کیا امریکا ایران پر سرجیکل اسٹرائیک کرسکتا ہے؟

May 20, 2019

چار دہائیوں سے زیادہ عشروں پر پھیلے ایران امریکا تعلقات کا زیادہ ترعرصہ، تناؤ، کشیدگی، دھمکیوں، پابندیوں اور سرد جنگ پر محیط ہے۔

دیکھا جائے تو حالیہ دنوں میں ایران پر امریکا کا بڑھتا ہوا دباؤ اس بات کی ترجمانی کرتا ہے کہ امریکا ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کا امن تباہ و برباد کرنے کے درپے ہے، جب کہ ایران کے تیل فروخت کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ امریکا کی طرف سے ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندی کے بعد ایران نے بین الاقومی تیل بردارجہازوں کی راہ روکنے کی دھمکی دی ہے۔ صرف پاکستان جیسا چھوٹا ملک ہی نہیں بھارت اور چین جیسی بڑی معاشی منڈیاں بھی موجودہ کشیدگی کے باعث کوئی لین دین اور معاہدہ کرنے سے قاصر ہیں۔ بیرونی پابندیوں کے باعث ایران میں مہنگائی میں اضافہ جب کہ کسی حد تک عوام میں مستقبل کے حوالے سے بے چینی بھی پائی جاتی ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا ایران کو کمزور کرنے کیلئے اس کے معاشرے میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش تو کرے گا، مگر جنگ کی نوبت نہیں آنے دے گا۔ تاہم اس بات کے برعکس امریکا کھلم کھلا ایران میں حکومت بدلنے کیلئے فنڈز مختص کرنے کا اعلان کرچکا ہے، جب کہ کثیر الجہتی پابندیاں اپنی جگہ ہیں۔ ان پابندیوں کے باعث سخت بیماریوں کیلئے جان بچانے والی دواؤں کی اشد کمی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے نہ کوئی دوسرا ملک ایران کی مدد کو آسکتا ہے بلکہ بیرون ملک ایرانی بھی زرمبادلہ بھیج کر اس کڑے وقت میں اپنے ہم وطنوں کی مدد نہیں کرسکتے ہیں۔

آخری اطلاعات آنے تک ایرانی کرنسی کی تنزلی کا یہ حال ہے کہ 100 امریکی ڈالر 1.4 ملین تومان کے برابر ہیں اور بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ صبح ریٹ کچھ اور ہیں اور شام میں کچھ اور۔ امریکا مخالف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں عوام کی جانب سے حکومت کے خلاف بغاوت کی توقع خام خیالی ہوگی۔ 1979 میں آنے والے انقلاب اور بادشاہی نظام کی جگہ ولایت فقیہ کے حکومتی نظام کے بعد ایرانی عوام کیلئے مشہور ہے کہ وہ لوہے کےوہ چنے ہیں، جنہیں حکومت کے خلاف کھانا اور اکسانا آسان نہیں۔

دونوں ممالک کے مابین تنازع پرغور کیا جائے تو اس کے تانے بانے ایران سے منسوب امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے بیانات سے شروع ہوتے ہیں۔ جس میں رہی سہی کسر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایرانی ڈرون کے ذریعے امریکی بحری بیڑے کی انتہائی ںیچے سے بنائی گئی فوٹیج نے پوری کردی۔ جس کے بعد امریکا کی جانب سے ردعمل آنا ایک فطری عمل تھا، جس کے تحت امریکا نے بی 52 بومبر ٹاسک فورس ، جدید لڑاکا طیاروں اور جنگی آلات سے لیس بحری بیڑے کو خلیج فارس پہنچا دیا، جب کہ ساتھ ساتھ سخت خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے عراق سے سفارتی عملہ بھی واپس بلا لیا۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے دیگر ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا، یہ ہی وجہ ہے کہ جرمنی اور نیدرلینڈ نے دونوں ممالک کے مابین جوہری معاہدے پر تنازع میں شدت کے پیش نظر عسکری تعاون پروگرام بھی منسوخ کردیا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکا اور ایران کے مابین جوہری معاہدے کا تنازع کئی عرصے سے جاری ہے۔ امریکا کی جانب سے جوہری معاہدہ منسوخ کرنے اور پھر پاسداران انقلاب کو عالمی دہشت گرد کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کو مزید تقویت ملی۔ واشنگٹن پہلے ہی ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرچکا ہے۔ ادھر ایران نے تجارتی استثنیٰ نہ ملنے پر معاہدے کے فریق ممالک کو 2 ماہ کی مہلت دی تھی کہ اگر وہ جوہری معاہدے سے متعلق تنازع حل کرنے میں ناکام ہوئے تو ایران یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کردے گا، جس پر امریکا سمیت دیگر اتحادیوں کو شدید تحفظات ہیں۔

توقع ہے کہ امریکا ایک بار پھر ایران کے ساتھ جنگ کے تیار شدہ پرانے منصوبے اور آپریشن کو قابل عمل بنانے کی تیاریوں میں لگا ہے۔ ان تمام تر بیان بازیوں میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ امریکا کی موجودہ انتظامیہ کے دو با اثر حضرات ایران میں روایتی اور مذہبی اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں جو امریکا کے سامنے سرنگوں رہے اور اسرائیل کیلئے کسی طور خطرہ ثابت نہ ہوسکے۔ صرف یہی نہیں بلکہ فلسطین میں حزب اللہ اور شام میں بشارالاسد کیلئے سپلائی لائن کا خاتمہ کرکے انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے۔ اس خطے میں موجود اہم ملک سعودی عرب نے بھی امریکا کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے، کیوں کہ یمن میں حوثی باغیوں کی شکل میں موجود چیلنج اور اس پر عالمی تنقید نے سعودی عرب کو بھی ایران سے خائف کر رکھا ہے،تاہم وجہ صرف یمن ہی نہیں دونوں ممالک کا روایتی اختلاف بھی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایران کونٹرا اسکینڈل، امریکی فوج کے ہیڈ کواٹرز پر بمباری، ایران کا جوہری پروگرام اور خطے میں بقول امریکا ایرانی توسیع پسندی نے بداعتمادی کے بیج بوئے، جب کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ بیان دے چکے ہیں کہ اگر ایران نے اپنا رویہ نہ بدلا تو داخلی سطح پر عوامی دباؤ، اپوزیشن کی معاونت یا فوجی کارروائی سے ایرانی نظام حکومت کا دھڑن تختہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انتہا کی کشیدگی کے باوجود آج تک امریکا نے ایران پر براہ راست فوجی حملے کی کوشش نہیں کی اور موجود صورت حال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی قیادت کے بیانات بھی ایران کو تنہا کرنے اور اس پر سفارتی دباؤ بڑھانے کے حربوں سے زیادہ نہیں۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ واقعی اس باربھی امریکا اپنے جنگ کے نعرے لگانے کی پالیسی اپناتے ہوئے براہ راست جنگ کے عمل کو ٹال دیتا ہے یا پھر چڑھائی کی صورت میں یہ نیا محاذ بھی امریکا کیلئے ویت نام، عراق اور افغانستان سے کم نہ ہوگا۔ خیلج فارس میں بڑے پیمانے پر امریکی فوج کی موجودگی سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ شاید امریکا ایران کو دبانے یا سبق دینے کیلئے سرجیکل اسٹرائیک جیسی غلطی بھی کرلے، تاہم ایسی صورت میں اسے اسرائیلی مفادات اور سرزمین کو بھی ذہین میں رکھنا ہوگا، کیوں کہ ایران دیگر کمزور ممالک کی طرح کسی طور پر بھی امریکا کیلئے تر نوالہ ثابت نہیں ہوگا۔ ایران پر حملے کی صورت میں اس کا کچھ حد تک ملبہ اسرائیل پر گرنے کا بھی خدشہ ہے۔