چار قدم کا ساتھ

May 21, 2019

اس کی عمر لگ بھگ آٹھ برس ہوگی، ہاں صرف آٹھ برس، اچھرہ شاپنگ سینٹر کے باہر اس سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی، وہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتا ہے اور لاہور میں جوتے پالش کرکے گزارہ کر رہا تھا۔ اس کے ننھے صندوق میں تین برش اور چند پالش کی ڈبیاں تھیں اور یہی اس کا کل اثاثہ تھا، دن کو اس باکس کے وزن سے اس کا کندھا جھک جاتا تھا۔ رات کو وہ اسی باکس کو اپنے سرہانے رکھ کر وہ سو جاتا تھا۔ یہ باکس اس کا سرہانہ تھا اور کمانے کا ذریعہ بھی۔ دو ماہ پہلے اس سے میری ملاقات ہوئی، پھر رفتہ رفتہ ہماری شناسائی ہوتی چلی گئی۔ اس معصوم بچے کے گھر میں دو چھوٹی چھوٹی بہنیں تھیں جبکہ اس کے والد کا دو سال قبل انتقال ہوگیا تھا۔ ماں نے گھر کا کام چلانے کیلئے کسی جاننے والے کے ہاتھ اسے لاہور بھیج دیا، جو اسے زمانے کے بے رحم تھپیڑوں کے حوالے کرکے شہر کی گلیوں میں کہیں گم سا ہوگیا ہے۔ اور یوں یہ ننھا بچہ اپنے زندگی کی تلاش کے سفر پر نکل کھڑا ہوا ہے۔

یہ بچہ آج 15 رمضان المبارک کو یوم یتامیٰ کے موقع پر یاد آیا۔ دسمبر 2013 میں تمام مسلم ممالک نے عالمی سطح پر یوم یتامیٰ منانے کا اعلان کیا۔ اسی حوالے سے گذشتہ سال قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بھی قرارداد منظور کرتے ہوئے اس دن کو منانے کا اعلان کیا۔ اس وقت دنیا بھر میں 14 کروڑ سے زائد بچے یتیم ہیں اور صرف ایشیا میں ان بچوں کی تعداد 6 کروڑ ہے، جبکہ 14 کروڑ بچوں میں سے 1 کروڑ 50 لاکھ بچوں کے والد اور والدہ دونوں نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ ”یونیسف“ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 42 لاکھ سے زائد بچے یتیم ہیں جن کی عمریں 17 سال سے کم ہیں اور ان میں بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جنہیں تعلیم و تربیت، صحت اور خورا ک کی مناسب سہولیات میسر نہیں۔ بچوں کی اتنی سے زیادہ تعداد کے باوجود ان کی مناسب دیکھ بھال ہے اور نہ ہی ان کی ضروریات پورا کرنے کیلئے حکومت کوئی مناسب کردار ادا کر رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں بچے ہوٹلز، ورکشاپس، گھروں اور دیگر جگہوں پر مزدوری کیلئے آتے ہیں، جہاں ان کا سماجی اور جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔ یتیم بچوں کو ہمارا معاشرہ بے کار سمجھتا ہے اور ان کی تذلیل کی جاتی ہے، حالانکہ اسلام نے بارہا مسلمانوں کو یتیم بچوں پر خصوصی توجہ دینے کے احکامات دیئے ہیں، اس کے باوجود انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ سورہ النساء میں اللہ سبحان و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کیساتھ انصاف پر قائم رہو اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے حکم سے مخفی نہیں رہے گی۔ اسی طرح نبی مہربان ﷺ نے بھی مسلمانوں کو یتیم بچوں سے حسن سلوک کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے کفالت یتیم کو جنت میں اپنی قربت کا ذریعہ قرار دیا۔

اس وقت پاکستان میں سرکاری سطح پر پاکستان بیت المال کے زیر اہتمام یتیم بچوں کی کفالت کا نظام ہے، جو چند سو سے زیادہ نہیں ہے۔ اسی طرح چند مخیر ادارے بھی اس کام میں اپنے حصے کی شمع جلائے ہوئے ہیں۔ انہی اداروں میں ایک ادارہ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ہے، جس کے زیرِ اہتمام ملک بھر میں ایک درجن سے زائد بہترین سینٹرز قائم ہیں۔ جن میں بچوں کو صحت، تعلیم، خوراک اور رہائش کی سہولیات مفت دی جاتی ہیں جبکہ اسی ادارے کے زیر اہتمام نصف درجن سے زیادہ آغوش سینٹرز ابھی تعمیری مراحل میں ہیں۔ الخدمت فاونڈیشن 11 ہزار سے زائد بچوں کی ان کے گھروں پر بھی کفالت کر رہی ہے۔ اسی طرح گلیوں اور سگنلز پر بھیک مانگنے والے بچوں کیلئے بھی الخدمت نے خصوصی پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ اس وقت پاکستان بھر کی این جی اوز نے پاکستان آرفن کیئر پروگرام کے نام سے اپنے کام کا آغاز کر رکھا ہے، جو کہ یقینا ایک قابل تقلید فعل ہے۔

اس یوم یتامیٰ پر ہم سب کا فرض ہے کہ اپنی گلی، محلے، گھر اور بازار میں موجود یتیم بچوں کو تلاش کریں۔ ان کے احساس محرومی کو کم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، انہیں بھی خوشی اور غمی میں شریک کریں۔ تاکہ قوم کسی ہونہار، ذہین، دیانت دار اور مخلص شخص سے محروم نہ رہ جائے۔ تاکہ معاشرتی جبر پھر کسی بیٹی کے بالوں کی چاندی اور بیٹے کے گھسے جوتوں کی وجہ نہ بن جائے۔ ہمیں آج ہی اپنی ذات سے تبدیلی کا آغاز کرتے ہیں، کسی سگنل پر کھڑے سورج، ہوٹل میں برتن مانجھتے قوم کے روشن باب کو اپنے ساتھ بٹھائیں، اسے اپنائیت کا احساس دلائیں اور دیے سے دیا جلاتے ہوئے ایک صبح نو کا آغاز کریں۔ کیوں کہ ایک پھول سے ہی کونپل کی ابتدا ہوتی ہے۔ جس کی خوشبو سے سارا علاقہ مہک اٹھتا ہے۔ آئیں ! اپنے پیارے پاکستان کو خوشبووں سے مزین کر دیں۔

 
 
 

ضرور دیکھئے