Thursday, October 21, 2021  | 14 Rabiulawal, 1443

پولیو مہم، دہشت گردی اور کج بیانی

SAMAA | - Posted: May 6, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: May 6, 2019 | Last Updated: 2 years ago

پاکستان کے اندر بچوں کو پولیو سے بچاﺅ کے قطرے پلانے کی مہم کی راہ میں ہر طرح کے روڑے اٹکائے گئے حالانکہ ملک کے بڑے بڑے دانشور، علمائے کرام، خصوصاً بڑے معتبر دینی مدارس، مدارس کی بڑی تنظیمات، دینی جماعتیں اور ان کے اکابر اس بابت عوام الناس سے انسداد پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کی بارہا تاکید کرچکے ہیں۔ چناں چہ ملک بھر میں مہم کامیابی سے چل پڑی، ایسا ہی ماحول بلوچستان کے اندر بھی بنا ہے، بلوچستان اس لحاظ سے مشکل صوبہ ہے کہ یہاں شرح خواندگی کم ہے، اس بناء پر مسائل کا سامنا رہا جو کہ اب بھی ہے۔ اس تناظر میں حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے سخت اقدامات نے بھی انکار کرنے والے خاندانوں کو اپنے بچوں کو قطرے پلوانے پر مجبور کیا۔ بہرحال ایسے خاندانوں کی کمی نہیں جو کہ اب بھی قطرے پلانے سے انکاری ہیں۔

بلوچستان کے اندر انسداد پولیو مہم کو دہشت گردی کا بھی سامنا ہے، 25 اپریل کو پاک افغان سرحدی شہر چمن کے دامان میرالزئی میں پولیو ٹیم پر حملہ ہوا، موٹر سائیکل سوار افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون رضا کار نسرین بی بی جاں بحق ہوگئی جبکہ ایک رضا کار راشدہ بی بی زخمی ہوئیں، اس ٹیم کے تحفظ کیلئے لیویز اہلکار ہمراہ تھے، یہاں یہ سوال ضرور اُٹھتا ہے کہ اہلکاروں کی ہمراہی اور موجودگی میں یہ رضاکار خواتین کیسے نشانہ بن گئیں اور حملہ آور فرار ہونے میں کیسے کامیاب ہوگئے؟، کوئٹہ کے اندر بھی اس طرح کے واقعات ہوچکے ہیں، جنوری 2018ء میں 2 خواتین پولیو ورکر، اسی طرح 2014ء میں 3 خواتین سمیت 4 پولیو ورکرز قتل ہوچکے ہیں۔

جنوری 2016ء میں کوئٹہ کے سیٹلائٹ ٹاﺅن میں پولیو مرکز کے باہر دھماکے میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 14 افراد کی موت ہوئی، گویا اس مہم کو دہشت گردوں کے حملوں کے ساتھ کم علم اور ناسمجھ لوگوں کا بھی سامنا ہے، بلاشبہ پولیو ویکسین کی وجہ سے اس مرض پر کافی حد تک قابو پایا گیا ہے۔ باوجود اس کے کہ ہم ایک کھلا معاشرہ ہیں، افغانستان سے روزانہ ہزاروں لوگ سرحد کے اس پار آتے ہیں، جہاں کوئی کیس سامنے آتا ہے اُس کی وجوہات میں سے یہ بھی ایک وجہ ہے۔

جیسے ذکر ہوا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں انتہائی مشکل صورت حال میں پولیو ویکسین مہم چلائی جاتی ہے، دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہمہ وقت رہتا ہے اور بچوں کو قطرے پلانے کا عمل یقینی بنانا انتہائی کٹھن ہے، اکثر اوقات سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ پوسٹ اور ویڈیو اس مہم کیلئے مشکلات کا باعث بن جاتی ہیں۔ 22 اپریل 2019ء خیبر پختونخوا کے علاقے بڈھ بیر ماشوخیل میں ایک شخص کی شرارت بلوچستان کے اندر 22 سے 24 اپریل تک جاری رہنے والی مہم پر بُری طرح اثر انداز ہوئی، جہاں قطرے پلانے کے بعد اسکول کے بچوں کی حالت غیر ہونے کا ڈرامہ رچایا گیا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی گئی۔

یوں بلوچستان میں بھی جہل پسندوں نے اس میں اپنا حصہ ڈالا ، حیرت ہے کہ جمعیت علمائے اسلام جیسی بڑی اور ذمہ دار جماعت کے اندر سے بھی نامعقول بیانات جاری ہوئے جنہوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ 23 اپریل 2019ء کے اخبارات میں جے یو آئی ف کوئٹہ کے امیر حافظ حمد اللہ، جنرل سیکریٹری حاجی ساز الدین، مولانا ولی محمد ترابی اور دوسروں کے نام سے بیان شائع ہوا، جس میں پشاور میں پولیو ویکسین کے قطرے پلانے سے سینکڑوں بچوں کی حالت غیر ہونے کے واقعہ (جھوٹی خبر) کی مذمت کی گئی۔ اس بیان میں ان ذمہ داران نے یہ بھی کہا کہ پولیو ویکسین کے قطرے مشکوک کہنے والوں کی بات سچ نکلی، بیان میں گمراہ کن و صریح مبالغہ آرائی کی گئی کہ ”پولیو ویکسین کے قطروں سے ملک کے مختلف علاقوں میں اب تک سینکڑوں بچے ہلاک ہوچکے ہیں“۔ مزید یہ کہا کہ ”پولیو ویکسین کے قطرے زبردستی پلانے والے اس کا جواب دیں کہ ان کو کیا دیا جاتا رہا ہے کہ یہ مشکوک قطرے پلانے کیلئے زبردستی کررہے ہیں“۔

آگے جاکر ان فہمیدہ رہنماﺅں نے یہ بھی کہا کہ ”نادار بیمار بچوں کے علاج معالجے پر کسی قسم کی زبردستی نہیں، نہ ہی ان کو علاج میسر ہے، پھول جیسے تندرست بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے زبردستی پلانا سازش نہیں تو اور کیا ہے!، گھر گھر اور گلی گلی یہ زہر پینے کو کوئی تیار نہیں، نہ ہی لوگ اپنے بچوں کو موت کے منہ میں دھکیل سکتے ہیں۔“ اس کج بیانی کی توقع کم از کم ایسے شخص سے نہیں کی جاسکتی جو قریباً 5 سال صوبائی وزیر رہا ہو اور ایک بار سینیٹ کے رکن کی حیثیت سے بھی آئینی مدت پوری کر چکا ہو۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان فرمودات پر ان سیاسی نمائندوں سے وضاحت و جواب طلب کیا جاتا، بلکہ ان کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے تھی، انہیں عدالت میں پیش کیا جاتا اور اس بات کا جواب طلب کیا جاتا کہ پولیو ویکسین کے قطرے پینے سے یہ سینکڑوں بچے کب اور کہاں ہلاک ہوئے؟، پولیو کو ’’زہر‘‘ کن معلومات اور پاکستان یا دنیا کی کس لیبارٹری کی تحقیق کی بنیاد پر قرار دیا گیا ہے؟،۔ حیرت ہے کہ جن کو ڈسپرین کی افادیت کا معلوم نہیں، انہوں نے اتنی بڑی بات کہہ ڈالی ہے۔ اس طرح معصوم عوام، خاص کر اپنی جماعت کے کارکنوں اور بہی خواہوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اخبارات کو بھی چاہئے کہ اس طرح کے بے سر و پا بیانات شائع نہ کریں کہ جس سے مفادِ عامہ کو نقصان پہنچتا ہو، لازم ہے کہ ان ذمہ داران سے مجاز فورم پر باز پرس ہو۔ بلوچستان کے پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈی نیٹر راشد رزاق کے مطابق ملک گیر انسدادِ پولیو مہم میں بلوچستان میں 24 لاکھ 69 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاﺅ کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا تھا، مہم کے دوسرے روز یعنی 23 اپریل کو خیبر پختونخوا کے واقعہ کے بعد افواہیں پھیلنے سے انسداد پولیو ٹیموں کو بلوچستان کے بعض علاقوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انکار کرنیوالے خاندانوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا، کوئٹہ اور قلعہ عبداللہ میں ایسے والدین میں اضافہ ہوگیا ہے جو اپنے بچوں کو پولیو سے بچاﺅ کے قطرے نہیں پلانا چاہتے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube