دور دراز علاقوں کے صحافیوں کی مشکلات

May 16, 2019

صحافی معاشرے کی آنکھ ہوتے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ قوموں کی تربیت کرنے اور ان کی ترقی کا رخ متعین کرنے میں قلم کا کردار سب سے زیادہ ہے۔ اس وقت ملک بھر میں صحافیوں کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں مگر دور دراز اضلاع کے صحافیوں کیلئے یہ صورت حال مستقل ہے اور انہیں پیشہ ورانہ زمہ داریاں سرانجام دینے میں ہمہ وقت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

با اثر سیاستدان اور ریاستی ادارے صحافیوں کو دبانے کیلئے تشدد سمیت ہر حربہ آزماتے ہیں اور بعض صورتوں میں با اثر افراد اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے علاقائی سطح پر ’جعلی صحافیوں‘ کو بھی لانچ کرتے ہیں اور یہ صورتحال قومی سطح پر توجہ حاصل نہیں کرپاتی۔ اس کے برعکس بڑے شہروں میں صحافیوں کو نسبتا پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں ہوتا اور ہراسمنٹ کی صورت میں فوری طور پر صحافی برادری مدد کیلئے پہنچ جاتی ہے۔

صحافیوں پر تشدد کے واقعات میں پولیس سمیت اکثر ادارے ملوث ہوتے ہیں مگر تشویش ناک امر یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات کی انکوائری بھی پولیس حکام ہی کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں انصاف ملنا تو درکنار الٹا متاثرہ صحافی کو ہی مجرم ٹھہرا دیا جاتا ہے اور اس سارے عمل میں مخصوص صحافی مصلحت قرار دے کر ملزم کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔

صحافتی امور انجام دینے پر تشدد کا ایک واقعہ لیہ میں انگریزی اخبار کے رپورٹر فرید اللہ چوہدری کے ساتھ بھی پیش آیا جو واضح کرتا ہے کہ صحافیوں کو خود اپنے لئے انصاف کے حصول میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فرید اللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر 2010 کے پہلے ہفتے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال لیہ میں نرسنگ اسکول کی طلبات نے احتجاج کیا جس کی ہم نے کوریج کی اور اگلے دن اخبار خبر شائع ہوئی جس کے بعد مجھے بذریعہ فون دھمکیاں ملیں۔

چند بعد فریداللہ اپنے دوستوں کے ہمراہ اسپتال میں ایک مریض کی عیادت کرنے پہنچے تو وہاں موجود افراد نے ان پر حملہ کردیا اور چاقو کے وار بھی کیے مگر آس پاس موجود افراد کی مداخلت پر حملہ آور فرار ہوگئے۔

اس واقعے کا مقدمہ تھانہ سٹی لیہ میں درج ہوا جس میں ملزمان نامزد بھی ہوئے مگر اعلیٰ حکام نے پولیس پر دباؤ ڈال کر مقدمہ خارج کروا دیا لیکن 3 ماہ کے بعد علاقہ مجسٹریٹ نے خارج ہونے والے مقدمات کو دیکھتے ہوئے اس مقدمے کا نوٹس لیا اور فریداللہ کو عدالت میں طلب کرلیا جس پر اس نےعدالت کو بتایا کہ مقدمہ کب خارج ہوا، انہیں علم نہیں اور  پولیس نے انہیں انکوائری کیلئے بھی نہیں بلایا۔ مجسٹریٹ کے حکم پر مقدمہ کی سماعت شروع ہوگئی۔

فریداللہ چوہدری کا کہنا ہے کہ ابھی مقدمے کی انکوائری چل رہی تھی کہ نرسنگ اسکول کی طالبات نے ایک بار پھر احتجاج کی کال دے دی لیکن اس بار وہ صدر بازار لیہ میں دھرنا دینے کے لیے آئی تھیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ رات کو نرسنگ اسکول کی پرنسپل وکٹوریہ طلبات کو انتظامیہ کے بڑے آفیسرز اور سیاستدانوں کی کوٹھیوں اور رہائش گاہوں پر جانے کے لیے مجبور کرتی ہیں۔

یہ یقینا بہت پریشان کن اور حیران کن خبر تھی جس نے کھلبلی مچادی ہر انسان ادھر متوجہ تھا۔ ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ فورا 3 ماہ کی چھٹیوں پر چلے گئے اور یہ دھرنا صدر بازار سے ختم ہو کر پریس کلب لیہ کے سامنے مسلسل 7 دن جاری رہا بلآخر انتظامیہ نے طلبات کے مطالبات مانے اور انہیں اسکول واپس جانے کے لیے قائل کر لیا گیا البتہ یہ کیس وفاق محتسب کے پاس چلا گیا۔

فریداللہ چوہدری نے بتایا کہ معاملے کو یہاں تک پہنچتے 2 سال لگ گئے اور پھر ای ڈی او ہیلتھ کے چھوٹے بھائی نے بار ایسوسی ایشن لیہ کو جوائن کر لیا اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے میرے گواہ سمیت وکیلوں کو بھی پیش ہونے سے روک دیا۔ گواہ منحرف ہونے کے بعد میں صلح پر مجبور ہوگیا اس لیے کمرہ عدالت میں ملزمان کی جانب سے معافی مانگنے پر انہیں معاف کردیا اور مقدمہ ختم ہوگیا۔

سباق صدر پریس کلب لیہ محمد یعقووب مرزا نے اس معاملے پر سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں مگر اس وقت گواہوں کے منحرف ہو جانے کی وجہ سے ہم صلح کرنے پر مجبور ہوگئے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ر) رانا طاہرالرحمان کا کہنا ہے کہ فریداللہ چوہدری پر تشدد کا واقعہ مجھ سے پہلے کا ہے مجھے اس واقعے کے حالات و واقعات کے بارے میں علم نہیں ہے۔ اس لیے اس پر بات نہیں کرسکتا۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لیہ ڈاکٹر امیر عبداللہ نے اس واقعے کی متعلق سوال پر سماء کو بتایا کہ لیہ میں صحافی پر تشدد کا شاید پہلا واقعہ تھا جس پر ہمیں افسوس ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے اور تمام عملے کو ہدایت بھی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سپتالوں میں تشدد کے واقعات پیش نہ آئیں۔