موت کی خبر اور صحافت

May 19, 2019

باپ نے لمبی آہ بھری اور بیٹے کا جنازہ کندھوں پر اٹھائے اسے آخری آرام گاہ تک لے جانے لگا۔ اسے قریبی لوگ بھی اجنبی لگنے لگے اور ایسا لگنے لگا کہ جیسے آج زندگی تمام ہوگئی ہو کیونکہ آج باپ اپنے اس بیٹے کا جنازہ اٹھا رہا تھا جس کی پرورش میں کوئی کمی لائے بغیر اس کو اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچایا۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب ماں باپ اپنی اولاد کے لیے کئی خواب دیکھتے اور انہیں اپنا سہارا محسوس کرتے ہیں، لیکن یہاں رب کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ نوجوان بیٹے کی موت کا دکھ تو اپنی جگہ مگر موت کی خبر دینے والے نے خبر کچھ یوں دی جیسے کوئی معمولی بات ہو۔

سترہ مئی دو ہزار انیس کی دوپہر پیپلز پارٹی کے سینیر رہنماء قمر زمان کائرہ زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پارٹی رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرنے کے لیے پہنچے تو وہاں موجود ایک شخص نے کائرہ صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے باآواز بلند ان کے بیٹے سے متعلق پوچھا۔ یہ خبر کائرہ صاحب کے لیے قیامت سے کم نہ تھی، جس نے ان کا دل چھنی چھنی  کر دیا۔ رپورٹر کی خبر کی تصدیق کے لیے انہوں نے کال کی تو کائرہ صاحب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس اپنے شہر لالہ موسی چل دیے۔ موت کی خبر نے کائرہ صاحب کے سارے خواب چکنا چور کر دیئے تھے۔ المیہ یہ کہ پہلے خبر دینے کے چکر میں ادب و آداب کا طریقہ بھی بھول گئے کہ اگر کسی کو ایسی اطلاع دی جائے تو کیسے دینی چاہئیے۔

اسامہ قمر تو یہ دنیا چھوڑ کر دوسری دنیا پہنچ گیا اور بے شک ہر کسی نے ایک دن موت کا مزہ چھکنا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم مرنے والوں کی خبریں کیا اس طرح ہی دیتے رہیں گے؟ کیا یہ ہی انداز اور یہ ہی طریقہ ہوگا موت کی خبر دینے کا؟ اگر ایسا ہے تو پھر خود کے لیے بھی وہی اصول بنا لیں جو دوسروں کےلیے بناتے ہیں۔ صحافت کے شعبے کا پہلا اصول اخلاقیات ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہی اچھی اور پر اثر صحافت کی جا سکتی ہے۔ صحافت یہ سیکھاتی ہے کہ کسی کو اپنے پیارے کی خبر دینا ہو تو قریب جا کر اس طرح دی جائے کہ ساتھ والے کو معلوم نہ ہو۔ ایک ڈاکٹر بھی موت کی خبر کا اعلان پورے اسپتال میں نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے موت سے بڑا صدمہ ہی کوئی نہیں اور کسی ایک فرد کو بلا کر افسوسناک خبر دیتا ہے۔

صحافیوں کو بھی یہ بات سمجھنی ہوگی کہ موت کی خبر معمول کی خبر نہیں بلکہ انتہائی تکلیف دہ خبر ہے کیونکہ مرنے والوں کو واپس نہیں لایا جا سکتا. لہذا صحافتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے صحافت کرنے کی ضرورت ہے ورنہ معاشرے کے ایک عام فرد اور صحافی میں کوئی فرق باقی نہیں بچے گا۔