براہ راست کوریج میں صحافتی اقدار کی پامالی

May 18, 2019

میڈیا میں آج کل ریٹنگ اور زیادہ سے زیادہ آگے جانے کی دوڑ چل رہی ہے۔ اس دوڑ میں اکثر صحافتی اقدار کو بھول کر چینلز اور ویب سائٹ پر ایسا مواد جاری یا شائع کردیا جاتا ہے جو صحافت کے بنیادی اصولوں  کی نفی کرتا ہے۔

کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب کسی صحافی یا ٹی وی چینل کی جانب سے ایسی کوئی خبرجاری کی جاتی ہے جس کو دیکھ کر ہم سوچتے ہیں کہ سب سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں ہم کس قدر گرسکتے ہیں۔

اس سلسلے میں حالیہ واقعہ پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کے بیٹے کی وفات سے منسلک ہے۔ جمعہ کو اسلام آباد کے زرداری ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس کے بعد شام کو افطار سے تقریبا ایک گھنٹے قبل پیپلزپارٹی رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی۔

اس پریس کانفرنس کے دوران کچھ ایسا ہوا جس نے صحافتی اقدار اور اصول بری طرح پامال کردئیے۔ میڈیا میں وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے رہنما جب پریس کانفرنس کررہے تھے تو ایک صحافی نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی آپ کے لئے خبر لائے ہیں،کوئی بیٹا ایکسیڈنٹ میں مرگیا ہے۔ وہ صحافی کیمرے پر دکھائی نہیں دیا اور کیمرا اس وقت قمر زمان کائرہ سمیت پیپلزپارٹی کے رہنماؤں پر فوکس تھا۔ اس کے فوری بعد جب قمر زمان کائرہ نے استفسار کیا کہ کس کا بیٹا ؟ اس پر صحافی نے دوبارہ کہنا شروع کیا کہ خبر آئی ہے کہ آپ کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ یہ سنتے ہی قمر زمان کائرہ کے چہرے کے تاثرات یکایک بدل گئے اور انھوں نے بمشکل شکریہ ادا کیا اور پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ وہاں سے ہٹ گئے۔ جیسے ہی پیپلزپارٹی کے رہنما کیمرے سے دور گئے ،ایک اور آواز آتی ہے کہ چیک تو کریں، سننے میں آیا ہے کہ ڈیتھ ہوگئی ہے۔

جس طرح ایک باپ کو اس کے جواں سال بیٹے کی موت کی اطلاع دی گئی،وہ حساس معاملات پر صحافیوں کی تربیت پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جس صحافی نے یہ اطلاع وہاں پہنچائی وہ انسانیت کے تقاضوں سے نابلد تھا۔ ہر صحافی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خبر بریک کرنے میں سبقت لے جائے،مگر جب وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر اطلاع خبر نہیں ہوتی،ہر خبر بریک نہیں کی جاتی،یہ سب ریٹنگ کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی بھونڈی کوشش ہوتی ہے۔

ہونا یہ چاہئے تھا کہ اگر رپورٹر کو قمر زمان کائرہ کے بیٹے کے ایکسیڈنٹ کی اطلاع موصول ہوئی تھی تو اگر وہ فوری طور پر کیمرے کے سامنے یہ بات انھیں نہیں بتاتا تو اس کو مورود الزام نہیں ٹہرایا جاتا۔ مناسب یہ ہوتا کہ قمر زمان کائرہ کے کسی ساتھی کو آہستہ یا کان میں یہ اطلاع دی جاتی اور سب کے سامنے ایسے کہنے سے گریز کیا جاتا ۔ کسی بھی براہ راست کوریج کے دوران یہ انتہائی اذیت ناک لمحہ ہوگا جب کسی کو یہ اطلاع ملے کہ اس کے بیٹے کا اچانک انتقال ہوگیا ہے۔

امریکی ٹی وی سی بی سی شو کے پروگرام نیوز روم میں ایک سبق آموز واقعہ دیکھا گیا، شو کو ایرون سورکن نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ اس پروگرام میں دکھایا گیا کہ شو کا اینکر ول میک وے براہ راست تھا جب فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں کانگریس کی ایک خاتون رکن کو نشانہ بنایا گیا۔ دیگر چینلز پر اس فائرنگ کے واقعے کی جھوٹی کوریج چل پڑی اور مک وے  سے مسلسل یہ کہا گیا کہ وہ یہ خبر بریک کرے کہ کانگریس کی رکن جان سےچلی گئی ہیں۔

مک وے نے یہ خبر بریک کرنے سے انکار کردیا اور تھوڑی دیر بعد ہی  یہ خبر آگئی کہ وہ رکن بچ گئی ہیں اور ان کی سرجری ہورہی ہے۔ اصول تو یہ ہوتا ہے کہ صرف ڈاکٹر ہی موت کی تصدیق کرتا ہے اور سب سے بہت خاندان والوں کو اس کی اطلاع دی جاتی ہے۔

دوسروں کے دکھ درد کی عکاسی کرنا پاکستانی میڈیا کا وطیرہ بن چکا ہے۔ یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ سنگین جرائم کی سی سی ٹی ویڈیو سب سے زیادہ مقبول ہوتی ہے۔ اس نوعیت کی ہولناک اور بے تکی ویڈیوز ہمارے مزاج کو ہمیشہ متاثر کرتی ہیں۔ ہمارا معاشرہ پُرتشدد ہے، اُس کے ساتھ ہی ہمیں یہ پسند آتا ہے کہ ہم انسانی جسم اور روح کی پامالی کو دیکھیں۔

کسی کو دکھ میں دیکھنے کے مناظر کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔ لیکن ایسے مناظر دیکھتے ہوئے ضمیر مر جاتا ہے۔ بہت باریک لکیر ہوتی ہے کہ عوام کو وہ کچھ بتایا جائے جس سے وہ اپنے فیصلوں کا تعین کریں،یہ ریاست کے چوتھے ستون یعنی میڈیا کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہم اصل میں یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم کتنا درد دیکھ سکتے ہیں اور یہ اس لیے بھی آسان ہوتا ہے کیوں کہ یہ ہمارا دکھ و درد نہیں ہوتا۔

صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی جائے،اس کی کئی صورتیں اور قدریں ہوتی ہیں۔ ٹی وی کے لیے کام کرنے والے صحافی،نیوز مینیجرز، ٹکر لکھنے والے،نان لینیئر ایڈیٹرز،اسکرپٹ رائٹرز، رپورٹرز ، ڈائریکٹر نیوز وغیرہ کو یہ سوال خود سے کرنا چاہئے کہ کیا وہ ایسی صحافت کررہے ہیں جس کی پاکستان کو ضرورت ہے،کیا انھیں ایسی خبروں پر معافی مانگنے یا وضاحتیں دینی ہونگی۔

کسی موت کی خبر پر ہماری رپورٹنگ درست نہیں ہوتی،تاہم ہمیں ایسے واقعات پران لوگوں کا خیال رکھنا ہوگا جو اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