ہوم   >  بلاگز

وزیر اعظم، مشیر اور بلیک آؤٹ

4 months ago

نیوز روم میں کام کے دوران اکثر اوقات کچھ خبریں روکنا اور بعض خبروں کے متن کو سنسرکرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح چند معاملات کا بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح ٹرانسمیشن کے دوران کئی بار ’’بھنڈ‘‘ ہو جاتے ہیں۔ صحافی جتنا بھی پروفیشنل ہو اس سے غلطی سرزد ہونا ایک معمول ہے۔ ہر چینل کے ڈائریکٹر نیوز اور پروڈیوسرز کی کوشش ہوتی ہے کہ غلطیوں سے پاک مواد نشر ہو۔ اس کے لئے ایک خبر کئی ہاتھوں سے گزر کر جاتی ہے۔ ہرفرد اپنے تجربے کے حساب سے اس کی نوک پلک سنوارتا ہے۔ پیر اور منگل پاکستانی میڈیا کے حوالے سے انتہائی اہم دن تھے۔ جن میں نیوز روم سے لے کر پروگرامنگ اور پی سی آر ہر ڈیپارٹمنٹ کا صحافی انتہائی مصروف رہا۔ کام کی زیادتی کے باوجود صحافیوں نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا بھرپور استمعال کیا۔ لیکن کل سرکاری ٹی وی چینل پر وزیر اعظم پاکستان کے خطاب نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا۔ میں اپنی ٹی وی سکرین کی جانب دیکھ رہا تھا، مجھے لگ رہا تھا کہ وزیر اعظم کے کندھوں کے بیچ سے ابھی نئے پاکستان کا سویرا طلوع ہوگا لیکن مجھے اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب سکرین بلیک ہوگئی، باربار وزیر اعظم کے خطاب کا بدلتا وقت نئے پاکستان کے سورج کی آمد میں تاخیر محسوس ہورہا تھا، جبکہ خطاب کے دوران بلیک فریمز اس سورج کے گرہن جیسے معلوم ہوتے تھے۔

نیوز روم میں قابل اعتراض الفاظ کیلئے خصوصی بیپ استعمال کی جاتی ہے۔ یا پیمرا کی ہدایت پر آواز کو میوٹ کی جاتی ہے۔ وزیر اعظم کے خطاب کے دوران بھی کئی بھنڈ تھے، کیمرے کا فریم، ایڈیٹینگ کے مسائل، بلیک فریمز اور ساؤنڈ کوالٹی کا خیال بھی نہیں کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین جہاں اس موضوع پر تنقید کر رہے ہیں، وہیں ہائی پروفیشنل صحافیوں کی موجودگی میں غلطیاں بھی مایوس کن ہیں۔

عمران خان کا اعلیٰ سطح کا انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان

سربراہ مملکت کی تقریر ہمیشہ سے ہی تحریر کی جاتی ہے، اور یہ بین الاقوامی معیار بھی ہے۔ تقریر کیلئے 21 ویں اور 22 ویں گریڈ کے خصوصی اسپیچ رائٹرز ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے پاس اس وقت درجن بھر میڈیا کے مشیر ہیں، اسی طرح مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان بھی میڈیا کے معاملات کو اچھی طرح سمجھتی ہیں۔ مشیروں، وزیروں، بیوروکریٹس، پروڈیوسرز اور این ایل ایز کی فوج ظفر موج کے ہوتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کی تقریر میں بھنڈ ان سب کی ناکامی کی علامت ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس وقت تک ان غلطیوں میں ملوث افراد کو اپنی ذمہ داریاں اور غلطیاں تسلیم کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ لیکن یہاں تو طویلے کی بلا بندر کے سر کے مصداق کسی کو کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔ لیکن وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو بھی احساس ذمہ داری کرنا چاہئے، کیوں کہ وہ نوجوانوں کے کندھے پر سوار ایک اپوزیشن لیڈر اور مقبول رہنما نہیں رہے۔ اس وقت وہ کرسی اقتدار پر بیٹھے ہیں۔ ان کے کندھوں پر کروڑوں پاکستانیوں کے مسائل کا بوجھ ہے۔ ان کا ہر لفظ محترم ہے، ان کی زبان سے نکلنے والی ہر بات اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم کا قول ہے۔ جس نے تاریخ کا حصہ بننا ہے۔ اگر صورت حال یہی رہی تو وہ وقت بھی دور نہیں جب پیمرا پی ٹی وی کو ڈیلے ڈوائس کا استعمال کرنے کا مشورہ دے گا۔ اس سے قبل کے پی ٹی وی ایڈیٹنگ ڈوائسز کا استعمال کرے وزیر اعظم پاکستان فی البدیہہ خطاب کی بجائے پہلے سے لکھی ہوئی تقریر کریں۔ کیوں کہ ان کے سپیچ راٗئٹر لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات صرف چند صفحے لکھنے ہی کی لیتے رہتے ہیں۔ جاتے جاتے پیارے کپتان کو مشورہ دیتا جاوں، میرے کپتان! اپنے میڈیا مشیروں پر تھوڑا سا دھیان دیں، اور ان کا بوجھ اپنے کندھوں اور خزانے سے اتار پھیینکیں تاکہ 20 کروڑ پاکستانیوں کی مسائل کا بوجھ اٹھایا جاسکے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں