کھیل، کھلاڑی اور کھابے

June 23, 2019

پاکستانی ٹیم انڈیا سے میچ ہار گئی، باولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ ہر حوالے سے بری کارکردگی دکھائی۔ میں نے لمحہ بہ لمحہ میچ دیکھا، ٹاس سے لے کر اختتام تک، ماہرین کرکٹرز اور تبصرہ نگاروں کے رواں تبصرے بھی سنے۔ بال کو بھی دیکھا کہ کیسے بھارتی بلے باز پاکستانی باولرز کے نشانے سے بال بال بچے۔ لیکن کرکٹ تو موقع  کا کھیل ہے۔ آپ نے موقع گنوا دیا تو پھر ہاتھ ملتے ہی رہ جائیں گے۔ پاکستانی شکست پر تو چائے کی پیالی میں طوفان برپا ہوگیا، کھلاڑیوں کی خراب کارکردگی کے کئی کئی عذر تلاش کئے گئے، گیند بازوں اور بلے بازوں کی بہترین کارکردگی اس پرفارمنس کے بعد کہیں دب کر رہ گئی۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ڈریسنگ روم بین الاقوامی کرکٹ کے ان ڈریسنگ رومز میں شامل ہے جہاں سے کوئی خبر باہر نہیں آتی۔ یہ ٹیم کئی سالوں سے اندرونی تنازعات سے پاک تھی، محض چند ایک واقعات کے کوئی بھی واقعہ میڈیا کی ہیڈلائنز کی زینت نہیں بن سکا۔ لیکن ایک شکست نے فصلی تجزیہ کاروں کو جنم دے دیا، کھلاڑیوں کی کئی کئی پہلوؤں سے غلطیاں سامنے آئیں۔ ان تمام تبصروں کو دیکھ کر خود اسپورٹس جرنلسٹ اور تجزیہ کار حیران رہ گئے۔میں حیران ہوں کہ طفیلی تجزیہ کار کیسے کیسے تبصرے کرتے ہیں اور انہیں کوئی روکنے والا بھی نہیں ہوتا۔

مجھے کھیل سے کوئی خاص دلچسپی نہیں لیکن صحافتی ذمہ داریوں کے دوران کھیلوں کو مجبورا سمجھنا پڑا۔ نیوز روم میں کھیلوں کی خبروں سے زیادہ کھلاڑیوں کے اسکینڈلز پر توجہ دی جاتی ہے۔ شاید اس سے ٹی آر پی ملتی ہے، لیکن اگر کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھائیں تو محض چند ٹکرز اور یک کالمی سرخی تک ہی محدود رہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں پاکستان کی ہار کو لے لیں، بھارت سے شکست نے برطانیہ میں موجود پاکستانی صحافیوں کی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ کردیا۔ ڈریسنگ روم کی ٹیبل اسٹوریز نشر ہوئیں۔ وہ تو بھلا ہوا شیشہ کیفے والوں کا کہ ایک نجی چینل کے صحافی کو پاکستانی کھلاڑیوں کی ایک پرانی ویڈیو مل گئی۔ جی ہاں میچ سے تین دن پرانی ویڈیو، جس میں پاکستانی ٹیم کے چند کھلاڑی ثانیہ مرزا اور شعیب ملک کیساتھ کھانا کھا رہے اور شیشہ پی رہے ہیں۔ رہی سہی کسر کھلاڑیوں کی نجی محافل میں گانوں کے بول گنگنانے کی واٹس ایپ ویڈیو نے پوری کردی۔

میں حیران ہوں کہ پڑھے لکھے صحافی بھی ان ویڈیوز کو بنیاد بنا کر صحافیوں کی کارکردگی پر تبصرہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ہر سٹار کی اپنی نجی زندگی ہوتی ہے، عام شہریوں کی طرح ان کی نجی زندگی میں مداخلت کی کسی کو حق حاصل نہیں۔لیکن پاکستان اور بھارت میں ستاروں کی پروفیشنل لائف سے زیادہ ان کی نجی زندگی پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔ جو کہ تہذیب یافتہ معاشروں میں قابل قبول نہیں۔

فرض کریں پاکستان میچ جیت جاتا، اس کے بعد شیشہ کیفے والی ویڈیو منظر عام پر آتی تو ہماری سرخیاں کچھ اس طرح ہوتیں، بھابھی نے سسرال کی لاج رکھ لی، میچ سے قبل پاکستانی کھلاڑیوں کی دعوت۔تمام کھلاڑیوں نے خوب کھابے کھائے، دہلی کے پکوان اور پاکستانی پہلوان۔ بھارت کو ناکوں چنے چبوائے۔ لیکن بھارت میں ثانیہ کو غدار قرار دیا جاتا جبکہ انوشکا شرما کو ایک بار پھر انڈین ٹیم کیلئے نحوست جیسے القابات سے نوازا جاتا۔ میں حیران ہوں کہ ہم کھیل کو جنگ کیوں سمجھ جاتے ہیں۔ کھیل اور کھلاڑی کسی بھی ملک کی شان ہوتے ہیں۔ انہیں عزت اور وقار سے نوازنا ان کے حوصلے بلند کرتا ہے مگر بھارت اور پاکستان کا باوا آدم ہی نرالہ ہے۔ جہاں کھیل کو جنگ اور جنگ کو جنون بنادیا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کئے جائیں اور انہیں مکمل سپورٹ فراہم کی جائے۔ تبھی جاکر کھلاڑی بھی سرسبز ہلالی پرچم کو سربلند کرسکتے ہیں۔۔