اسلامی صدارتی نظام، فاقہ زدہ قوم کو طِفل تسلی

April 16, 2019

مجھے میرے ہینڈ سم وزیر اعظم نے ریاست مدینہ کا خواب دکھایا، مجھے روٹی ، کپڑا، مکان ، انصاف اور یکساں نظام تعلیم کالالچ دیا، میں اس معصومانہ انداز گفتگو سے مرعوب ہوتا چلا گیا، زبان کی سادگی اور آنکھوں کی چمک نے مجھے اپنے لیڈر کپتان کے کھلاڑیوں پر دھیان دینے کا موقع ہی نہیں دیا، میں باتوں کے حصار میں کھو سا گیا، مجھے اپنے کپتان کی زبان سے نکلتے ہر حرف پر یقین ہوتا چلا گیا۔ پھر وقت بدلا، میرےکپتان کی 22 سالہ جدوجہد کا ثمر مل گیا۔ کیپ ایبل سے الیکٹ ایبل تک کا سفر میرے کپتان نے کیسے طے کیا، میں نے اس پر دھیان نہیں دیا، مجھے تو بس ایک سبق پڑھایا گیا، نیچے لیڈر ٹھیک ہو تو سب ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ عوام نے میرے کپتان کے چنے گئے چند ہیروں کو منتخب کیا اور سیاسی منڈی میں ان کی قیمت کا انتظار کرنے لگے، میرا ملک جوہری طاقت ہے لیکن میرے دیس کے عوام جوہر شناس نہیں ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب میرا کپتان میدان میں اترا ایک ایک ہیرا زیرو ہوتا گیا۔ دعوؤں کے برعکس نتیجہ نکلتے ہی قوم کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اب مجھے ایک بات سننے کو مل رہی ہے کہ اکیلا کپتان کیا کرتا، باقی لوگ تو وہی پرانے ہیں۔ مجھے اب ان باتوں پر یقین نہیں رہا، کیوں کہ میرا بجلی اور گیس کا بل میری تنخواہ سے زیادہ آرہا ہے، میرے بچوں کا دودھ اور دوائی اوور ٹائم لگا کر بھی پوری نہیں ہورہی۔ اسی شش وپنج میں مبتلا تھا کہ یکا یک اسلامی صدارتی نظام کی بازگزشت سنائی دینے لگی۔ جی ہاں ایسا نظام میں جس میں میرا کپتان مطلق العنان ہوگا اور پھر سب اچھا ہوجائے گا۔

ایک لمحے کو میں سبحان اللہ کہنے ہی لگا تھا لیکن گذشتہ آٹھ ماہ ایک فلم کی مانند میرے سامنے گردش کرنے لگے۔ مجھے عمر بن عبد العزیز ؒ کی مثال دی گئی کہ جنہوں نے اپنی خلافت کے دوران انقلابی کام کئے، ہاں مجھے دفعتا یاد آیا کہ عمر بن عبد العزیزایک بار گھر آئے تو ان کی بیٹیوں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا، معلوم ہوا کہ گھر میں سالن نہیں تھا، اس لئے انہوں نے پیاز سے کھانا کھا لیا۔ لیکن اس ریاست مدینہ میں اڑھائی کروڑ کا مشاعرہ  کرایا جاتا ہے جبکہ پانچ پانچ ہزار کی شالیں تحفے میں دی جاتی ہیں۔ ہاں فرات کے کنارے بھوکے کتے کے مرنے کی مثالیں دی جاتی ہیں مگر سانحہ ساہیوال اور کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کی جانب نظر نہیں کی جاتی۔ ایک اور مثال عمر فاروق کی دی جاتی ہے، جنہوں نے اپنے بیٹے کو سزا دی لیکن یہاں اعظم سواتی کے کھیتوں میں گائے گھسنے پر معصوم بچوں کو لتاڑ دیا جاتا ہے۔ احتساب احتساب کی آوازیں گونج رہی ہیں مگر اپنے چہتوں کو بچانے کیلئے بھی کوششیں کی جاتی ہیں۔

خلیفہ وقت عوام کے سامنے خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہے مگر میرا کپتان تو خود اپنے لوگوں کو بچانے کیلئے کوشاں ہے۔ وزیر اعظم کے وژن، ان کی سنجیدگی اور اخلاص پر کوئی شک نہیں، لیکن قوم کو دعوؤں کی جگہ عملی اقدامات چاہیں۔ اب جبکہ حکومت مہنگائی پر قابو پونے، عوام کو ریلیف دینے اور نظام چلانے میں ناکام نظر آرہی ہے، ایسے حالات میں صدارتی نظام کا شوشہ چھوڑ کر اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹائی جا رہی ہے، ہمیں صدارتی ادوار کی ترقی کی مثالیں دی جا رہی ہیں، لیکن شاید یہ بھول رہے ہیں کہ اسی صدارتی نظام کی بدولت مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوا، اسی نظام نے ملک میں شدت پسندی کو فروغ دیا اور اسی نظام کی تازہ مثال دہشت گردی کی خلاف جنگ ہے، جس نے اس ملک میں ہزاروں شہریوں کی جانیں لے لیں، معاشی طور پر ہمیں دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا۔ اب جبکہ پارلیمانی نظام نے تاریخ میں پہلی بار مسلسل دو مدتیں پوری کیں اور اب اس کی بساط لپیٹنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ یاد رکھیں ! جب عوام کو سہولت دیں گے، ملک ترقی کرے گا، آپ کے وعدے پورے ہوں گے تو یہ قوم بار بار آپ کو موقعے دے گی، لیکن آپ کی ابتدائی چند ماہ کی کارکردگی دیکھ کر عوام آپ سے نالاں ہیں، وہ صدارتی نظام کا ساتھ کبھی بھی نہیں دے گی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صدارتی نظام کا راگ الاپنے کی بجائے عوام کو سہولیات دینے کی کوششیں کی جائیں، تاکہ مایوسی کا شکار اس عوام کی آنکھوں میں امید کی دئیے روشن ہوں۔