ہوم   >  بلاگز

کیا ہم اشرف المخلوقات نہیں

4 months ago

وہ صحن میں لگے سنک پر جھکے اپنے چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھپاکے مار رہی تھی اور وہ ابھی ابھی ملک ارباز کی کوٹھی سے واپس آئی تھی جہاں آج اس کے پوتے کے عقیقہ کا فنکشن تھا۔ میرا تو آتے ہی فنکشن کا احوال سنانے اور پیسوں کا حساب کتاب کرنے اوپر چھت پر گرو اماں کے پاس چلی گئی تھی جبکہ شیریں آتے ہی سنک کی طرف لپکی اور جلدی جلدی نل کھولے اپنا سفید آٹے سے اٹا چہرہ دھونے لگی۔

اسے ہمیشہ سے اپنے اس حلیہ سے عجیب سی کراہت آتی تھی جب بھی اپنے چہرہ پر نظر پڑتی اس کا دل کرتا کہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا منہ نوچ ڈالے، تولیہ سے منہ سکھاتے ہوئے اس کی نظر جب سنک کے اوپر لگے آئینے پر پڑی تو بھی اس کا یہی دل چاہا۔ کیا اللہ نے ہمیں اس لئے بنایا ہے کہ دوسروں کی خوشیوں میں ناچتے گاتے پھریں۔ کہیں کسی کے ہاں اولاد پیدا ہو تو تالی پیٹتے ویلیں بٹورنے نکل پڑیں۔ کیا ہماری اپنی کوئی زندگی نہیں ہے۔

آئینے میں اپنا عکس دیکھتے دیکھتے وہ سوچوں میں گم ہوگئی۔ وہ اندرون شہر تنگ و تاریک گلی کے دو کمروں پر محیط مکاں کی مکیں ہے مگر اس مکاں کے باہر کی دنیا اس کے اور اس کے ہم جنسوں کے بارے میں جو سوچ رکھتی ہے وہ اس سے خوب واقف ہے۔ وہ جب بھی اپنی ساتھیوں کے ساتھ شہر کے بازاروں میں گھومنے نکلتی ہے تو ارد گرد کے لوگ انہیں کن نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور کیا کیا سوچتے ہیں وہ سب جانتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے ڈر لگتا ہے

جب کبھی اس کے ساتھی آنے جانے والوں سے پیسے مانگتے ہیں تب کس کس طرح کے لہجوں اور رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسے یہ تجربہ بھی ہے۔ کبھی کبھی وہ سوچتی ہے کہ خدا نے ہمیں اتنا پیچیدہ کیوں بنایا کہ نہ ہم مکمل مرد ہیں اور نہ مکمل عورت مگر آج تک اسے اس بات کا تسلی بخش جواب نہیں مل سکا۔ ’شیریں وے شیریں کب تک آئینہ میں خود کو دیکھتی رہے گی، اوپر آ جلدی گرو اماں بلا رہی ہیں۔‘ میرا کی آواز سے اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا جو چھت کی منڈیر پر کھڑی اسے اوپر بلا رہی تھی۔

ہاہائے شیریں تو نے سارا میک اپ کیوں اتار دیا یاد نہیں ابھی شام کو راجپوتوں کی شادی میں بھی جانا ہے، گرو اماں نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا۔ میں کہیں نہیں جارہی گرو اماں اس نے دو ٹوک لہجے میں جواب دیا۔ ہیں۔۔۔! کیا مطلب ہے تیرا کہ نہیں جائے گی کیوں نہیں جائے گی بھئی، ہاں بھلا تو کیوں اپنی روزی کو لات مارنے پہ تلی ہوئی ہے۔ میرا اور گرو اماں ایک ساتھ ہی اس کی کلاس لینے لگ گئں تھیں۔

روزی، یہ کیسی روزی ہے گرو اماں لوگوں کی خوشیوں میں ناچنے تالیاں پیٹنے، لوگوں کی جلی کٹی باتیں برداشت کرنے کو آپ روزی کہتی ہیں۔ اگر اسی کو روزی کہتے ہیں تو یہی کام باقی لوگ کیوں نہیں کرتے۔ وہ کیوں ان کاموں کےلئے ہمیں بلاتے ہیں اور خود باعزت نوکریاں کرتے ہیں۔ دیکھ شیریں فضول کی بحث نہ کر، گرو اماں نے سختی سے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔ ہم دوسرے انسانوں کی طرح نہیں ہیں۔ ہمیشہ سے ہم یہی کام کرتے آئے ہیں اور یہ سب ہماری روزی کا حصہ ہے۔ تو بھی اس حقیقت کو جتنی جلدی سمجھ جائے، اتنا اچھا ہے۔

مگر کیوں گرو اماں کیا ہمیں رب نے نہیں بنایا، کیا ہم خود اپنی مرضی سے ایسے بنے ہیں؟ ہم کیوں دیگر انسانوں کی طرح زندگی نہیں گزار سکتے۔ کیا ہم انسان نہیں ہیں، کیا ہم اشرف المخلوقات نہیں ہیں؟ وہ ایک ہی سانس میں اپنے دل کی بھڑاس نکال کر خاموش ہوگئی اور باقی دو نفوس کو سوچوں میں ڈال دیا کہ کیا واقعی ہم اشرف المخلوقات نہیں ہیں؟”

یہ بھی پڑھیں: تتلی کا گلشن اور عورت مارچ

کبھی کبھی میں معاشرے میں رہنے والے اس تیسرے جنس جسے حرف عام میں خواجہ سرا کہتے ہیں کے بارے میں بغور سوچتی ہوں اور شیریں کی طرح میرے ذہن میں بھی یہ سوال آتا ہے کہ آخر کیوں بنانے والے رب نے انہیں ایسا بنایا؟ مگر آج تک تسلی بخش جواب حاصل نہ کرسکی۔ ٹھیک ہے ہم نہیں جانتے کہ خدا نے کیوں ان کو ایسے تخلیق کیا اس کام میں اس کی کیا مصلحت ہے مگر اب جبکہ خدا نے ان کو ایک جیتے جاگتے انسان کی صورت میں پیدا کیا ہی ہے تو ہم سب پر لازم ہے کہ ان کو معاشرے کا حصہ سمجھیں اور انہیں بھی باقی انسانوں جیسے حقوق دیں کیونکہ یہ جنس انہوں نے اپنے لئے خود منتخب نہیں کی یہ اللہ کی طرف سے ہے۔

یہ ہمارا امتحان ہے کہ ہم کس قدر اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرکے انہیں اپنے معاشرے میں قبول کرتے ہیں اور زندگی کی ہر دوڑ میں انہیں اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع دیتے ہیں۔ ہمارے ارد گرد شیریں جیسے کئی خواجہ سرا موجود ہیں جنہیں معاشرے کے تلخ لہجوں اور حقارت بھرے رویوں کی وجہ سے اپنے وجود سے نفرت ہے اور اپنی تخلیق پر خالق سے نالاں ہیں۔

لہٰذا معاشرے کو چاہیئے کہ وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواجہ سرا برادری کو ان کے جائز حقوق دے۔ جن میں سرفہرست باعزت زندگی گزارنے کا حق ہے۔ ان کو زندگی کے ہر شعبے میں خود کو منوانے کے مواقع فراہم کیے جایئں تاکہ وہ اپنی برادری اور معاشرے کی فلاح وبہبود میں اپنا کردار ادا کرسکیں تاکہ پھر کسی شیریں کو اپنے وجود سے نفرت نہ ہو، کیونکہ جینے کا حق انہیں بھی ہے، انسان وہ بھی ہیں ، وہ بھی اشرف المخلوقات ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں