نیشنل پارٹی اور اٹھارویں آئینی ترمیم

April 16, 2019

اپریل کی 4 تاریخ کو نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات برادرم ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے ظہرانے پر مدعو کیا، تقریب کوئٹہ پریس کلب کے نو منتخب عہدیداروں کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، پارٹی کے سیکریٹری جنرل جان بلیدی بھی موجود تھے، میں کچھ تاخیر سے پہنچا اس بناء پر ساق وزیراعلیٰ کی گفتگو میں شریک نہ ہو سکا، چیدہ چیدہ باتیں صحافی دوستوں سے دریافت کیں، کچھ رہنمائی اگلے روز اخبارات میں چھپنے والی خبر سے حاصل کرلی۔

بلوچستان کی سیاست تلخ و مشکل ادوار دیکھ چکی ہے بلکہ ہنوز ایسی ہی کیفیت ہے، وفاق اور صوبے کے درمیان موافقت اور اطمینان کا ماحول شاز ہی دیکھنے کو ملا ہے، تضادات اور خامیوں سے سیاسی صفیں بھی پاک نہیں ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ڈھائی سال صوبے کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، یہ عرصہ مسائل و مشکلات سے بھرا ہوا تھا، ان کے سینے میں پوشیدہ کئی راز ہیں تاہم ان کا اظہار آج تک نہیں کیا گیا، البتہ میر حاصل بزنجو بسا اوقات دل کا غبار نکال دیتے ہیں، حاصل بزنجو ان دنوں علیل ہے، جان بلیدی نے ان کی صحت یابی کی خوش خبری سنائی، رب کریم پوری طرح صحت یاب کرے۔

ظہرانے میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اٹھارویں آئینی ترمیم کو بھی گفتگو کا موضوع بنایا، پیپلز پارٹی کی حکومت میں صوبوں و سیاسی جماعتوں کی باہمی مشاورت اور رضا مندی سے آئین کے اندر اٹھارویں ترمیم کی گئی، یہ ترمیم ایسے ان حالات میں آئین کا حصہ بنی جب بلوچستان میں ابتری و بے قراری انتہاء پر تھی۔ مجھے یاد ہے کہ جب ترمیم کو ایک سال ہوا تو ڈاکٹر صاحب نے پارٹی کے دوسرے رہنماﺅں کے ساتھ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اٹھارویں آئینی ترمیم کو سیاسی جماعتوں کی بڑی کامیابی قرار دیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس خوشی میں آج کے دن صوبے کے اندر تقریبات کا انعقاد ہونا چاہئے تھا، گویا ترمیم صوبوں اور وفاق کو جوڑنے والی آہنی زنجیر بنی۔

بد قسمتی سے موجودہ حکومت نے اٹھارویں ترمیم پر سوالات و تحفظات اُٹھانے شروع کردیئے، کوئی کہتا ہے کہ اس ترمیم کے بعد وفاق کا حصہ کم ہوکر رہ گیا، کبھی کہا جاتا ہے کہ اس ترمیم میں معیار پر توجہ نہیں دی گئی۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا اس بابت یہی کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کو کسی صورت رول بیک ہونے نہیں دیا جائے گا، بلوچستان میں صوبائی خود مختاری کا مسئلہ 5 شورشوں کو جنم دے چکا ہے، تشدد گریز جماعتوں اور سیاستدانوں نے بھی امتیازی رویوں اور پالیسیوں کیخلاف تلخ رویہ اپنائے رکھا، یقینی طور پر وفاق یا اس پر مسلط اذہان کا امتیازی سلوک، صوبائیت و لسانیت کی وجہ بنا ہے۔

بڑی قومی جماعتیں بشمول دینی و مذہبی جماعتیں صوبائی حقوق پر واضح نکتہ نظر رکھتی ہیں، خصوصاً اٹھارویں آئینی ترمیم میں ان تمام کی آراء شامل ہے، اب جبکہ عمران خان کی حکومت نے بات چھیڑ دی ہے، تو سب ہی جماعتوں کو چوکنا رہنا چاہئے، بیانات اور سوشل میڈیا کی سطح کے احتجاج سے نکلنا ہوگا، ملک گیر و ہمہ گیر تحریک کی تیاریاں پکڑنی ہوں گی، جس کی شدت ایسی ہونی چاہئے کہ حکومت کی ایک بھی نہ چلے۔

سیاسی جماعتوں کے پاس جواز موجود ہے، عوام پر گرانی کا بم گر چکا ہے، مہنگائی کا طوفان ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید ہو رہا ہے، بے کس و مجبور عوام حالات کے جبر کے رحم و کرم پر ہیں، معاشی عدم استحکام بڑھ رہا ہے، صحافت دن بدن شکنجہ میں کستی جارہی ہے، سیاسی و انتقامی بنیادوں پر مقدمات قائم ہو رہے ہیں، احتساب انتقام بن چکا ہے،  بدعنوان مظلوم بن گئے ہیں، شفاف سیاسی ماحول کیلئے سیاستدانوں نے ہی کردار ادا کرنا ہے، انہیں سوچنا ہوگا کہ ان کی صفیں بدعنوانی سے کیسے پاک ہوں، لوٹا و بے نامی سیاست کا راستہ روکنے کی تدبیر بھی ہونی چاہئے،  یقیناً یہ سب ممکن ہے گر سیاست صاف ستھری ہو۔

اُن جماعتوں کے ساتھ بھی اشتراک یا تعاون نہیں ہونا چاہئے جن پر کسی بھی وجہ سے پابندی کی جاچکی ہے، ایسی جماعتیں بھی موجود ہیں جو خارجی دولت کے بل بوتے پر قائم ہیں، بلوچستان کے منظر نامے میں آنیوالے تغیر کو بلوچستان نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام ف، عوامی نیشنل پارٹی اور بی این پی عوامی نے کاندھا دیا، پیپلز پارٹی نے اس تناظر میں بھاری سرمایہ لگایا، سینیٹ میں صادق سنجرانی کی چیئرمین شپ کیلئے راستہ ہموار کیا گیا حالانکہ رضا ربانی کے نام پر پارلیمنٹ کے اندر مسلم لیگ ن سمیت سبھی جماعتوں کا اتفاق تھا، یہاں مصلحتوں کا شکار رضا ربانی بھی رہے ہیں، بڑے سیاسی قد و قامت و احترام کے باوجود وہ آصف زرداری کے غیر جمہوری فیصلوں اور اسٹیبلشمنٹ سے ہمکاری پر نقد نہیں کر پائے۔

یہ میر حاصل بزنجو ہی تھے جنہوں نے 12 مارچ 2018ء کو زبان کھولی، جب صادق سنجرانی نے چیئرمین سینیٹ کا حلف اُٹھایا، اس وقت کہا ”آج عملی طور پر ثابت ہوا کہ بالادست طاقتیں پارلیمنٹ سے طاقتور ہیں اور پارلیمنٹ ہار چکی ہے اور کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھتے ہوئے اب شرم آتی ہے، رضا ربانی جیت جاتے تو یہ بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی کامیابی ہوتی، بالا دست طبقے نے ثابت کردیا کہ وہ پارلیمنٹ کو منڈی بنا سکتا ہے“۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سب کیلئے آصف علی زرداری قصور وار نہیں ہیں، جو آج جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے سب سے بڑے داعی بنے بیٹھے ہیں؟ ۔ سیاستدانوں کا ظاہر و باطن ایک ہو تب ہی حقیقی جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی ممکن ہو سکتی ہے