نہیں۔ کردار کو نشانہ بناتے ہوئے انتہائی ذاتی حملے کرنا ، بڈھی کا لفظ استعمال کرنا ، بیماری سے نہ مرا تو باپ کو خود زہردے دے گی جیسے جملے لکھنا اور نہ جانے کیا کیا جو لکھتے ہوئے بھی دل بوجھل ہوجائے ۔۔۔ اور سونے پہ سہاگا تنقید کے جواب میں وینا اس نفرت انگیز مہم کو اپنی شدید ترین حب الوطنی قرار دیتی ہیں۔ مطلب ؟ ایک شخصیت پر ذاتی حملوں سے گند اچھال کر کون سی حب الوطنی ظاہر ہو رہی ہے۔

وینا کی ایک حالیہ ٹویٹ میں انہوں نے اس عظیم الشان مشن کا مقصد بتاتے ہوئے لکھا کہ ’’لوگ نانی اماں سےاتنے تنگ ہیں کہ 2 گھنٹوں میں میرے حق میں 32 ہزار ٹویٹس کیے۔ میرے ارادے اور مضبوط ہوچکے ہیں ۔ میں ان سے تنگ آئی عوام کی آواز بنتی رہوں گی میری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہےجو پاکستانی عوام کا دشمن ہےاسے اپنا دشمن سمجھتی ہوں ، اگر پاکستانیوں سے عزت چاہیےتو قوم کا پیسہ واپس کرو۔۔‘‘۔

مان لیا وینا ملک کا مقصد نیک ہے اورانہیں قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس مطلوب ہے تو منطقی سوال یہ بنتا ہے کہ کوئی سیاسی عہدہ بھی نہ ہونے کے باوجود کیا وہ دولت اکیلی مریم نواز ہڑپ کرگئی ہیں۔۔۔ اور قوم ان سے اتنی تنگ کیوں ہے ؟ اس تحریر کو سیاسی ہرگز نہیں بنانا ورنہ مثالیں دینے کو بہت کچھ ہے کہ اس لوٹی دولت کے تانے بانے صرف نواز خاندان سے جا نہیں ملتے ، اس حمام میں بہت سے ننگے موجود ہیں جو ایک دوسرے سے اپنا آپ چھپائے پھرتے ہیں اس لیے نام لینا ہے تو سبھی کا لیں۔

ایک اور بات جوناقص عقل میں نہیں سما رہی کہ سیاسی حریفوں کی سوشل میڈیا ٹیمیں ہمہ وقت ’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘ کے مصداق اپنی ساری توانائیاں ایک دوسرے پر گند اچھالنے میں صرف کرتی ہیں۔۔۔ اسی لیے ن لیگ والے بھی وینا پر بھرپور جوابی حملے کر رہے ہیں جو کہ قطعا غلط ہے اور کوئی ذی شعور بھی اس جوابی گندگی کو نہی سراہے گا لیکن ۔۔۔۔۔۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جواب میں مریدین بڑھ چڑھ کر دفاع کرتے نظر آرہے ہیں کہ وہ سب کچھ وینا کا ماضی تھا ۔۔۔۔ وہ توبہ کرچکی ہیں، مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کے ہاتھ پربیعت کر چکی ہیں ۔۔۔ نیک ہدایت پا گئی ہیں ۔۔۔ اسلام میں بھی ایسا کرنے کا حکم نہیں وغیرہ وغیرہ تو صاحبان ۔۔۔۔۔ یہ کون سے اصول اور کون سا اسلام ہے جو صرف آپ کے لیڈر کی حمایت کرنے والوں پر اپلائی ہوتا ہے جو اس دائرہ مریدی سے باہر ہے اس پر جینا تنگ کرنا ہی مرشد کی اصل اطاعت ہے؟ وینا کو ماضی کے طعنے دینا ٹھیک نہیں تو مریم کے خلاف مہم میں کیا کیا جا رہا ہے؟ ۔

بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی والا حساب ہے ۔۔۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ وینا جو اب نجی چینل پرٹیلنٹ ہنٹ کا ایک پروگرام کر رہی ہیں تو کیا اس شو کے لیے پہنا جانے والا لباس ان کے گزشتہ دعوؤں کی نفی نہیں کرتا ( یہ بہرحال وینا کا ذاتی معاملہ ہے لیکن آپ پتھر پھینکیں گے تو اینٹ کی توقع بھی رکھنی پڑتی ہے ) ۔ کسی کی کردار کشی کو قوم کے درد اور حب الوطنی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا نے پہلے ہی اس قوم کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ کتاب سے دوری اور تاریخ سے لاعلمی اسی کا شاخسانہ ہے۔۔۔ لے دے کے قابلیت کا واحد معیار ٹوئٹر اور فیس بک ہی رہ گیا ہے جس پر ہر کوئی اپنے حساب سے دانشور بنا بیٹھا ہے۔

اس تحریر کا مقصد تضحیک یا دل آزاری کرنا ہرگزنہیں بلکہ یہ احساس دلانا ہے کہ اگرآپ کی تقلید کرنے والے بےشمار ہیں تو سیاسی اندھوں کا کانا راجا بننے کے بجائے ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔ یہ انداز بیاں ؟ ۔۔۔۔ اس کیلئے ترمیم کے ساتھ یہ مشہور مصرع ہی موزوں ہے کہ اجتناب ۔۔ اجتناب ۔۔۔ اجتناب وینا جی۔

ایک چیزواضح کرنا ضروری ہے، اس تحریر کو پڑھ کر میرا تعلق ن لیگ سے جوڑنے کے بجائے اپنی سوئی ہوئی عقل و شعور کو جگا کر سوچیے گا کہ کرپشن کا لوٹا پیسہ وطن واپس لانے کی یہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے جووینا ملک کے ہاتھوں میں تھما دی گئی ہے۔۔۔۔ دونوں طرف سے ہرلفظ تعفن زدہ اور بدبو دارہے ۔ سوچیں ، سمجھیں اورپھربطور سیاسی ورکر کے نہیں ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے فیصلہ کریں ۔

 @kokabmirza کوکب مرزا سما کی اسٹاف رائٹر اور بلاگر ہیں۔ ان سے ٹویٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube