ہوم   >  بلاگز

ہراسمنٹ کیخلاف صحافیوں کے مقدمات کب سنے جائیں گے

7 months ago

کسی بھی معاشرے کی تعلیم و تربیت، سیاست، تفریخ اور رویوں کا دار و مدار وہاں چھپنے والے کتابوں اور اخباروں پر ہوتا ہے لیکن جس معاشرے میں صحافیوں کے حقوق پامال ہوں، پسندیدہ پارٹی کی کرپشن، بے ضابطگیاں اور چوریاں بے نقاب کرنے پر صحافیوں کوبرا بھلا کہا جائے، طاقتور کے غلط کام کی نشاندہی کرنے پر صحافیوں پر تشدد کرایا جائے، افسران کی کرپشن اور غیر قانونی کام کو شائع کرنے پر صحافیوں یا ان کے بچوں کو اغواء کر لیا جائے یہاں تک کہ کسی وڈیرے یا سیاستدان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب کرنے پر صحافیوں کو قتل کروا دیا جائے وہ معاشرے پروان چڑھنے کی بجائے پستی میں ڈوب جاتے ہیں۔

پاکستان پریس فاونڈیشن کی ویب سائیٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق 2002 سے اب تک 73 صحافی پیشہ ورانہ ذمہ داری انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 185 صحافی زخمی ہوئے۔ اس کے ساتھ 88 پر قاتلانہ حملے کیے گئے، 22 صحافیوں کو اغواء کیا گیا جبکہ 42 صحافیوں کو حراست میں لے کر حبس بے جا میں رکھا گیا لیکن وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی جانب سے صحافیوں اور ان کے اداروں کے تحفظ کے لیے کبھی کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

 صحافیوں کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کے نہ تو مقدمات درج کیے جاتے ہیں نہ اعلی سطح پر انہیں زیر بحث لایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی پیروی کرنے دی جاتی ہے جس کی ایک مثال ولی بابر خان کا کیس ہے۔

پاکستان پریس فاونڈیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صحافیوں سے متعلق اب تک صرف 5 کیسز ایسے ہیں جو اپنے انجام کو پہنچے حالانکہ ان کیسز کی پیروی کے دوران سیکڑوں رکاوٹیں ڈالی گئی اور صلح پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ صحافیوں کی تمام یونینز کو اس مسئلے پر لکھنے اور تربیتی نشتوں کے اہتمام پر توجہ دینی چاہیے کہ یہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

صحافتی امور کی انجام دہی کے دوران سیاستدانوں، ورکروں اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے صحافیوں کی ہراسمنٹ عام سی بات ہے زیادہ تر واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کے اہلکاران صحافیوں پر تشدد کرنے کیمرے بھی توڑ دیتے ہیں۔

اسی طرح کا ایک واقعہ ڈیرہ غازی خان میں نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر شیرافگن بزدار کے ساتھ بھی پیش آیا شیر افگن بزدار نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 19 ستمبر 2018 کو تقریبا رات 10:30 بجے کسی شخص نے مجھے فون پر اطلاع دی کہ ٹی وی پر لگے میچ کی ہار جیت پر جوئے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ گدائی پولیس نے بستی لغاری میں ایک گھر پر چھاپہ مارا ہے مگر وہاں موجود لوگوں نے وارنٹ گرفتاری نہ ہونے کی وجہ سے پولیس پر حملہ کردیا اور اے ایس آئی سجاد کو باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میں حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فورا جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوگیا۔ وہاں پہنچنے پر دیکھا کہ ریسکیو 1122 کے جوان زخمی پولیس اہلکار کی مرہم پٹی کر رہے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری ڈی ایس پی جواد اور ایس ایچ او تھانہ گدائی اشرف قریشی کے ہمراہ موقع پر پہنچ چکی ہے۔ میں نے پولیس اہلکار سجاد سے اجازت لے کر اس کی ویڈیو بنائی تاکہ حکومتی رٹ کے خلاف ہونے والے اس اقدام کو کوریج دی جا سکے۔

 ڈی ایس پی جواد اس وقت اہل علاقہ کے ساتھ بد زبانی کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میں تم سب پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروں گا، جب ویڈیو سے متعلق ڈی ایس پی کو علم ہوا تو اس نے مجھے کو بلا کر موبائل چھین لیا اور ہراساں کیا میں نے بتایا کہ میں صحافی ہوں اور اس واقعہ کی کوریج کرنے یہاں آیا ہوا ہوں۔

ڈی ایس پی جواد نے مجھ سے میرے صحافی ہونے کا ثبوت مانگا تو میں نے ٹی وی چینل کا کارڈ نکال کر دکھایا۔ ڈی ایس پی جواد نے مجھے کارڈ واپس پکڑاتے ہوئے ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کا کہا جس پر میں نے جواب دیا کہ آپ میرا موبائل لے لیں میں ویڈیو ڈیلیٹ نہیں کر سکتا۔ ڈی ایس پی طیش میں آگیا اور پولیس اہلکاروں کا حکم دیا کہ اسے گرفتار کر لو، پولیس اہلکاروں نے مجھے گرفتار کر کے وین میں بٹھا لیا۔ وہاں موقع پر موجود اہل علاقہ نے ڈیرہ غازی خان کے دیگر صحافیوں کو فون پر میری کی گرفتاری کی اطلاع دی اور سوشل میڈیا پر بھی اس خبر کو فورا پھیلا دیا۔ پریس کلب ڈیرہ غازی خان کے اس وقت کے صدر مدثر لاشاری اور دیگر صحافیوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان عمران یعقوب کو فون کر کے واقعے کی اطلاع دی اور میری کی رہائی کے لیے زور ڈالا جس پر ڈی پی او نے فون کر کے ڈی ایس پی جواد کو حکم دیا کہ شیرافگن کو رہا کیا جائے۔ صحافی جائے وقوعہ پر پہنچے اور مجھے پولیس سے چھڑوا کر سارا معاملہ سنا۔ اگلے دن یوم عاشور تھا صحافیوں نے احتجاج کا فیصلہ کیا۔

بیس ستمبر 2018 کو وزیر آب پاشی محسن لغاری کی ڈیرہ غازی خان کمشنر آفس آمد کی اطلاع ملتے ہی صحافیوں نے کمشنر آفس کے باہر احتجاج کی کال دے دی۔ پلے کارڈ اٹھائے تمام صحافی وہاں پہنچے اور ڈی ایس پی جواد کی طرف سے صحافیوں کےساتھ سخت رویے کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمران یعقوب کمشنر آفس میں ہی موجود تھے، وہ باہر آئے اور صحافیوں سے واقعہ کی غیر جانب دار انکوائری کے وعدے پر احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی۔

تمام صحافی برادی احتجاج ختم کر کے پریس کلب روانہ ہوگئی۔ ڈی پی او عمران یعقوب نے ایس پی ظفر بزدار کو معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا۔ ایس پی ظفر بزدار نے ڈی ایس پی جواد کو اپنے پاس بلایا اور سارا معاملہ الجھانے کی بجائے سلجھانے کا حکم دیا۔

بائیس ستمبر 2018 کو ڈیرہ غازی خان کے پانچوں تھانوں کے ایس ایچ اوز، ڈی ایس پی جواد کے ہمراہ طے شدہ پروگرام کے تحت پریس کلب ڈیرہ غازی خان آئے اور تمام صحافی برادری سے گزشتہ واقعے پر معذرت کی اور یقین دلایا کہ آئندہ ایسا واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ تمام سینئر صحافیوں نے گھر آئے مہمانوں کو عزت دینے کی خاطر درگرز کردیا اور تمام قانونی کاروائی بند کروادی۔

ریجنل پولیس آفیسر محمد عمر شیخ نے اس حوالے سے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کو جوئے کے اڈے پر ریڈ کرنے کے لیے کسی وارنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ تمام آفیسرز کو ہدایات دے دی ہیں کہ ایماندار صحافیوں کو تھانوں میں عزت دی جائے جو صحافی جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کرتے ہیں ان کے ساتھ سخت رویہ رکھا جائے۔ ڈی ایس پی جواد کا تبادلہ ہو چکا ہے وہ اب ڈیرہ غازی خان میں نہیں ہیں۔ شیرافگن بزدار کی ہراسمنٹ کے واقعے کے بعد محکمہ پولیس میں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ بہت ساری تبدیلیاں آپ کے سامنے بھی ہیں ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ کسی کے ساتھ بدسلوکی نہ ہو اور آئندہ ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔

سابق صدر پریس کلب ڈیرہ غازی خان مدثر لاشاری نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ نے ہمیشہ صحافیوں کو دو سے تین حصوں میں تقسیم رکھا، جب جی چاہتا تھا اپنے مفادات کے لیے انہیں استعمال کر لیا جاتا تھا۔ لیکن شیرافگن بزدار کے مسئلے پر ہم سب صحافی متحد ہوکر کھڑے ہوگئے، تب اتنظامیہ کے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں بچتا تھا۔ اس لیے محکمہ پولیس کے آفیسران کو پریس کلب میں آکر معذرت کرنا پڑی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وسائل کی کمی کے پیش نظر صحافیوں کی تربیت کے حوالے سے ابھی تک ہم کوئی بھی تربیتی ورکشاب منعقد نہیں کروا سکے، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جلد صحافیوں کی فیزیکل سیفٹی کے حوالے سے ایک تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کریں۔ امید کرتے ہیں کہ آئندہ پولیس کی جانب سے ایسی حرکات سامنے نہیں آئیں گی جس سے صحافیوں کی حقوق پامال ہوں۔

ایسا ہی ایک واقعہ چوک اعظم میں ایک اخبار کے رپورٹرملک صابر عطاء تھہیم کے ساتھ بھی پیش آیا۔ انہوں نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں ایک دفعہ ڈکیتی کے واقعہ پر معلومات اکٹھی کررہا تھا تو وہاں موجود سب انسپکٹر فیاض حیدر نے ہرزہ سرائی کی۔ میں نے سب انسپکٹر کو اس پر ٹوکا تو اس مجھے گرفتار کرلیا، تھانے لے جا کر مسلسل دو گھنٹے اتنا تشدد کیا کہ میرے سر سے خون بہنا شروع ہوگیا۔ تشدد کے بعد جب مجھے چھوڑ دیا گیا تو میں نےاس وقت کے ڈی پی او محمد اعظم کو سارے معاملے اور تشدد پر انصاف کی درخواست دی۔ ڈی پی او نے سب انسپکٹر فیاض حیدر کو قانون ہاتھ میں لینے پر معطل کردیا تھا۔

ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر لیہ نثار احمد خان نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافی کسی بھی معاشرے کی نبض ہوتے ہیں۔ صاف اور کھری بات لوگوں تک پہنچانا اور سچ لکھنا ایک صحافی کی اولین ذمہ داری ہے۔ سچ اور حق گوئی پر جس طرح انبیاء کو تکالیف دی گئیں اسی طرح آج کے معاشرے میں صحافیوں کو تختہ مشق بنایا جا رہا ہے۔ امریکہ، یورپ، مشرق وسطی ہو یا پھر ایشیاء حق گو صحافی پر زمین تنگ کر دی جاتی ہے۔ صحافیوں کے حقوق کا تو یہ عالم ہے کہ وہ ادارے جن کے ساتھ یہ منسلک ہوتے ہیں جن کے لئے یہ جان کی پروا کئے بغیر دن رات خبر کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں وہ انہیں اعزازیہ تک نہیں دیتے۔ جب تک آپ کا ادارہ آپ کے حقوق کا خیال نہیں رکھے گا آپ کسی اور سے تحفظ کے کی توقع کیسے کرسکتے ہیں۔ صحافیوں کے تحفظ، مستقبل کی ضمانت کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کی صحت، تعلیم، اوربنیادی ضروریات کے لیے حکومت کی جانب سے اقدامات وقت ہی اہم ضرورت ہیں۔

وزیر اعلی پنجاب سرادار عثمان خان بزدار کا تعلق ڈیرہ غازی خان ڈویژن سے ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ پورے ڈویژن میں صحافیوں پر مقدمات اور صحافیوں کی جانب سے مقدمات کا کوئی بھی ریکارڈ مرتب نہیں کیا گیا اور نہ ہی اداروں نے کبھی صحافیوں کو اس بات کی تربیت دی ہے کہ کسی بھی دھکمی یا ظلم کا اندراج تھانے میں لازمی کروائیں۔ عموما یہی ہوتا ہے کہ جب صحافی مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دیتا ہے تو عام جان پہچان ہونے کی وجہ سے اس پر صلح کے لیے دباو بڑھا دیا جاتا ہے۔ ہر بار ایک ہی فقرہ سننے کو ملتا ہے کہ “ایک ہی جگہ کے باسی ہیں اکٹھے رہنا ہے اس لیے لڑائی سے گریز کریں” اور ہمیشہ صحافی کو ہی در گزر کر کے صلح کا ہاتھ بڑھانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ حصول حقوق کی جدوجہد میں ہم سب صحافیوں کا متحد ہونا لازم ہوگیا ہے اس لیے آئیں سب مل کر اپنے خلاف ہونے والے اقدامات پر قلم درازی کریں جب تک کہ قانون سازی نہیں ہو جاتی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں