Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

یوٹیلٹی کارپوریشن، سبسڈی کا حکومتی اعلان عوام کو ریلیف دے پائے گا؟

SAMAA | - Posted: Apr 30, 2019 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 30, 2019 | Last Updated: 3 years ago

یوٹیلٹی اسٹورز کاپوریشن پاکستان، ملک کا ایک نیم سرکاری ادارہ ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے قائم اس ادارے نے کئی نشیب و فراز دیکھے، ایک دور ایسا بھی آیا کہ سینکڑوں ملازمین کو ایک مہینے کا مختصر نوٹس دیکر نوکری سے فارغ کردیا گیا، جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں یہ ادارہ اپنے عروج پر پہنچ گیا، اس نے اتنی ترقی کی کہ اس کی شاخیں چترال، کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیل گئیں۔

یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی شاخیں کراچی کے ساحل سے خنجراب اور گلگت بلتستان کے دور دراز دیہاتوں تک پھیلی ہوئیں ہیں، یہ واحد نیم حکومتی ادارہ ہے جس نے پاکستان کے دور دراز اور دیہی علاقوں کے عوام کو ناصرف معیاری اشیائے خور و نوش سستے داموں فراہم کیں بلکہ استعمال کا شعور بھی دیا، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے ملک میں 6 ہزار سے زائد مراکز ہیں، 14 ہزار خاندانوں کا روزگار براہ راست اس سے وابستہ ہے، ان ملازمین میں 6 ہزار کے قریب کنٹریکٹ اور روزانہ اجرت کی بنیاد پر کام کررہے ہیں اور کروڑوں کی تعداد میں غریب عوام اس ادارے سے مستفید ہورہے ہیں۔

عام طور پر یوٹیلٹی اسٹورز کا رخ وہ لوگ کرتے ہیں جو انتہائی غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اکثر یوٹیلٹی اسٹورز کے دروازے پر لوگوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں جو فی اشیاء اپنے 5 روپے بچانے کیلئے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں اور سستی چینی، گھی اور مشروبات حاصل کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد خوشی خوشی گھروں کو لوٹتے ہیں۔

پچھلے ایک سال سے یوٹیلٹی اسٹورز مالی مشکلات سے دوچار ہے، اربوں روپے کا سالانہ کمانے والا ادارہ اب چند لاکھ روپے کی سیل تک محدود ہوچکا ہے، ماضی میں اس ادارے نے سالانہ 4، 4 ارب روپے ٹیکس کی مد میں حکومتی خزانے میں جمع کروائے۔ مالی بحران کی وجہ 2013ء کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ سبسڈی کی عدم ادائیگی ہے، یوٹیلٹی اسٹورز نے مہنگی اشیائے خور و نوش خرید کر سستی فروخت کیں، حکام کے مطابق وفاقی حکومت یوٹیلٹی اسٹورز کے 30 ارب روپے کی مقروض ہے، ان مراکز میں کام کرنیوالے مزدوروں کی یونین نے اکتوبر 2018ء کو اسلام آباد میں 30 ارب روپے کی فراہمی اور دیگر مطالبات کی منظوری کیلئے حکومت کے خلاف دھرنا دیا، جس پر وفاق نے تمام مطالبات جائز قرار دیتے ہوئے فی الفور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس پر دھرنا ختم ہوا لیکن بد قسمتی سے 6 ماہ گزرنے کے باوجود بھی حکومتی اعلانات پر عملدارآمد نہیں ہوا۔

حکومت یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو اپ گریڈ کرنے کے دعوے کررہی ہے لیکن عملی طور پر اس حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا، پچھلے ایک سال سے اسٹوروں پر اشیائے خور  و نوش کی قلت ہے، حکومت کی جانب سے یوٹیلٹی اسٹورز کیلئے 2 ارب روپے کے رمضان پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے، جسے عوام تک شفاف طریقے سے پہنچانے کیلئے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔

دوسری جانب یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی حالت یہ ہے کہ اسٹورز خالی پڑے ہیں، چند کمپنیوں کے علاوہ تمام کمپنیوں نے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر سامان کی سپلائی بند کردی ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز حکام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور 14 ارب روپے جاری کرے تاکہ کمپنیوں کے بقایا جات ادا کرنے کے بعد دوبارہ رمضان کیلئے خریداری کی جائے اور عوام الناس کو سستی اشیائے خور و نوش کی فراہمی ممکن ہوسکے۔

یوٹیلٹی اسٹورز حکام کے مطابق اس وقت ملک بھر میں موجود مراکز میں صرف 2 ارب کا سامان موجود ہے جبکہ اس میں کم از کم 25 ارب روپے کا سامان ہونا چاہئے جس کے بعد ہی عوام کو بہتر طور پر ریلیف مل سکے گا، اگر ایسا نہ ہوا تو 2 ارب کی سبسڈی دینا ممکن ہی نہیں رہے گا۔

تبدیلی سرکار یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو مالی بحران سے نکالنے اور روزہ داروں کو رمضان المبارک میں ریلیف دینے میں بالکل سنجیدہ نہیں، اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ رمضان میں ایک ہفتہ رہ گیا ہے اور یوٹیلٹی اسٹورز نے خریداری ہی نہیں کی، ملک بھر کے اسٹور خالی پڑے ہیں۔

اس تمام صورتحال کو دیکھ کر یوٹیلٹی اسٹورز کے ملازمین سخت مایوس ہوچکے ہیں اور انہوں نے یکم مئی کو پارلمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے، اگر حکومت نے اس وقت بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو بیک وقت رمضان المبارک کے مہینے میں حکومت عوام اور ملازمین کیلئے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
حکومت اگر فوری طور پر 10 ارب روپے ریلیز کردے تو رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں ملک کے تمام یوٹیلٹی مراکز کو سامان سے بھرا جاسکتا ہے، اگر ایسا نہ ہوا تو 2 ارب کی سبسڈی کا اعلان عوام اور ملازمین کیلئے لالی پوپ ہی سمجھا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube