ہوم   >  بلاگز

چوہدری نثار اور دم توڑتی چوہدراہٹ

4 months ago

چودھری نثار میرے پسندیدہ سیاسی لیڈر ہیں اور کیوں نہ ہوں۔ دلیر، دلیل سے بات کرنے والے اور مخالفین کو دباؤ میں رکھنا ان کا خاصا ہے۔ پہلی دفعہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے چودھری نثار کو جاننے کا موقع ملا، قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کو دلیل کے ساتھ ناکوں چنے چبوانے کی صلاحیت ان کے علاوہ کسی بھی سیاسی لیڈر میں نہیں دیکھی، اس کے بعد چودھری صاحب وزیر داخلہ بنے، اپنی وزارت میں کام تو خاصے کئے، بھرپور منصوبہ بندی کیساتھ دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ فیس بک انتظامیہ کو کچھ معاملات میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ دھرنے والوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نپٹنے کی کوشش کی، لیکن ان کے قائد نواز شریف آڑے آئے اور یوں چودھری کا کھڑاک دیکھنے سے ہم سب لوگ محروم رہے۔

چودھری نثار اور نواز شریف کے درمیان ابتدائی دنوں ہی میں دوریاں پیدا ہونا شروع ہوگئیں، لیکن شہباز شریف کی بیک ڈور ڈپلومیسی نے دوستی کی اس ڈور کو ٹوٹنے نہ دیا۔ پاناما لیکس کے بعد نواز شریف کے خلاف اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف کی مہم نے میاں اور چودھری کی دوست کی چھتری میں چھید کیا۔ نواز شریف نے اپنے دیرینہ رفیق کی مشوروں پر چلنے کی بجائے چند نو وارد مشیروں کے مشورے کو اہمیت دینا شروع کردی۔ چودھری نثار اپنے قائد کی جانب سے نظر انداز کئے جانے کو دل پر لے لیا اور اس کا برملا اظہار بھی کرنا شروع کردیا۔ چودھری نثار نے نواز شریف کو عدلیہ اور فوج سے محاذ آرائی سے بہرصورت بچنے کا مشورہ دیا، لیکن کرسی کا رومانس دوستی پر حاوی ہوگیا اور دونوں میں دوریاں پیدا ہوتی چلی گئیں۔ نواز شریف کیخلاف عدالتی فیصلہ آنے سے محض ایک روز قبل چودھری نثار نے طویل پریس کانفرنس کی اور سارے گِلے کر دئیے۔ ووٹ کو عزت دو کے نعرے کے دوران چودھری نثار پس پردہ چلے گئے۔ الیکشن کا وقت آیا، ٹکٹ نہیں ملا اور یوں پرانا دوست دوستی بس میں سوار ہونے کی بجائے جیپ  پر سوار ہوگیا۔ قومی اسمبلی کی نشست تو نہ ملی لیکن صوبائی اسمبلی میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ چودھری نثار کی شکست ان کی دہائیوں سے قائم چودھراہٹ کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گئی اور یوں چودھری نے اس نشست کو کوئی اہمیت نہ دی اور نہ ہی اسمبلی میں حلف اٹھانے کیلئے آئے۔

وفاق میں وزارتوں کی تبدیلی کے بعد پنجاب میں بھی تبدیلی کی بازگزشت سنائی دے رہی ہے۔ ایسے میں چودھری نثار کا نام بطور وزیر اعلیٰ منظر عام پر آرہا ہے۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ تحریک انصاف اور خود مسلم لیگ کے ممبران بھی ان کے حامی ہیں۔ حکمران جماعت میں اندرونی اختلافات کی افواہیں بھی سرگرم ہیں۔ چودھری سرور اور چودھری پرویز الہیٰ بھی ضرورت سے زیادہ فعال دکھائی دے رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وسیم اکرم پلس کے جانے کے بعد تحریک انصاف کے پاس کون سا آپشن ہے، کیا پارٹی کے اندرونی اختلافات اور اتحادیوں کی ناراضگی کے باوجود کوئی متفقہ امیدوار میدان میں اتارا جاسکتا ہے؟ چودھری نثار صوبائی اسمبلی کا حلف اٹھانے کے بعد کون سی جماعت میں شامل ہوں گے۔ ان کی دائیں طرف دیرینہ دوست عمران خان ہیں جبکہ بائیں جانب ان کے جگری دوست شہباز شریف ہیں۔ کیا چودھری نثار اپنی چودھراہٹ کو قائم رکھنے کیلئے دونوں دوستوں کی حمایت حاصل کرپائیں گے۔ فرض کریں انہیں دونوں دوستوں کی حمایت مل بھی جاتی ہے تو وہ کس کےساتھ وفاداری نبھائیں گے۔

موجودہ سیاسی منظرنامے پر نگاہ دوڑائی جائے تو پنجاب اسمبلی میں چودھری نثار کی جگہ نہیں بنتی، لیکن اگر وہ کسی بھی طرح وزیر اعلیٰ منتخب ہوجاتے ہیں تو ان کے مستقبل کی سیاست کیلئے یہ عہدہ زہر قاتل ثابت ہوگا، ان کی دم توڑتی چودھراہٹ کے لئے وزارت اعلیٰ آخری ہچکی ثابت ہوگی، کیوں کہ دو کشتیوں کے سہارے چلنے والے مسافر اکثر ڈوب جایا کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے بقول چودھری نثار تحریک انصاف میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اور خبر تحریک انصاف اور خود چودھری نثار کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔ لیکن پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو ناتجربہ کار فرد کے ہاتھ دے کر جو نقصان تحریک انصاف پہلے ہی کرچکی ہے۔ اس کے پاس گرچہ میاں اسلم اقبال کی صورت میں ایک بہتر آپشن موجود ہے لیکن چودھری نثار کے علاوہ ان کے پاس مزید بھی کوئی آپشن نہیں بچتا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں