ہندو بیوہ اور روزہ داروں کی کہانی

May 18, 2019

جمعرات کو میں سحری کھانے کے بعد نماز پڑھ کر معمول کے مطابق سوگیا۔ اپنے شیڈول کے مطابق مجھے 12 بجے اٹھنا ہوتا ہے۔ عام طور پر میرے دورازے پر لگا بیل بہت کم ہی بجتا ہے کیوں کہ میرے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ زیادہ مراسم نہیں اور دوست احباب سے باہر ہی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن جمعرات کو خلاف توقع میرے دروازے کا بیل بج گیا۔ میں نے ٹائم دیکھا تو صبح کے 9 بج رہے تھے۔

آنکھیں ملتے ہوئے گیٹ کھولا تو نچلے فلیٹ میں رہائش پذیر ہندو لڑکی کو دروازے پر کھڑا پایا۔ اس نے پہلا سوال کیا کہ گھر میں کوئی باجی ہیں۔ میں نے کہا باجی کوئی نہیں البتہ بھائی ہیں۔ اگلا سوال ان کا خاصا حیران کن تھا۔ پوچھا آپ کو پڑھائی لکھائی آتی ہے؟ میں نے غور سے اپنے حلیے کا جائزہ لیا تو احساس ہوا کہ وہ یہ سوال کرنے میں حق بجانب تھی۔ خود کو سنبھال کر میں نے کہا جی میں لکھ پڑھ سکتا ہوں، خیریت؟ در اصل ہمیں کے ایم سی کا نوٹس ملا ہے۔ وہ پڑھ کر سمجھا دیں۔

میری نیند سمیت ہوش بھی اڑ گئے کیوں کہ آج کل کے ایم سی کا نوٹس سنتے ہی سب سے پہلے ’’تجاوزات کے خلاف آپریشن‘‘ یاد آجاتا ہے۔ مجھے لگا جس عمارت میں ہم رہتے ہیں شاید یہ غیرقانونی ہو۔ میں نے اس سے کہا، آپ جائیں میں کچھ دیر میں تیار ہوکر آتا ہوں۔ تیاری کے دوران ’’سپنوں‘‘ میں مجھے اپنے گھر کا سامان ملبے کے نیچے نظر آیا اور خود کو ملبے پر کھڑا پایا لیکن اگلے لمحے انسان کی فطری خود غرضی نے اطمینان دلایا کہ کونسا آپ کا ذاتی گھر ہے۔ کرایہ دار ہی تو ہیں۔ مالک مکان جانے اور کے ایم سی۔

ان سوچوں میں غرق تیار ہونے کے بعد نیچے جاکر دروازہ کھٹکٹایا تو بزرگ عورت نے دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر اپنی بیٹی کو آواز دی کہ وہ کاغذ لیکر آجاو۔ میں دروازے پر ہی کھڑا انتظار کرتا رہا۔ چند لمحوں میں لڑکی نے میرے ہاتھ میں ایک سادہ کاغذ تھمایا جس پر کسی سرکاری بابو نے روایتی انداز میں "لکیریں" کھینچی تھیں۔ کافی غور سے پڑھنے کے بعد اتنا سمجھ پایا کہ بیان حلفی، وراثت نامہ، ڈیتھ سرٹیفیکیٹ اور دیگر چند دستاویزات کے نام لکھے ہیں۔ اماں نے میری کنفیوژن بھانپ کر کہا "صاحب" نے مجھے یہ کاغذ ساتھ لانے کا کہا ہے۔ میں نے پوچھا وہ نوٹس کہاں ہے۔ اماں نے کہا بیٹا یہی تو نوٹس ہے۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا اور پھر شکر ادا کیا کہ ہم تجاوزات کی زد میں نہیں آئے۔

اماں سے میں نے پوچھا، صاحب نے یہ کیوں مانگے ہیں۔ کہنے لگیں میرا شوہر کے ایم سی کا ملازم (سینیٹری ورکر) تھا۔ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ اب پنشن کیلئے یہ کاغذ لانے کا کہا ہے۔ کل میں سٹی کورٹ گئی تھی جہاں مجھے پتہ چلا کہ صرف ایک کاغذ 2 ہزار روپے کا بنتا ہے۔ مگر وہ بھی غلط بن گیا۔ اب دوبارہ بنانا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اتنا مہنگا کون سا کاغذ ہے۔ اماں نے حلف نامہ پیش کر دیا۔ مجھے یقین نہ آیا کہ 50 روپے کے اسٹامپ پیپر پر چند سطریں لکھ کر مہر لگانے کی قیمت 2 ہزار روپے کیسے بنتی ہے حالانکہ میں نے چند دن پہلے خود 150 روپے میں بنوایا تھا۔

