ہوم   >  بلاگز

چاٹ اور دال چاول بینظیرکی کمزوری تھے، ناہید خان کی زبانی ان سنی باتیں

5 months ago

پاکستان اورایشیا میں اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزازحاصل کرنے والی بینظیر بھٹو کو عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی محترمہ بینظیر بھٹو کی 66 ویں سالگرہ آج منا رہی ہے ، اس موقع پر ان کی پولیٹکل سیکرٹری اور انتہائی قریبی دوست ناہید خان نے بینظیرکی نجی...

پاکستان اورایشیا میں اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزازحاصل کرنے والی بینظیر بھٹو کو عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی محترمہ بینظیر بھٹو کی 66 ویں سالگرہ آج منا رہی ہے ، اس موقع پر ان کی پولیٹکل سیکرٹری اور انتہائی قریبی دوست ناہید خان نے بینظیرکی نجی و سیاسی زندگی کے حوالے سے اہم یادیں تازہ کیں۔

لندن سے 8 سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس آنے والی بینظیر چند ماہ بعد 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں کیے جانے والے جلسے کے بعد خود کش دھماکے میں قتل کردی گئی تھیں۔

بینظیر بھٹو کی سیاسی زندگی تو سب کے سامنے تھی لیکن ناہید خان ان کی نجی زندگی کے حوالے سے خاص باتیں سامنے لے کر آئی ہیں، تقریبا تمام اہم مواقع پر ساتھ ساتھ رہنے والی ناہید خان نے ہمیں بتایا کہ عوام کے سامنے مضبوط لیڈر کے طور پر ابھرنے والی بینظیر اپنی نجی زندگی میں قریبی رشتوں کے حوالے سے بہت حساس اور ان سے بے پناہ پیار کرنے والی تھیں۔

پاکستان میں آخری سالگرہ

جلاوطنی سے قبل پاکستان میں بینظیر کی آخری سالگرہ کے حوالے سے ناہید خان نے بتایا کہ وہ سالگرہ کی تقریب ہمیشہ نجی رکھتی تھیں ، ملک چھوڑنے سے پہلے ان کی آخری سالگرہ منانے ہم کوکو نٹ گرووز نامی ریسٹورنٹ میں منانے گئے جو اب شاید بند ہوچکا ہے۔ سالگرہ میں ان کی قریبی دوستیں، سمیعہ، سلمیٰ، پوچی ، کزن فخری بی بی اور ان کی بیٹی ، بی بی کے پھپھو زاد بھائی کی اہلیہ یاسمین نیازی، میں اور صفدرشریک ہوتے تھے۔ آخری سالگرہ میں بھی ہم سب تھے ، بی بی نے لال رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور بہت خوبصورت لگ رہی تھیں ، ہم نے ڈنر بھی ساتھ کیا جو ان کے ساتھ سالگرہ کا آخری ڈنرتھا۔

بینظیر بھٹو کی حس مزاح بہت اچھی تھی۔ ناہید خان نے بتایا کہ وہ ہمیں لطیفے سناتی رہتی تھیں، انہیں مزاح بہت پسند تھا۔

پسندیدہ کھانا

ناہید خان کے مطابق چاٹ بینظیر بھٹو کی کمزوری تھی، جسے کھانے وہ اکثر گرومندر جاتی تھیں۔ وہ منور سہروردی، صفدر اورمجھ سے کہتیں کہ چلو آج چاٹ کھانے چلتے ہیں اور ہم نجی طور پر گاڑی میں جایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ سی ویو پر سکپرز کے نام سے ایک ریسٹورنٹ تھا جہاں کا کھانا انہیں بہت پسند تھا۔

چاٹ کے علاوہ بنیظیربھٹو کو دال چاول بے انتہا پسند تھے، وہ اپنے لیے لندن میں خود دال چاول بنایا کرتی تھیں اورکبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کے کھانے میں دال چاول نہ ہوں، یہی ان کی پسندیدہ ڈش تھی۔ وہاں وہ اپنے برتن بھی خود دھوتی تھیں، انہوں نے ہمیشہ خود کو عام انسان کی طرح رکھا۔

بینظیر ۔۔ ایک غریب پرور شخصیت

ناہید خان نے بتایا کہ بینظیر کوغریبوں کا دل رکھنا آتا تھا، اس حوالے سے انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ ہم ایک جگہ بیٹھے تھے چائے پیش کی گئی تو ساتھ دیے جانے والےبسکٹس پرمکھیاں بیٹھی تھیں اس لیے میں نے نہیں کھائے ۔ بعد میں گاڑی میں بیٹھ کر بی بی نے کہا کہ ناہید تمہیں بسکٹ کھانا چاہیے تھا، ان کا دل ٹوٹا ہوگا۔ وہ غریبوں کو ان کی ظاہری حالت کی پرواہ کیے بغیر اٹھ کر گلے لگاتی تھیں اور ان کی ضرورتیں پوچھتی تھیں کہ کیا میں آپ کے لیے کچھ کرسکتی ہوں۔

زرداری کے ساتھ تعلقات کیسے تھے؟

شریک حیات کے ساتھ دوستانہ یا رسمی تعلقات سے متعلق ناہید خان نے بتایا کہ دونوں کے آپس کے تعلقات نارمل تھے جیسے عموماً میاں بیوی کے ہوتے ہیں، کیونکہ زرداری صاحب شادی کے بعد 11 سال جیل میں رہے پھر بی بی جلاوطنی پر چلی گئیں جبکہ زرداری صاحب ادھر ہی تھے۔ بی بی کی زیادہ زندگی سیاسی حیثیت میں گزری۔

بطور ایک والدہ کے بینظیر کیسی تھیں؟

بینظیر کو اپنے بچوں سے بےانتہا محبت تھی۔ ناہید خان نے بتایا کہ وہ آصفہ اور بلاول کو ان کے نام سے پکارتی تھیں لیکن بختاور کو ’’اٹی ‘‘ کہتی تھیں۔ وہ ان کے اسکول جاتی تھیں اور دوستوں پر بھی نظر رکھتی تھیں۔ بچوں کو ملنے والی پاکٹ منی سے متعلق بھی علم رکھتی تھیں کہ انہوں نے وہ کہاں خرچ کی۔ جلاوطنی کے دوران بچوں کے ساتھ گزارے جانے والے 9 سال میں بینظیر نے اپنے بچوں کی بہت اچھی تربیت کی۔ بی بی اپنے بچوں کو خود پڑھاتی بھی تھیں اور ڈائننگ ٹیبل  پر ان کے ساتھ کھانا کھاتی تھیں تا کہ روز مرہ کی باتیں کریں۔

صنم بھٹو ، بھائیوں ، بھتیجی سے تعلقات؟

ناہید خان نے بتایا کہ بی بی اپنی فیملی اور بہن بھائیوں سے بےانتہا پیار کرتی تھیں۔ بہن صنم بھٹو سے ان کی بہت دوستی تھی اور ان کی بیٹی آزادی کی شکل بھی بی بی سے بہت ملتی ہے۔ مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ انہیں بہت پیاری تھی اور چاہتی تھیں کہ اسے سیاست میں آگے لے کرآئیں لیکن بعد میں غلط فہمیوں کی بناء پرانہیں ایسا کرنے کا موقع نہ ملا۔

بھٹو کے حوالے سے بینظیر کی یادیں

بینظیر اپنے والد سے بہت زیادہ متاثر تھیں، ناہید خان نے بتایا کہ وہ مجھ سے اپنے والد کی بہت باتیں کرتی تھیں کہ پاپا نے یہ کہا، ایسا کیا، ہم وہاں گئے تھے۔ بھٹو صاحب کے ساتھ شملہ معاہدے پر دستخط کیلئے بھارت گئیں تو بتاتی تھیں کہ پاپا نے مجھے بتایا کہ بات اس طرح کرنی چاہئے اور اس طرح اپنا مقدمہ پیش کرنا چاہیے۔ میں فارن آفس میں کام کرنا چاہتی تھی، پاپا نے میری حوصلہ افزائی کی کہ تم کرو اور ضرور کرو، سیکھو، ٹریننگ لو۔ وہ کہتی تھیں پاپا پر بات پر سمجھاتے تھے کہ دنیا میں کن اخلاقی قدروں کے ساتھ رہنا چاہیے۔

بینظیر کبھی بھی عوام کے سامنے اپنے والد کو پاپا نہیں کہتی تھیں، اس کے بجائے وہ انہیں قائد عوام کے لقب سے پکارتی تھیں،شہادت سے قبل 22 دسمبر کو لاڑکانہ کے جلسے میں کی گئی تقریر میں انہوں نے بھٹو کے مزار کی جانب منہ کر کے کہا کہ اے قائد عوام آپ کی یہ بیٹیاں اور بیٹے آپ کو آج تک بھولے نہیں۔ اس سے آپ ایک بیٹی کے جذبات کا اندازہ لگالیں کہ اس کے اوپر کیا گزرتی ہے۔ جب بھٹو صاحب کی برسی آتی تھی تو بینظیر اپ سیٹ ہوجاتی تھیں۔

مرتضیٰ بھٹو کی شہادت کا بینظیر کی ذاتی زندگی پر کیا اثر ہوا؟

بینظیر بھٹو کو بھائی کے ماورائے عدالت قتل کا بےانتہا دکھ تھا، جسے وہ بھلا نہ سکیں۔ ناہید خان نے بتایا کہ جب انہیں مرتضیٰ کی شہادت کی خبر ملی تو وہ ننگے پاؤں اسپتال پہنچیں اور ان کے پیروں سے لپٹ کر روئیں، انہوں نے طے کر رکھا تھا کہ اگلی بار اگر وہ وزیراعظم بنیں تو مکمل تحقیقات کروائیں گی کی کہ کس نے ایسا کیا ۔ یہ بی بی کی سب سے بڑی خواہش تھی کیونکہ قتل کے 33 دن بعد ان کی حکومت برطرف کر دی گئی تھی اس لیے وہ چاہتی تھیں کہ ہر صورت تحقیقات کروائیں۔

مرتضیٰ بھٹو اور بینظیر کے درمیان سیاسی اختلافات ہوئے تو نصرت بھٹو مرتضیٰ بھٹو کے زیادہ قریب تھیں، بعد ازاں بیماری کا سارا عرصہ بینظیر کے ساتھ گزرا، کبھی بی بی نے اس حوالے سے کچھ شیئر کیا؟اس سوال کے جواب میں ناہید خان نے کہا کہ بینظیر اپنی والدہ کی بےانتہا عزت اور ان سے پیار کرتی تھیں، بھائی کی شہادت کے بعد انہوں نے والدہ کو آخری دم تک اپنے پاس رکھا اوربےانتہا خیال رکھتی تھیں۔ بیگم صاحبہ کی بیماری کے دوران وہ ہر حال میں انہی کے ساتھ ناشتہ کرتی تھیں۔

آٹھ سالہ جلا وطنی کے بعد 18 اکتوبر کو وطن واپسی پر تاثرات

ناہید خان کے مطابق پاکستان واپسی سے پہلے انہوں نے مجھے ایک روز قبل دبئی بلوایا تھا کہ تم میرے چلو گی۔ وطن واپسی پر اپنا والہانہ استقبال دیکھ کروہ رو پڑی تھیں اور یہ ان کے دلی جذبات تھے، انہیں وطن کی مٹی سے اتنا پیار تھا کہ جنرل مشرف سمیت سب نے کہا کہ آپ کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ میرا جینا مرنا اپنے عوام کے ساتھ ہے۔ ان کا کہناتھا کہ خطرات کے باوجود میں کسی صورت یہاں نہیں رہنا چاہتی، کچھ بھی ہوجائے مجھے واپس جانا ہے۔

لیاقت باغ جلسے میں جانے سے پہلے کیا ہوا تھا؟

ناہید خان نے بتایا کہ اس روز بی بی افغان صدر حامد کرزئی سے ملنے گئی تھیں، میں لیاقت باغ میں انتظامات دیکھ کر واپس آئی تو ملازم نے بتایا کہ محترمہ کافی دیر سے آپ کا پوچھ رہی ہیں ۔ اندر گئی تو انہوں نے اپنی تقریرمجھے سنائی اور ہم نے اس حوالے سے چند باتیں ڈسکس کیں، انہوں نے جلسہ گاہ جانے کا ٹائم پوچھا تو میں نے بتایا کہ ساڑھے 3 بجے جانا ہے۔ بی بی نے مجھے بلٹ پروف جیکٹ دی اور کہا اسے پہنو۔ گاڑی میں بی بی بہت خوشگوار موڈ میں تھیں، اس دوران مجھے ایک صحافی کا مجھے فون آیا تو انہوں نے کہا میری بھی بات کرادو۔ راستے میں بہت زیادہ لوگ ان کیلئے کھڑے تھے اس لیے بی بی بولیں ’’سن روف‘‘ کھولیں، میں نے باہر نکل کر ہاتھ ہلانا ہے۔ میں نے انہیں منع کیا کہ سیکیورٹی رسک ہے، آپ ایسا نہ کریں۔ لیکن وہ نہ مانیں اور بولیں کہ نہیں ناہید ، یہ میرے لیے کھڑے ہیں ، ایسا نہ کیا تو یہ سوچیں گے ہماری لیڈر بزدل ہے۔ وہاں سے جلسہ گاہ تک بی بی کھڑی ہوئی گئیں اور لوگ نعرے لگاتے رہے۔

بینظیر نے اسٹیج پربیٹھے ہوئے سامنے درختوں پر کیا دیکھا؟

موت سے قبل شاید بینظیر کو اس بات کا احساس ہوگیا تھا، ناہید خان کے مطابق جب ہم لیاقت باغ پہنچے تو گیٹ کو تالا لگا ہوا تھا، وہاں کچھ کونسلرز کھڑے تھے جن میں دھماکے میں ٹانگوں سے معذور ہوجانے والے ڈاکٹر اسرار شاہ صاحب تھے۔ انہوں نے بی بی کو پھولوں کے ہار پہنائے۔ گیٹ کھلنے پر ہم اندر اسٹیج پرجا کر بیٹھے تو وہ بار بار سامنے دیکھ رہی تھی اور مخدوم امین فہیم ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ بی بی نے ان سے کچھ پوچھا اس کے بعد میں پیچھے بیٹھی تھی تو انہوں نے مجھے اشارہ کرکے بلایا اور میرے کان میں کہا کہ آپ کو وہاں کچھ نظر آرہا ہے؟ میں نے پوچھا کہ کہاں، بولیں وہ سامنے 2 درختوں کے درمیان۔ میں نے دیکھا تو درخت پر پتے بھی نہیں تھے کیوں کہ دسمبر کا مہینہ تھا، سارے پتے گرچکے تھے۔ میں نے کہا مجھے تو کچھ نظر نہیں آرہا تو ہنس کر کہنے لگیں میں نے مخدوم صاحب سے بھی پوچھا وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ اس بار جب میں کراچی جاؤں گی تو مجھے یاد دلانا میں اپنی آنکھیں چیک کراؤں گی، میری نظر کمزور ہورہی ہے۔

بینظیر کے آخری لمحات

ناہید خان بینظیر کی زندگی کے آخری لمحات بتاتے ہوئے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب ہم جلسہ گاہ سےنیچے اترے اور میں دوسری طرف جانے لگی توبی بی نے کہا تم آکر میری دائیں جانب بیٹھو، مخدوم صاحب (امین فہیم) بائیں اور میں درمیان میں بیٹھوں گی۔ گاڑی چلنے لگی تو کہا اپنے شوہر صفدرعباسی صاحب کو بھی بٹھاؤ، رات میں کچھ امریکی سنیٹرز سے ملاقات کرنی ہے اور زرداری صاحب پاکستان آنے کا کہہ رہے ہیں، اس بارے میں مشورہ کریں گے۔ وہ زرداری صاحب کو ان علاقوں میں بھیجنا چاہتی تھیں جہاں پیپلز پارٹی کمزور تھی ۔

اس دوران بی بی نے مجھے گلے لگایا اور دونوں گالوں پربوسہ دیا کیونکہ وہ کامیاب جلسے پر بہت خوش تھیں۔ صفدر نے ہنستے ہوئے کہا کہ بی بی میں بھی یہاں کتنے دن سے بیٹھا محنت کر رہا ہوں، پلیز تھوڑا کریڈٹ مجھے بھی دے دیں اس پر بی بی نے مجھے دوبارہ سینے سے لگایا اور کہا کہ نہی اس جلسے کا مکمل کریڈٹ ناہید کو جاتا ہے، اس نے بہت محنت کی ہے۔

موت سے قبل کیا ہوا؟ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ناہید خان نے بتایا کہ گاڑی آگے نہیں بڑھ پارہی تھی کیوں کہ لوگ بونٹ پر چڑھ گئے تھے، بی بی نے صفدر سے کہا کہ یہ لوگ مجھے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے میں کھڑی ہوجاتی ہوں۔ گاڑی میں پڑا میگا فون انہوں نے ڈرائیورسے لیکر صفدر کو دیا کہ کچھ نعرے لگائیں اور خود کھڑی ہوگئیں۔ باہرلوگ نعرے لگا رہے تھے جئے بھٹو، وزیراعظم بینظیر۔ شام ساڑھے 5 بجے کا وقت تھا اور سردیاں ہونے کے باعث اندھیرا چھا رہا تھا ۔ میں شیشے سے خوش ہوتے عوام کو دیکھ رہی تھی کہ مجھے فائر سنائی دیا، میں سوچنے لگی کہ ان لوگوں کو منع کیا ہے بی بی جب ساتھ ہوں تو پٹاخے مت پھوڑا کریں۔ اس وقت فائر کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی لیکن اسی دوران دوسرا فائر ہوا اور میرے پاس کوئی چیز آکر گری ۔ چند سیکنڈز کے اندر حواس بحال ہوئے تو دیکھا بی بی میرے اوپر گری ہیں اور ان کا خون اس طرح بہہ رہا تھا کہ میں بیان نہیں کرسکتی۔ اس دوران صفدر نے مجھے کہا کہ خون روکنے کیلئے کچھ کرو، میں نے اپنا دوپٹہ باندھا۔ میں بالکل حواس باختہ ہوگئی تھی، اسی دوران دھماکہ ہوگیا جس سے گاڑی کا ٹائر بھی پھٹ گیا۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ان کو کس طرح اسپتال لیکرجائیں، میری ہمت نہیں ہو رہی کہ میں کچھ اور بتاؤں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں