اخلاقیات کا سبق صرف صحافی کیوں سیکھیں؟

May 20, 2019

سوشل میڈیا نامی خدائی فوجدار کا مقصد شاید کبھی آسان روابط اور معلومات کا ذریعہ رہا ہو لیکن فی زمانہ اس کے کندھوں پر ایک ہی چیز کا بوجھ ہے۔ بلا تحقیق و مقصد کسی پر جتنا کیچڑ اچھالنا ہے، اچھال لو اور آج ہی اچھال لو کیونکہ کل کس نے دیکھی۔ اس پلیٹ فارم پر دوسروں کو اپنے جوتوں کی نوک پر رکھنے کا ٹھیکہ ازخود لیا جاتا ہے، اب چاہے وہ ’’کسی‘‘ کی اندھی محبت میں ہو یا ’’ذاتی خواہش‘‘ کی بناء پر۔

ایک ٹریفک حادثے میں پی پی رہنما قمر زمان کائرہ کے جواں سال بیٹے کی ناگہانی موت ہر درد مند دل رکھنے والے کیلئے انتہائی افسوسناک اور والدین کے لیے ان کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھی۔ بیٹے سے متعلق یہ اندوہناک اطلاع کائرہ صاحب کواسلام آباد کے زرداری ہاؤس میں پارٹی اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کے دوران ملی۔ ایک ویڈیو خوب وائرل ہوئی جس میں میڈیا نمائندے نے بغیر سوچے سمجھے، انسانی جذبات اور اخلاقی قدروں کو سامنے رکھے بغیر یہ بم کائرہ صاحب پر گرا دیا۔

اس کے بعد سے سوشل میڈیا سمیت تقریبا ہر پلیٹ فارم پر صحافتی اصولوں کے حوالے سے بحث جاری ہے کہ ریٹنگ کے چکر میں یہ صحافی کسی کا اچھا برا نہیں سوچتے، انہیں کسی کے جذبات سے کیا لینا دینا، لعنت ایسی صحافت پر اور نہ جانے کیا کیا لیکن کسی ایک ذی شعور نے بھی سوچا کہ صحافی نے تو غلط کیا سو کیا لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ نام نہاد پڑھے لکھے فیس بکی اور ٹوئٹریاتی دانشوروں نے ملک وقوم کی اندھی محبت میں (اللہ کسی کے دل میں محبت کا ایسا جذبہ بیدار نہ کرے) جذبات سے مغلوب ہو کر نوجوان اسامہ کائرہ کی موت سے متعلق وہ وہ نقطے بیاں کیے کہ الاماں الحفیظ۔

مخالفین کو نیچا دکھانے کیلئے موقع محل سمجھے بغیر ناصح اعظم بن جانے والے ان سنگ دلوں کی سیاسی تربیت نہ جانے کون کرتا ہے اور کس خطوط پر کرتا ہے کہ ایک ٹوٹا پھوٹا دل لیے غمزدہ و دل شکستہ باپ کو اتنی مہلت بھی نہیں دیتے کہ وہ اپنے جوان بیٹے کا لاشہ تو قبر میں اتار لے ۔۔۔۔ طنز کے تیر چلانے کیلئے تو عمر پڑی تھی لیکن قوم کے بچوں کے غم میں مرنے والے ان مہذب گدھوں نے اسی وقت بوٹیاں نوچنا شروع کردیں ۔۔۔۔۔ کسی کو خوف خدا نہ آیا یہ کہتے ہوئے کہ ’’قوم کے بچوں کا حق مارنے والوں کے اپنے بچے مرنا شروع ہوچکے ہیں، بے شک، اللہ بڑا انصاف کرنے والا ہے‘‘ ۔۔۔۔ کسی نے یہ موت عبرت قرار دی۔ یہ کہہ کر کہ خدارا اب ملک کا سوچو، تو کسی نے فتویٰ سنایا کہ بچوں کیلئے پیسہ لوٹا تھا اب وہ نہیں رہا، قوم کا پیسہ واپس کرو۔

نام کے ساتھ انجینیئر لگائے سوٹڈ بوٹڈ تصویر والے ایک عقلمند نے تو اس خبر کو باعث سکون قرار دیا، وجہ وہی قوم کے پیسے کی فکر میں مبتلا ہونا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس طرزعمل کو ایک مخصوص جماعت (پی ٹی آئی) کی سوچ قرار دیا جا رہا ہے یہ کہتے ہوئے کہ ان کی سیاسی  تربیت ہی انہی خطوط پر کی گئی ہے، ٹوئٹر پر ایسا بےرحمانہ ردعمل دینے والوں کے پروفائل بھی ان کی وابستگیاں ظاہر کرتے ہیں لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسا جس نے بھی کیا، مخالفین کیلئے اس اندھی نفرت کی انتہا کیا ہے؟ دوسروں کی آنکھ کا تنکا دیکھنے والوں کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر کیوں نہیں آتا؟ کیا بحیثیت قوم ہمارا اخلاقی معیار اتنا گرچکا ہے کہ اب موت پر بھی سیاست ہوگی؟ کیا اس وقت بھی دماغ میں ایسے ہی نادر خیالات آئیں گے جب آپ کا کوئی اپنا ایسے ہنستے کھیلتے چل دے گا؟۔

بیٹے کو لحد میں اتارنے کے بعد قمر زمان کائرہ کے تاثرات لفظوں میں بیان نہیں کیے جاسکتے، سوشل میڈیا پر دل ودماغ کو بوجھل کر دینے والی یہ تصاویر ایک سیاستدان کی نہیں، ایک باپ کی ہیں جس کے کندھے جھک گئے ہیں لیکن تنقید کرنے والے یہ کیونکر سوچیں، وہ تو ملک وقوم کو سنوارنے و سدھارنے کے مشن پر ہیں۔

ایک  نمائندے کی جلد بازی یا کم عقلی  پر تو پورے میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ایسا ریٹنگ کی دوڑ میں کیا جاتا ہے، میڈیا والوں میں انسانیت باقی نہیں رہی ۔۔۔ تنقید سر آنکھوں پر کیونکہ خبر آپ تک پہنچانے والے بھی انسان ہی ہیں جو اپنی غلطیوں سے ہی سیکھتے ہیں لیکن اس نام نہاد ’’قوم کی ہمدرد بریگیڈ‘‘ کی اصلاح کون کرے گا جو یہ ٹھانے بیٹھے ہیں کہ جو ہم نے کہہ دیا وہی حرف آخر ہے۔

کاش کہ ایسا کرنے والے اس خود پسندی سے باہر نکل کرسوچیں تو سمجھیں کہ سیاست کا یہ گندا دھندا نہیں بلکہ انسان اور انسانیت زیادہ اہم ہیں۔