ہوم   >  بلاگز

شیزو فرینیا کیا ہے؟ علامات، وجوہات اورعلاج

4 months ago

بعض لوگ یہ سوچ کر کھانا نہیں کھاتے کہ ان کے جسم میں ’کیڑے‘ ہیں، کھانا ان کو تقویت پہنچاتا ہے۔ ان کو یہ کیڑے اپنے جسم پر ہر جگہ نظر آتے ہیں مگر ان کے ارگرد لوگوں کو نظر نہیں آتے۔ وہ روزمرہ کے کاموں کو اس انداز میں سرانجام نہیں دے سکتے جس طرح نارمل لوگ کرتے ہیں۔

اگر آپ کے ارد گرد ایسے لوگ موجود ہیں تو جان لیں کہ یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے جسے شیزوفرینیا کہا جاتا ہے۔ اس میں مبتلا فرد کا حقیقت سے تعلق کٹ جاتا ہے، ان کو لگتا ہے جو کچھ وہ دیکھتے اور سونگھتے ہیں وہ سچ ہے۔

ماہر نفسیات ڈاکٹرحمیرا سعید کا کہنا ہے کہ شیزوفرینیا میں مبتلا افراد انتہائی شکی مزاج اور حساس بھی ہوسکتے ہیں اور اپنی صورتحال کے باعث وہ لوگوں سے دوری اور تنہائی پسند کرتے ہیں۔ ان کے اردگرد رہنے والوں میں کسی کو اندازہ نہیں ہوتا ہے ایسے افراد کس قسم کے حالات سے گزر رہے ہیں۔ یہ نفسیاتی عارضہ کافی زیادہ پھیل چکا ہے۔

آج سے دو سال قبل 2016 میں شکیلہ اختر نے ایک ریسرچ کی تھی جس کے مطابق پاکستان میں تقریبا ہر 6 افراد میں سے ایک فرد شیزوفرینیا میں مبتلا ہے جس میں ہر نسل کے مرد و خواتین شامل ہیں۔

شیزوفرینیا کی وجوہات

ڈاکٹر حمیرا سعید کے مطابق جن خاندانوں میں کچھ افراد پہلے سے شیزوفرینیا میں مبتلا ہوں، اس کے باقی افراد کے لیے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ عارضہ والدین سے بچوں میں جینیاتی نظام کے ذریعے بھی منتقل ہوجاتا ہے مگر غیر فعال ہوتا ہے اور پھر اس کے اردگرد کا ماحول اس غیر فعال عارضہ کو فعال کردیتا ہے۔ جو لوگ بچپن میں کسی صدمے سے گزریں، جسمانی، ذہنی اور جذباتی تشدد کا سامنا کریں، ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورت حال بھی اس عارضے کو متحرک کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ علاہ ازیں بچپن میں کسی انفیکشن یا وائرس کا حملہ ہوجائے اور اس کا درست علاج نہ ہو یا پھر دماغ میں ایک مخصوص کیمیکل کی مقدار بڑھ جائے تو بھی شیزوفرینیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

شیزوفرینیا کی علامات

انسان کی دماغی حالت کا اندازہ کسی بھی میڈٰیکل ٹیسٹ یا خون کے ٹیسٹ سے ممکن نہیں مگر کچھ علامات ایسی ہیں جن کو دیکھ کر ماہرین نفسیات دماغی حالات کی تشخیص کرلیتے ہیں۔ شیزوفرینیا کی علامات دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک مثبت اور دوسری منفی۔ یہاں مثبت سے مراد ’علامات کی موجودگی‘ ہے جبکہ منفی سے مراد دماغی صلاحیتوں کا متاثر ہونا اور غیر حقیقی خیالات شامل ہیں۔

مثبت علامات

شیزوفرینیا میں مبتلا افراد کے خیالات اور افعال مبالغہ آمیز ہوتے ہیں۔ وہ یہ تفریق نہیں کرپاتے کہ کیا حقیقت ہے اور کیا مفروضہ۔ وہ مختلف اقسام کی ہذیانی کیفیات اور نرگسیت کا شکار رہتے ہیں۔ ہذیانی کفیت وہ ہوتی جس میں بندہ کسی ایسی چیز کے بارے میں سوچتا ہے جو موجود ہی نہ ہو۔ ہذیاتی کیفیات کی مختلف شکلیں درج ذیل ہیں۔

آوازیں سننا

شیزوفرینیا میں مبتلا افراد کو مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں یہ آواز ایک بھی ہوسکتی ہے اور بہت ساری بھی حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔

چیزیں دیکھنا

اس نفسیاتی عارضے میں مبتلا افراد کو ایسی چیزیں یا لوگ بھی دکھائی دیتے ہیں جو دراصل سامنے موجود ہی نہیں ہوتے۔

حسا سیت

شیزوفرینیا میں مبتلا افراد جسمانی طور پر انتہائی حساس ہوجاتے ہیں۔ ان کو ہر وقت لگتا ہے کہ ان کے جسم کے اندر یا ارد گرد کوئی چیز رینگ رہی ہے یا حرکت کر رہی ہے۔

وہم

وہم بنیادی طور پر غلط عقائد اور جھوٹے خیالات پر مبنی ہوتے ہیں۔ شیزوفرینیا کا شکار افراد اس وہم میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ خلائی مخلوق ان کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہی ہے یا حکومت ان کو پکڑ رہی ہے۔ بعض افراد اس خبط میں مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ سیلیبریٹی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی بہت بڑے ایکٹر یا اسکالر ہیں۔ دوسری جانب کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کوئی ان کے پیچھے پڑ گیا ہے اور انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے یا کسی غلط جگہ پھنسانے کی کوشش ہورہی ہے۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو گانا سن کر سمجھتے ہیں یہ بالکل ان کیلئے ہے۔

منفی علامات

شیزوفرینیا کی منفی علامات میں دماغی صلاحیتوں کا متاثر ہونا شامل ہے۔ جیسے کہ بندہ ٹھیک سے سوچ نہیں سکتا، اس کا رویہ عجیب اور نقطہ نظر واضح نہیں ہوتا۔ شیزوفرینیا میں مبتلا افراد اکثر گھر سے نکلنا چھوڑ دیتے ہیں۔ لوگوں سے میل جول اور تقریبات میں شرکت سے گریز کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ الفاظ یا افعال کے ذریعے اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار نہیں کرپاتے۔ کسی کام میں دلچسپی نہیں رہتی اور اپنے ضروری کام بھی نمٹاتے ہوئے الجھن محسوس کرتے ہیں۔ صفائی ستھرائی کا خیال چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ صاف کپڑے پہننا اور نہانا بھی ترک کردیتے ہیں۔

آپ شیزوفرینیا میں مبتلا افراد کی مدد کیسے کرسکتے ہیں

اگر آپ کا کوئی عزیز اس نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہے تو ہر ممکن طریقے سے اس کی مدد کریں۔ ان کی حالت سے انہیں شرمندہ کرنے سے گریز کریں۔ ماہر نفسیات مدرہ اکرام کا کہنا ہے اگر کوئی کینسر میں مبتلا ہو تو ہم اسے کینسر کے حوالے سے نہیں بلاتے اور نہ ہی بار بار یاد دلاتے ہیں بالکل اسی طرح نفسیاتی عوارض میں مبتلا افراد کے ساتھ بھی ہمارا رویہ اچھا ہونا چاہیے۔

علاج

شیزوفرینیا کے علاج کیلئے دو معروف طریقوں میں تھراپی اور ادویات شامل ہیں۔ مختلف مریضوں کو مختلف ڈوز دی جاتی ہے، کسی کو کم اور کسی کو زیادہ۔ شیزوفرینیا کی ادویات عام طور پر 4 سے 6 ہفتے بعد اثر دکھانا شروع کردیتی ہیں۔ ان ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہیں مگر انہیں کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ تھراپی کے ذریعے بھی علاج ممکن ہےجس کے تحت مریض کو ابتدا میں چھوٹے موٹے اور آہستہ آہستہ بڑے اہداف دیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ کپڑے تبدیل کرنا، نہانا، دانت برش کرنا اور پھر نوکری ڈھونڈنے پر آمادہ کرنا یا اپنا کام شروع کرنے کا ہدف دینا شامل ہے۔

شیزوفرینیا کا علاج کہاں ممکن ہے

کوئی بھی ماہر نفسیات شیزوفرینیا کی تشخیص اور علاج میں مدد کرسکتا ہے۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں ماہرین نفسیات موجود ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں بھی نفسیات کے وارڈ قائم ہیں جہاں ماہرین نفسیات تعینات ہیں اور وہ اپنے پرائیویٹ کلینکس بھی چلاتے ہیں۔

 

شیزوفرینیا کا علاج کرنے والے اسپتالوں اور کلینکس کی لسٹ

 

Aga Khan University Hospital
https://hospitals.aku.edu/Pages/default.aspx

 

Pakistan Association for Mental Health 
It runs a free clinic.
Contact: 021 358 33 238
https://pamh.org.pk/

 

Karwan-e-Hayat
https://keh.org.pk/

Karwan-e-Hayat is a not-for-profit welfare organization which deals in mental conditions and treatment. Their payment policy depends on the income of the patient and their family. For first time visits it is best to visit their Khayaban-e-Jami OPD, where an interview of 30-45 minutes takes place. Once the consultant confirms the diagnosis, the patient is admitted to their rehabilitation programme.

Phone: (+92-21) 111 534 111, (+92-21) 3285 6773-75

Address: Khayaban-e-Jami OPD

101, Al Noor Arcade,

Near Qamar-ul-Islam Mosque,

Khayaban-e-Jami, Karachi

 

The Recovery House
https://www.caravanoflifetrust.org/

The Recovery House, a project of Caravan of Life Pakistan Trust, also works as a non-profit organization. You will have to get an appointment first; then they will interview you for 45 minutes and evaluate the patient’s state for free.

The next step is an assessment with a psychologist who will diagnose the patient. The sessions costs Rs2,000, but the fee is waived if a person can’t pay for it. The patient is either admitted or provided with a daycare facility.

Admission charges for a day are Rs5,000, while the daycare costs Rs1,000 per day.

The fee is charged depending on the financial situation of the patient. It may be waived for those who can’t afford it.

Phone: (021) 34546364

Address: 156 Tipu Sultan Rd, Bangalore Town Block A Kathiawar Society, Karachi

 

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں