عمران خان کی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ، کیا پی ٹی آئی اپنا مقام کھو رہی ہے؟

April 18, 2019

پاکستان تحریک انصاف کے اہم ترین رہنماء اور وزیر خزانہ اسد عمر نے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا ساتھ ہی وزیراعظم نے کئی وزراء کے قلمدان بھی تبدیل کردیئے۔

سماء کی اینکر عنبر شمسی نے سینئر تجزیہ کاروں کے سامنے سوال اٹھایا کہ کیا اسد عمر کا یہ فیصلہ پی ٹی آئی حکومت کی ساکھ کو متاثر کرے گا؟۔

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ایسی حکومت جو اب تک پرفارم کرسکی اور نہ ہی عوام کو ریلیف دے سکی اس کا اپنی مدت پوری کرنا مشکل نظر آتا ہے، ہماری لوگوں میں برداشت کی کمی ہے۔

معروف تجزیہ کار نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس اسد عمر کو ہٹانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، بولے کہ اگر کسی شخص کی کارکردگی نظر نہ آئے تو اسے ہٹانے کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے؟۔

سینئر صحافی شہباز رانا نے سوال کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسد عمر نے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ انہیں عہدہ چھوڑنے کیلئے کہا گیا ساتھ ہی انہیں دوسرا عہدہ لینے کی بھی پیشکش کی۔

سماء کے پروگرام سوال میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسد عمر کو پہلی بار رواں سال جنوری میں نشانہ بنایا گیا جب جہانگیر ترین نے اس عہدے کیلئے متبادل امیدوار متعارف کرایا تاہم وزیراعظم عمران خان نے اسے پسند نہیں کیا۔

دفاعی تجزیہ کار شاہد لطیف نے عنبر شمسی کے سوال پر کہا کہ پہلے مرحلے میں اسد عمر کو وزیر خزانہ کے عہدے پر تعینات کرنا ہی درست فیصلہ نہیں تھا، اسد عمر کوئی تجربہ رکھتے تھے اور نہ ہی انہیں آزمایا گیا تھا۔

سینئر صحافی مبشر زیدی سوال پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے بولے کہ وزیراعظم بھی اپنے نئے وزیر خزانہ کے نام سے ناواقف ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اسد عمر پر آج تنقید کرنے والوں نے بھی ان کے وزیر خزانہ بنائے جانے کے فیصلے کی توثیق کی تھی، وزیر خزانہ نے تمام فیصلے وزیراعظم کی منظوری سے کیے اور ان کا دفاع بھی کیا تھا، انتخابات کے دوران اسد عمر پی ٹی آئی کے پوسٹر بوائے تھے۔

مبشر زیدی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی ناکامی کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ خود معاشی معاملات چلانا چاہتی ہے، عمران خان اب بہت محتاط انداز میں کھیلیں گے، وزیراعظم اپنے اصلاحاتی ایجنڈے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

تجزیہ کار مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ اسد عمر کے پاس مشکل فیصلوں کا وقت ہی نہیں تھا، موجودہ حکومت کی ناکامی کے نتیجے میں ملک سنگین بحران میں گھر جائے گا۔