میں نے کہا اماں یہ تو 150 روپے میں بن جاتا ہے، 50 روپے اس کاغذ کی سرکاری قیمت ہے اور 100 روپے اوتھ کمشنر چارج کرتے ہیں۔ آپ نے 2 ہزار روپے کیوں دیے۔ تھوڑی بارگیننگ کرلیتی یا کسی اور سے بنواتی۔ اماں نے جواب دیا، بیٹا سٹی کورٹ کے باہر بیٹھے 9، 10  "وکیلوں" کے پاس گئی مگر سب نے یہی جواب دیا اور جب پیسے کم کرنے کی بات کرتی تو آگے سے جواب ملتا " بی بی روزے میں دماغ مت خراب کرو، بنوانا ہے تو ٹھیک ورنہ چلی جاو۔"

یہ کہہ کر اماں اچانک رک سی گئی شاید وہ یہ بات بتا کر پچھتا رہی تھیں۔ پھر مجھ سے پوچھا بیٹا مسلمان ہو؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا لیکن ہم دونوں کے پاس مزید کچھ کہنے کو نہیں تھا۔ میں شرم کے مارے خاموش رہا اور اماں کو شاید یہ لگا کہ میں نے روزے کی بات کرکے اس کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں۔ میں نے ان دستاویزات کے بارے میں اماں کو سمجھایا اور یہ بھی بتایا کہ کون سا ڈاکومنٹ کہاں سے بنے گا۔ جاتے ہوئے میں نے اماں کو سٹی کورٹ میں پریکٹس کرنے والے اپنے ایک دوست کا رابطہ نمبر دیتے ہوئے کہا کہ دوبارہ جانا ہو تو ان کے پاس چلی جائیں۔ یہ بھی مسلمان ہیں اور آپ سے 150 روپے سے زیادہ نہیں لیں گے۔

اماں اپنے شوہر کے انتقال کے بعد جوان بیٹیوں کے ہمراہ کرایہ کے فلیٹ میں رہتی ہیں اور بیٹیاں لوگوں کے گھروں میں کام کرکے نظام زندگی چلا رہی ہیں۔ شوہر کا پنشن اس لیے رکا ہوا ہے کہ گھر میں کوئی پڑھا لکھا فرد موجود نہیں۔ اماں دفاتر میں جاتی ہیں تو سرکاری بابو ان کو گھن چکروں میں الجھا کر جان چھڑا لیتے ہیں کیوں کہ ان کا بھی روزہ ہے اور وہ روزے کی حالت میں "خواری" نہیں کرنا چاہتے۔

واپس اپنے فلیٹ میں آکر مجھے خیال آیا کہ ہمارے ایک صحافی دوست کی بیٹ سٹی گورنمنٹ ہے اور ان سرکاری بابووں سے ان کے اچھے مراسم ہیں۔ فورا اس کو فون کرکے سارا ماجرا سنایا اور اماں کی مدد کرنے کی درخواست کر دی۔ آگے سے جواب ملا ’’نور بھائی ابھی تو رمضان چل رہا ہے۔ سرکاری دفاتر میں کام ٹھپ ہے اور آپ کو تو پتہ ہے میں بھی روزے رکھتا ہوں۔ عید کے بعد دیکھیں گے‘‘۔

دوست کی جانب سے مایوس ہوکر میرے اندر ’’خدمت خلق‘‘ کا جذبہ بیدار ہوگیا اور میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کرلیا کہ اس کام میں اماں کی مدد کروں گا تاکہ وہ اس عمر میں بسوں اور دفاتر کی خواری سے بچ جائیں۔ اتنے میں بجلی چلی گئی۔ گھر میں حبس ہوگیا اور میں ’’ہوا خوری‘‘ کی نیت سے باہر نکل گیا۔ روڈ پر آیا تو پتہ چلا کہ ہوائیں غائب جبکہ سورج سوا نیزے پر ہے اور شعاعیں سیدھا سر میں گھس جاتی ہیں۔ میرا حلق سوکھ گیا۔ پسینے آگئے اور پھر بلڈ پریشر کے ساتھ میرا ’’خدمت خلق‘‘ کا جذبہ بھی لو ہوگیا کہ میں ہی عبدالستار ایدھی کیوں بنوں۔ آخر روزے کی حالت اور اس گرمی میں کسی اور کے کام کیلئے سرکاری دفاتر میں کھجل خواری کی ضرورت ہی کیا ہے۔

 اماں جی معذرت! ہم سب کا روزہ ہے۔