شیخ صاحب، وزارت خطرے میں ہے

April 16, 2019

پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن ، پاکستان اسٹیل ملز اور پاکستان ریلوے ایسے ادارے ہیں جنہیں بہترین منصوبہ بندی اور ایمانداری کے ساتھ چلایا جائے تو سب منافع بخش ثابت ہوں گے، لیکن اگر منصوبہ بندی ہی ناقص ہو تو یہی ادارے خسارے میں چلے جاتے ہیں۔ ریلوے کے وزیر شیخ رشید احمد بھی شاید اپنی ناقص منصوبہ بندی سے خسارہ بڑھانا چاہتے ہیں۔ شیخ رشید صاحب جس عجلت میں ٹرینوں کے افتتاح کرتے نظر آرہے ہیں اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’’وزارت خطرے میں ہے‘‘۔

گزشتہ سال 31 اکتوبر کو کراچی سے دھابیجی کیلئے ’’دھابیجی ایکسپریس ٹرین‘‘ کو بحال کیا گیا جس کا افتتاح صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کیا۔ ٹرین کی بحالی سے متعلق دعوے کیے گئے کہ ملازمت پیشہ افراد کےلیے یہ بڑی سہولت کا باعث ہوگی، ریلوے کو مالی خسارے سے نکالنے میں مدد دے گی وغیرہ وغیرہ ، لیکن منصوبہ بندی ناقص تھی اس لیے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور دھابیجی ایکسپریس کو محض 5 ماہ بعد ہی 10 اپریل 2019 کو بند کر دیا گیا۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق کرایہ اور مسافر انتہائی کم تھے جس کے باعث ٹرین کو بند کرنا پڑا، ٹرین کا کرایہ زیادہ سے زیادہ 70 روپے مختص کیا گیا تھا۔

ٹرین کی بندش پر کچھ سوالات جنم لیتے ہیں کہ ریلوے انتظامیہ کو اس بات کا اندازہ اتنی تاخیر سے کیوں ہوا کہ ٹرین فیول کی رقم بھی پوری نہیں کر پا رہی؟ ٹرین کی بحالی کے بعد کسی سینیئر افسر کو خیال بھی نہیں آیا کہ خود سفر کرکے مسافروں کی تعداد ہی دیکھ لے۔ خیال آیا بھی تو اس وقت آیا جب ادارے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوگیا۔

گزشتہ سال نومبر کے وسط میں صحافی دوستوں کے ہمراہ دھابیجی ایکسپریس ٹرین کا سفر کیا جس کا ایک مقصد ٹرین سے متعلق معلومات حاصل کرنا بھی تھا۔ یہ ٹرین کراچی سٹی اسٹیشن سے دھابیجی تک کا سفر ڈیڑھ گھنٹے میں طے کرتی تھی جبکہ کراچی کینٹ، ڈرگ روڈ، ملیر کالونی، لانڈھی جنکشن، بن قاسم اور مارشلنگ یارڈ پپری کے اسٹیشنز پر رکتی تھی۔ ٹرین میں6 بوگیاں لگائی گئی تھیں اور ہر بوگی میں70 سے زائد افراد باآسانی سفر کر سکتے تھے یعنی ٹرین میں تقریبا450 مسافروں کی گنجائش موجود تھی لیکن انتہائی کم کرایہ ہونے کے باوجود مسافروں کی تعداد عام دنوں میں50 تک بھی نہیں پہنچ پاتی تھی۔ البتہ چھٹی کے دنوں میں 150 سے200 تک افراد اس میں سفر کرتے جن میں ریلوے ملازمین بھی شامل تھے۔

ریلوے کے کیرج اینڈ ویگن ڈیپارٹمنٹ کے ملازم سے دوران گفتگو معلوم ہوا کہ دھابیجی ایکسپریس ٹرین کے روزانہ کے اخراجات تقریبا ایک لاکھ روپے ہیں مگر یہ ٹرین 15 ہزار روپے بھی نہیں کما پاتی۔ ملازم کو اس بات کا خدشہ بھی تھا کہ مسافروں کی کمی کے باعث یہ ٹرین بند نہ ہو جائے، کیونکہ یہ ٹرین بہت سے ملازمین کو سفر کی آسان سہولت فراہم کر رہی تھی۔

ٹرین سے ہونے والے مالی خسارے کا حساب لگایا جائے تو ماہانہ اخراجات 30 لاکھ روپے بنتے ہیں جبکہ ٹکٹ کی مدد میں حاصل ہونے والی رقم تقریبا ساڑھے 4 لاکھ بنتی ہے۔ یعنی ٹرین کے چلنے سے ماہانہ ساڑھے 25 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا اور اگر 5 ماہ کا حساب لگایا جائے تو نقصان کی رقم ایک کروڑ 25 لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ریلوے انتظامیہ اگر معاملے کا جائزہ آغاز میں لے لیتی تو شاید اتنا نقصان اٹھانا پڑتا اور نہ ہی محکمے کے خسارے میں اضافہ ہوتا۔

شیخ رشید صاحب نے ریلوے کی وزارت سنبھالنے کے بعد ٹرینوں کے افتتاح کا جو سلسلہ شروع کررکھا ہے، اس سے اندیشہ ہے کہ ادارے کا خسارہ بڑھتا جا رہا ہے اور اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ریلوے کا ادارہ کبھی بھی منافع بخش ادارہ نہیں بن سکے گا بلکہ ملکی خزانے پر مزید بوجھ بڑھے گا۔ وزیر ریلوے ہوش کے ناخن لیں اور ٹرینوں کے افتتاح سے قبل مکمل جائزہ لیں تاکہ ریلوے مزید خسارے کا شکار نہ ہو۔